کیا واقعی کپتان اپوزیشن سے زیادہ خود فوج کو بدنام کر رہے ہیں؟

وزیراعظم عمران خان کی جانب سے آئے دن فوج کے حوالے سے غیر ذمہ دارانہ بیانات سے اپوزیشن کے اس بیانیے کو تقویت مل رہی ہے کہ قومی سلامتی کے ذمہ دار اس اہم قومی ادارے کی ساکھ کو حزب مخالف سے زیادہ خود وزیراعظم نقصان پہنچا رہے ہیں۔
ابھی نہ تو اپوزیشن نے اسلام آباد کی طرف نہ لانگ مارچ شروع کیا ہے اور نہ ہی اپنے استعفے اسپیکر کو بھجوائے ہیں۔ لیکن وزیراعظم نے پہلے ہی دل دہلا دینے والی باتیں شروع کر دی ہیں۔ چکوال میں ایک یونیورسٹی کا سنگِ بنیاد رکھنے کی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے وزیراعظم عمران خان نے کچھ ایسی باتیں کی ہیں جو اِس سے پہلے کسی وزیر اعظم کی زبان سے نہیں سنی گئی ہوں گی۔ عمران نے دعویٰ کیا کہ اپوزیشن چاہتی ہے کہ فوج میرا تختہ اُلٹ دے اور اگر ایسا نہیں ہوتا تو آرمی چیف کو ہٹا دے۔ وزیراعظم نے یہ بھی فرمایا کہ اپوزیشن کو این آر او دینا غداری ہوگی۔
سینئر صحافی اور تجزیہ کار حامد میر اس تقریر پر تبصرہ کرتے ہوئے کہتے ہیں کہ کوئی مانے یا نہ مانے لیکن چکوال میں کی جانے والی یہ تقریر سال 2020کی خطرناک ترین تقریر تھی جو کہ بہت کچھ سوچنے کی دعوت دے رہی ہے۔ وہ کہتے ہیں کہ میں نے اُردو اور انگریزی اخبارات میں اِس تقریر کو بار بار غور سے پڑھا اور یہ یاد کرنے کی کوشش کی کہ پاکستان ڈیموکریٹک موومنٹ میں شامل جماعتوں کے رہنماؤں نے کون سے جلسے یا پریس کانفرنس میں فوج کو موجودہ حکومت کا تختہ اُلٹنے کی دعوت دی؟ یہ درست ہے کہ سابق وزیراعظم نواز شریف نے لندن سے وڈیو لنک پر کی جانے والی تقریروں میں آرمی چیف اور ڈی جی آئی ایس آئی پر تنقید کی تھی لیکن یہ تنقید 2018 کے الیکشن میں مبینہ مداخلت کے حوالے سے تھی اور اپنی کسی بھی تقریر میں نواز شریف نے فوج کو یہ نہیں کہا کہ عمران خان کا تختہ اُلٹ دو اور اگر آرمی چیف ایسا نہیں کرتے تو اُنہیں اُن کے عہدے سے ہٹا دیا جائے۔
حامد میر کا کہنا ہے کہ نواز شریف کے علاوہ مولانا فضل الرحمٰن، مریم نواز، بلاول بھٹو زرداری، اختر مینگل اور دیگر رہنماؤں نے بھی اگر تنقید کی کہ تو وہ سیاست میں مداخلت کے بارے میں تھی۔ وہ کہتے ہیں کہ پی ڈی ایم کے جلسوں میں ووٹ کو عزت دو کے نعرے لگتے ہیں لہذا جو لوگ ووٹ کو عزت دو کے نعرے لگا رہے ہیں وہ فوج کو سیاست میں مداخلت کی دعوت کیسے دے سکتے ہیں؟ سینئیر صحافی کہتے ہیں کہ چکوال میں عمران خان نے اپوزیشن پر جو الزام لگایا ہے اُسے اتنی آسانی سے نظر انداز نہیں کیا جا سکتا۔
اگر واقعی اپوزیشن کے کسی رہنما نے جلسے میں تقریر یا پریس کانفرنس کے علاوہ کسی اور طریقے سے فوج کو منتخب حکومت کے خلاف بھڑکانے کی کوشش کی ہے تو قوم کو تفصیلات سے آگاہ کیا جائے۔ ہو سکتا ہے اپوزیشن کے کسی رہنما نے کسی فوجی افسر کو کوئی خفیہ خط لکھا ہو۔
ویسا ہی خط جیسا 25؍اپریل 1977کو ایئر مارشل ریٹائرڈ اصغر خان نے فوجی افسران کو لکھا تھا اور کہا تھا کہ بھٹو حکومت کے غیرقانونی احکامات پر عملدرآمد نہ کیا جائے۔ یہ بھی ممکن ہے کہ وزیراعظم کے اردگرد ایسے افراد موجود ہوں جو اُنہیں غلط اطلاعات پہنچا رہے ہیں یا اُنہیں غلط مشورے دے رہے ہیں۔ جب وزیراعظم یہ کہتے ہیں کہ اپوزیشن کو این آر او دینا غداری ہوگی تو یہ سوال پیدا ہوتا ہے کہ اپوزیشن کو این آر او کون دے سکتا ہے؟
حامد میر کہتے ہیں کہ کچھ لوگوں کے خیال میں تو نواز شریف ایک خاموش این آر او کے ذریعہ بیرون ملک گئے تھے اور واپس نہیں آئے حالانکہ حقیقت بالکل مختلف ہے۔ نواز شریف کو عدالت نے چند ہفتوں کے لئے علاج کی غرض سے بیرون ملک جانے کی اجازت دی تھی لیکن اُسے حکومت کی اجازت سے مشروط کیا تھا۔
نواز شریف کو بیرون ملک بھیجنے کی منظوری عمران خان کی کابینہ نے دی تھی۔ نواز شریف کئی ماہ تک واپس نہ آئے تو عدالت نے اُنہیں اشتہاری قرار دے دیا لہٰذا یہ طے ہے کہ نہ تو کوئی عدالت، نہ وزیراعظم نہ کوئی اور کسی کو این آر او نہیں دے سکتا۔ پھر وزیراعظم بار بار یہ کیوں کہتے ہیں کہ میں این آر او نہیں دوں گا؟
حامد میر کا مزید کہنا ہے کہ وزیر اعظم اپوزیشن پر جائز تنقید ضرور کریں لیکن اپنے بیانات سے یہ تاثر قائم نہ کریں کہ وہ فوج اور اپوزیشن کو ایک دوسرے کے مدِمقابل لانا چاہتے ہیں۔ اس صورتحال میں اپوزیشن کا جو رہنما فوج پر بحیثیت ادارہ حملہ کرے گا وہ دراصل عمران خان کے ایجنڈے کی تکمیل کرے گا۔ وزیراعظم کا کام قومی اداروں کو بچانا ہے، اُنہیں اپنے سیاسی مفادات کی بھینٹ چڑھانا نہیں۔ لہذا عمران خان نے چکوال میں جو دعوے کئے اُن کے ثبوت سامنے لائے جائیں، اگر وہ ثبوت سامنے نہیں لاتے تو وہ آئین کی دفعہ 62اور 63کی خلاف ورزی کے مرتکب ہو رہے ہیں۔ حامد میر کہتے ہیں کہ اگر عمران خان وہ ثبوت سامنے لے آتے ہیں تو ہم اُنہیں یقین دلاتے ہیں کہ جمہوریت کے خلاف سازش کرنے والے اپوزیشن رہنماؤں کی نہ صرف مذمت کریں گے بلکہ اُن کے خلاف قانونی کارروائی کا مطالبہ بھی کریں گے۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button