کیا نواز شریف نے واقعی مفاہمت کی پیشکش کی ہے؟یا…


سابق وزیراعظم نواز شریف کی جانب سے ویڈیو لنک پر ایک حالیہ تقریر میں مشروط مفاہمت کی بات کیے جانے کے بعد سوشل میڈیا پر یہ بحث جاری ہے کہ کیا انہوں نے بھی شہباز شریف جیسا مفاہمتی بیانیہ اپنانے کا فیصلہ کر لیا ہے؟ پارٹی کے مزاحمتی دھڑے سے تعلق رکھنے والی قیادت کا کہنا ہے کہ ایسی کوئی بات نہیں اور نواز شریف بدستور اپنے اسٹیبلشمنٹ مخالف بیانیے پر ڈٹ کر کھڑے ہیں۔
انکے مطابق نواز شریف نے واضح انداز میں کہا ہے کہ اگر مفاہمتی پالیسی کے ذریعے ملک میں قانون کی بالادستی قائم ہوتی ہے تو پھر انہیں اسٹیبلشمنٹ کے ساتھ عداوت کی ضرورت نہیں پڑے گی۔ لیگی قیادت کے مطابق نواز شریف نے مفاہمت کی بات مشروط انداز میں کی تھی اور یہ کہا تھا کہ اگر ملک سے کھلواڑ کرنے والی قوتیں آئندہ آئین کی پامالی نہ کرنے، دھاندلی سے حکومت نہ بنوانے اور عوام کے منتخب وزیراعظم اور اسکی حکومت برطرف نہ کرنے کی یقین دہانی کروا دیں تو مفاہمت ہو سکتی ہے۔
نواز لیگ کے مزاحمتی دھڑے سے تعلق رکھنے والی قیادت نے یاد دلایا کہ اس تقریر کے بعد بھی نواز شریف مسلسل اپنا اسٹیبلشمنٹ مخالف بیانیہ دہرا رہے ہیں۔ 27 ستمبر کو پارٹی کی راولپنڈی تنظیم کے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے نواز شریف نے کہا تھا کہ ہمیں لندن کی عدالت سے اس لئے انصاف مل گیا ہے کہ اسے پاکستان کی طرح ایجنسیوں کے کرنل نہیں چلاتے۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ پاکستان کی موجودہ ابتر صورتحال کے ذمہ دار سلیکٹرز اور سلیکٹڈ ہیں جو جلد اپنے انجام سے دوچار ہونے والے ہیں۔
اس سے ایک روز پہلے پارٹی کے ساہیوال ڈویژن اجلاس میں ویڈیو کے لنک کے ذریعے خطاب میں نواز شریف نے کہا تھا کہ ‘ہم غیر ضروری طور پر لڑائی نہیں کرنا چاہتے، اگر مفاہمت کے ذریعے آئین اور قانون کی بالادستی قائم ہوتی ہے تو لڑائی کی ضرورت نہیں ہوگی، میری لڑنے کی نیت نہیں تھی لیکن مجھے اس راستے پر چلنے کے لیے مجبور کیا گیا۔ نواز شریف نے واضح کیا کہ جب سے شہباز شریف پارٹی میں مفاہمت کے بیانیے کی وکالت کر رہے ہیں، وہ بھی اپنے چھوٹے بھائی کی خواہش کی نفی نہیں کرتے، بشرطیکہ مفاہمت کے نتیجے میں ملک میں قانون کی حکمرانی قائم ہو جائے۔
