مریم نواز کا سخت بیانیہ اسٹیبلشمنٹ کے لیے بڑا دردسر بن گیا


ہر گزرتے دن کے ساتھ مریم نواز کا سخت ہوتا ہوا سیاسی بیانیہ اور ان کا بڑھتا ہوا سیاسی قد اب وزیراعظم عمران خان سے زیادہ پاکستانی فوجی قیادت کے لئے ایک درد سر بنتا جا رہا ہے جسے میاں نواز شریف کی سیاسی وارث آڑے ہاتھوں لے رہے ہیں۔ اپوزیشن کے جلسوں میں مریم نواز عمران خان کو تو تنقید کا نشانہ بناتی ہی ہیں لیکن انکے سلیکٹرز کو بھی مانجا لگانا نہیں بھولتیں۔
بے نظیر بھٹو شہید کی برسی پر بھی اپنے خطاب میں مریم نواز نے عمران خان سے کہیں زیادہ ان کے لانے والوں یعنی سلیکٹرز کو آڑے ہاتھوں لیا جو بقول مریم اب عمران خان سے آہستہ آہستہ فاصلہ اختیار کر رہے ہیں۔ مولانا فضل الرحمن بھی حال ہی میں کہہ چکے ہیں کہ اسٹیبلشمنٹ اب انہیں کہہ رہی ہے کہ ہماری جان چھوڑ دو اور اس پر تنقید کرو جس سے لڑائی ہے، ہمیں بیچ میں مت لاو۔ ابھی تک کسی فوجی ترجمان نے ان دونوں بیانات کی تردید نہیں کی ہے اور نہ ہی کوئی ردعمل دیا ہے حالانکہ اب سیاسی معاملات پر فوجی ترجمان کی بیان بازی ایک روٹین کا معاملہ بن چکی ہے۔
دوسری طرف عمران خان کی مسلسل یہی کوشش ہے کہ وہ اپوزیشن کو یہی تاثر دیں کہ فوج اور ان کی حکومت ایک ہی صفحے پر ہے۔ لیکن سوال یہ بھی ہے کہ وزیراعظم کو بار بار یہ بات کرنے کی ضرورت کیوں پیش آتی ہے۔ بظاہر تو فوج اور حکومت ہمیشہ ایک ہی صفحہ پر ہوتے ہیں اور فوجی ترجمان بھی کبھی وزیر اعظم کے ایسے بیان کی بیان کی تردید نہیں کرتا۔ لیکن یہ بھی ایک حقیقت ہے کہ جب یہ ایک صفحہ پھٹ کر دو حصوں میں تقسیم ہوتا ہے تو زیادہ دیر نہیں لگتی۔ شاید اسی خوف کے تحت وزیراعظم پچھلے ایک ماہ میں کم از کم 6 مرتبہ یہ بیان دے چکے ہیں کہ اپوزیشن فوج کو مجبور کر رہی ہے کہ وہ مجھے اقتدار سے بے دخل کر دے۔ ساتھ ہی وزیراعظم مسلسل یہ بھی کہے جا رہے ہیں کہ اپوزیشن کی تحریک کا مقصد این آر او حاصل کرنا ہے اور اگر کسی نے اپوزیشن کو این آر او دیا تو وہ ملک سے غداری کا مرتکب ہوگا۔ یعنی عمران خان کو خدشہ ہے کہ اسٹیبلشمنٹ اپوزیشن کے ساتھ کوئی ڈیل کر سکتی ہے اس لئے وہ ایسی کسی ڈیل کا راستہ روکنے کے لئے غداری کا الزام عائد کر رہے ہیں۔
سیاسی تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ اپوزیشن کی قیادت بڑی وضاحت سے یہ بات بار بار کہہ چکی ہے کہ ان کی تحریک عمران کے خلاف نہیں بلکہ اس کو اقتدار میں لانے والوں کے خلاف ہے۔ اسی لیے آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ اور آئی ایس آئی کے سربراہ لیفٹیننٹ جنرل فیض حمید مسلسل اپوزیشن کے نشانے پر ہیں۔ ان حالات میں اگر سلیکٹرز نے اپوزیشن سے اپنا گریباں چھڑوانا یے تو اسکا ایک ہی طریقہ ہے اور وہ یے کپتان سے چھٹکارا۔ دوسرے لفظوں میں اگر فوجی اسٹیبلشمنٹ اپنے کاندھوں کا بوجھ اتارنے کا فیصلہ کرے تو اس کا آسان ترین حال یہ ہے کہ اپوزیشن کی حکومت مخالف تحریک کو کامیاب ہونے دیا جائے اور اسمبلی میں وزیر اعظم کے خلاف عدم اعتماد ہو جائے۔ دوسری طرف یی اطلاع بھینیے کہ عمران کو لانے والے "ان ہاوس تبدیلی” جیسے درمیانی راستہ نکالنے کے لیے تیار ہو چکے ہیں لیکن نواز شریف اور مولانا فضل الرحمان نئے الیکشن کے سوا کسی حل پر راضی نہیں۔
تاہم ان حالات میں بھی مریم نے ابھی تک ریس سے پاؤں نہیں ہٹایا اور اسٹیبلشمنٹ پر ان کے کاری وار جاری ہیں۔ اس بات کو ناقدین بھی تسلیم کرتے ہیں کہ مریم نواز پی ڈی ایم کے پلیٹ فارم سے زبردست پرفارم کر رہی ہیں۔ مریم نواز کی گھڑی خدا بخش کی تقریر بھی کچھ ایسی ہی تھی جس کو سننے کے بعد سلیکٹرز کو یا تو کوئی راستہ نکالنا پڑے گا یا پھر مریم نواز سمیت پی ڈی ایم کی مرکزی قیادت میں دراڑیں ڈالنی پڑیں گی۔ مریم نے اپنی 27 دسمبر کی دھواں دھار تقریر میں کہا کہ جب 2008 میں پیپلز پارٹی اقتدار میں آئی تو نواز شریف نے پارٹی کو بھی صاف صاف بتا دیا تھا کہ وہ حکومت گرانے کی کسی سازش کا حصہ نہیں بنیں گے۔ لہذا جب جمہوری حکومتوں نے پانچ پانچ سال پورے کرنے شروع کیے تو ساری جماعتوں کا سیاسی کوڑا کرکٹ اکھٹا کر کے جنرل پاشا نے ایک جماعت بنائی جس کا نام ہے تحریک انصاف۔ پھر اس جماعت کو منتخب حکومت کے خلاف دھرنوں میں استعمال کیا گیا۔ 22 سال در بدر کی ٹھوکریں کھانے والے کو اٹھا کر 22 کروڑ عوام کے سروں پر مسلط کر دیا گیا۔ اور آج وہی عمران خان خود چیخ چیخ کر کہہ رہا ہے کہ وہ نا اہل اور نالائق ہے اور یہ کہ تیاری کے بغیر حکومت میں نہیں آنا چائیے۔
مریم نواز نے فوجی جرنیلوں کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا کہا کہ ’کوئی ملک توڑے تو بھی معصوم، کوئی آئین توڑے تو بھی معصوم، کوئی سیاچن کھوئے تو بھی معصوم، کوئی کشمیر کا سودا کرے تو بھی معصوم، کوئی حلف توڑ کر سیاست کرے تو بھی معصوم، کوئی مخالفین کو جیل میں ڈالے اور موت تک پہنچائے تو بھی معصوم۔ ’کوئی سرکاری ملازم ہو کر بھی اربوں کھربوں بنائے تب بھی معصوم۔‘ اس کے بعد انھوں نے کہا کہ گولیاں سیاستدانوں کے سینے میں اتریں، جیل کی کال کوٹھڑیوں میں سیاستدان، ان کی بہنوں اور بیٹوں کو گھسیٹا جائے، کردار کشی ہو تو سیاستدانوں کی ہو، لیکن ایک بست یاد رکھو کہ کبھی کسی نظریے کو پھانسی نہیں لگ سکتی۔ انھوں نے کہا کہ تمام تر مظالم کے باوجود پاکستان کے کونے کونے میں نواز شریف اور بے نظیر بھٹو کے نام لیوا موجود ہیں۔
مریم نواز نے کہا کہ آئین کے قاتل اور بے نظیر کے قاتل پرویز مشرف کو پاکستان واپس لانے کی بات تک نہیں ہوتی۔۔ مشرف کو پھانسی کی سزا سنانے والی عدالت کو ہی پھانسی چڑھا دیا گیا۔ انہوں نے عمران کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہا کہ اپوزیشن مہنگائی کی بات کرتی ہے تو تم کہتے ہو کہ اپوزیشن فوج کو بدنام کر رہی ہے۔ لیکن سچ تو یہ ہے کہ عمران نے خود انڈیا جا کر فوج اور آئی ایس آئی کے خلاف بات کی تھی۔ جب یہ امریکہ گیا تو اپنی فوج اور آئی ایس آئی پر حملے کیے ہیں۔ مریم نے کہا کہ ’آج یہ مت کہو کہ اپوزیشن فوج کے خلاف بات کرتی ہے، عوام کے پاس وہ ویڈیوز موجود ہیں جس میں تم نے فوج کو بدنام کیا۔’ مریم کا کہنا تھا کہ ایک پیج، ایک پیج کی رٹ لگا کر جتنا تم نے فوج کو بدنام کیا شاید ہی کسی نے کیا ہو۔
مریم نے عمران کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ تم زیادہ سیانے بننے کی کوشش نہ کرو۔ فوج پر تنقید تب ہوتی ہے جب تمھاری نالائقی کا بوجھ فوج پر پڑتا ہے۔ فوج پر تنقید تب ہوتی ہے جب تم اپنے سیاسی مخالفین کو جیل میں ڈالنے کے لیے فوج کا نام لیتے ہو۔ فوج پر تنقید تب ہوتی ہے جب تم ہمارے کشمیر کو مودی کی گود میں ڈالتے ہو۔ مریم نواز نے کہا ہم فوج سے یہ نہیں کہہ رہے کہ تمھاری حکومت گرائے بلکہ ہم سیلیکٹرز کو صرف یہ کہہ رہے ہیں کہ پیچھے ہٹ جاؤ، پھر پاکستان کی عوام جانیں، ہم جانیں اور عمران خان جانیں۔
اب دیکھنا یہ ہے کہ پاکستانی فوجی اسٹیبلشمنٹ اپوزیشن کے اس مطالبے پر کان دھر تی ہے یا نہیں؟۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button