یاد رہے کہ اسوقت مسلم لیگ میں دو بیانیوں کے حوالے سے کافی بحث ہو رہی ہے، ایک نواز شریف کا اسٹیبلشمنٹ کے خلاف مزاحمت کا بیانیہ ہے جبکہ دوسرا شہباز شریف کا مفاہمت کا بیانیہ ہے۔ پارٹی کے اکثر رہنما نواز شریف کے بیانیے کی حمایت کرتے ہوئے شہباز شریف کی حمایت کرنے والوں کو شرمندہ کرتے ہیں۔حال ہی میں شہباز شریف اور پارٹی کے چند دیگر رہنماؤں پر بالواسطہ تنقید کرنے اور انہیں شرمندہ کرنے پر (ن) لیگ کی جانب سے شیخوپورا کے رکن قومی اسمبلی جاوید لطیف کو شوکاز نوٹس جاری کیا گیا تھا، جاوید لطیف نے الزام لگایا تھا کہ یہ لوگ اسٹیبلشمنٹ کے ‘اسائمنٹ’ پر کام کر رہے ہیں۔ نواز شریف کی جانب سے مفاہمت کی پیشکش پر تبصرہ کرتے ہوئے ایک سینئر مسلم لیگی رہنما نے بتایا کہ میاں صاحب کے بیان میں اسٹیبلشمنٹ کے لیے پیغام ہے کہ اگر یقین دہانی کرائی جائے کہ آئندہ عام انتخابات آزاد اور منصفانہ ہوں گے اور جو بھی منتخب ہوگا اسے بغیر کسی مداخلت کے کام کرنے کی اجازت دی جائے گی تو لندن سے ایک سال قبل اسٹیبلشمنٹ کے خلاف جو لڑائی انہوں نے شروع کی تھی وہ ختم ہوجائے گی۔ یاد رہے کہ مفاہمت کی پیشکش کرنے کے بعد اپنی اسی تقریر کے دوران نواز شریف نے الیکشن 2018 میں ہونے والی دھاندلی کی شدید الفاظ میں مذمت کی اور اداروں کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا کہ الیکشن ‘چوری’ کرنے کے لیے رزلٹ ٹرانسمیشن سسٹم کو جان بوجھ کر بٹھایا گیا، سیاست دانوں کو وفاداریاں تبدیل کرنے پر مجبور کیا گیا، عدلیہ کو کنٹرول کیا گیا اور میڈیا کا منہ بند کروایا گیا۔
نومبر 2019 سے علاج کے غرض سے لندن میں مقیم نواز شریف نے دعویٰ کیا کہ آج وزیر اعظم پاکستان کا عہدہ اتنا بدنام ہوچکا ہے کہ عزت نفس رکھنے والا کوئی شخص اس پر فائز نہیں ہونا چاہتا۔ انہوں نے کہا کہ ‘جو عوامی نمائندے عوام کی فلاح کے لیے جدوجہد کرتے ہیں انہیں ایک منٹ میں گھر بھیج دیا جاتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ جو لوگ میرا سیاسی کریئر ختم کرنے کی خواہش رکھتے ہیں انہیں یہ احساس ہونا چاہیے کہ وہ ناکام ہو چکے ہیں۔ نواز شریف نے وزیر اعظم عمران خان کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا کہ ان کی خراب معاشی پالیسیوں کی وجہ مہنگائی اور قیمتوں میں اضافہ عروج پر ہے جس سے عوام کی جینا اجیرن ہوچکا ہے، انہوں نے کہا کہ آج کا وزیر اعظم کنٹینر پر کھڑے ہوکر کرپشن کے خلاف لیکچر دیتا تھا اور آج یہ خود کرپٹ لوگوں کے درمیان گھرا ہوا ہے۔انہوں نے کہا کہ اس شخص نے پاک چین اقتصادی راہداری منصوبے کے لیے عاصم سلیم باجوہ جیسے کرپٹ افراد کا تقرر کیا جس کے نتیجے میں سارا پراجیکٹ ہی ڈوب چکا ہے۔ان کا کہنا تھا کہ موجودہ حکومت میں روپے کی قدر میں ڈالر کے مقابلے 64 روپے کی کمی آئی ہے جس سے ظاہر ہوتا ہے کہ وزیر اعظم، کرپشن کے اپنے معیار کے مطابق کتنے کرپٹ ہیں۔

Back to top button