کیا پاکستان جنگل کے قانون سے نجات حاصل کر پائے گا؟

سینئر صحافی اور تجزیہ نگار حامد میر نے کہا ہے کہ مسلم لیگ ن، پیپلز پارٹی اور تحریک انصاف کی آپس کی دشمنیوں نے آئین و قانون کو ایک مذاق بنا دیا ہے۔ ایسا لگتا ہے کہ پاکستان میں جنگل کا قانون نافذ ہے جہاں انسانوں پر ظلم جائز ہے اور بھیڑیوں کو چیرنے اور پھاڑنے کی کھلی آزادی ہے لہذا جنگل کے قانون سے نجات میں ہی پاکستان کی نجات ہے۔
اپنی تازہ تحریر میں حامد میر بزرگ صحافی الطاف حسن قریشی کی تصنیف ’’مشرقی پاکستان.. ایک ٹوٹا ہوا تارا‘‘ کے حوالے سے بتاتے ہیں کہ یہ کتاب مشرقی پاکستان کے بارے میں ہے جو نصف صدی قبل بنگلہ دیش بن گیا۔ انکے بقول مجھے یہ کتاب پڑھتے ہوئے بار بار احساس ہوا کہ نصف صدی قبل کے کئی کردار اپنا نام بدل کر دوبارہ سرگرم ہو چکے ہیں اور کئی واقعات دوبارہ دہرائے جا رہے ہیں۔ کتاب کے صفحہ نمبر 1115 پر ’’جنگل کا قانون ‘‘ جن الفاظ میں میرے سامنے تھا وہ کچھ یوں ہیں: ’’ہمارے مسائل جنگل کی آگ کی طرح پھیلتے جا رہے ہیں۔ جنگل میں چند بھیڑیئے ہیں جنہوں نے خود کو زبردستی ڈپلومیٹ بنا لیا ہے۔ یوں آتے ہیں جیسے کوئی مہربان آیا ہو، یوں جاتے ہیں جیسے کوئی غم خوار جا رہا ہو لیکن انکی نظریں ہوس ناکیوں سے پر ہیں ۔اب وہ چیرتے پھاڑتے نہیں سائنٹفک طریقوں سے خون پی جاتے ہیں، افکار کا رس چوس جاتے ہیں، سنا ہے بھیڑیوں کے سردار سے جنگل کے بادشاہ کا سمجھوتہ ہو گیا ہے۔ جنگل میں سانپ بھی ہیں، بستیوں میں بھی سانپ ہیں اور بعض آستینوں میں بھی سانپ ہیں۔ سانپ کو مارا بھی نہیں جا سکتا کیونکہ سانپ کو مارنا جنگل کے قانون میں ایک سنگین جرم ہے۔ ہم نے خیالات کے جنگل میں ہوائی قلعے تعمیر کر لئے ہیں اور وہاں سے ہوائیاں اڑا رہے ہیں۔یہ الگ بات ہے کہ ہمارے چہروں پر بھی ہوائیاں اڑ رہی ہیں مگر چہرے کو خوش نظر رکھنے کیلئے ہم نے پلاسٹک کے چہرے حاصل کرلئے ہیں۔ اب پلاسٹک کی زبان سے پلاسٹک کی باتیں ہوا کریں گی اور ہمارے وعدے بھی پلاسٹک کے ہونگے انہی وعدوں کے سہارے ہماری زندگی کو استحکام اور دوام حاصل ہو گا‘‘۔
حامد میر کے مطابق یہ الفاظ 1970ء کے پاکستان کے بارے میں لکھے گئے تھے جو ابھی دولخت نہیں ہوا تھا لیکن افسوس کہ یہ الفاظ 2023ء کے پاکستان پر بھی صادق آ رہے ہیں۔ حامد میر الطاف قریشی کی کتاب میں موجود مئی 1970ء کی تحریر کے حوالے سے بتاتے ہیں جس میں مسلسل اس بحران کے بارے میں خبردار کیا گیا جس نے دسمبر 1971ء میں قائد اعظم ؒکا پاکستان توڑ دیا اور میں سوچ رہا تھا کہ حکمران طبقہ 1970ء میں بھی بے حس تھا اور 2023ء میں بھی وہی بے حسی دکھا رہا ہے۔ انکے بقول میں نے پریشان دل کے ساتھ ٹی وی آن کیا تو سکرین پر بریکنگ نیوز چل رہی تھی کہ تحریک انصاف کے رہنما فواد چودھری کو لاہور سے گرفتار کر لیا گیا ہے۔ فواد چودھری کو الیکشن کمیشن آف پاکستان کی شان میں گستاخی کرنے پر گرفتار کیاگیا۔ انہیں ہتھکڑی لگا کر لاہور کی کینٹ کچہری میں پیش کیا گیا۔ یہ منظر دیکھ کر مجھے عمران خان کا دور حکومت یاد آگیا جب عرفان صدیقی صاحب کو ہتھکڑیاں لگا کر عدالت میں پیش کیا گیا اور جج صاحبہ نے انہیں سنے بغیر ہی اڈیالہ جیل بھیج دیا ۔ فواد چودھری نے جو الفاظ الیکشن کمیشن کے بارے میں استعمال کئے ان سے زیادہ سخت الفاظ تو عمران خان استعمال کر چکے ہیں۔ عمران ایک طرف فوری انتخابات کا مطالبہ کر رہے ہیں دوسری طرف الیکشن کمیشن کو برا بھلا کہہ رہے ہیں۔اس کا مطلب یہ ہے کہ انتخابات میں انہیں دو تہائی اکثریت نہ ملی تو وہ انتخابی نتائج تسلیم نہیں کریں گے۔ عمران خان کے خلاف الیکشن کمیشن کی توہین کے معاملے پر کارروائی ابھی چل رہی ہے ۔اس مقدمے میں فواد چودھری اور اسد عمر بھی شریک ملزم ہیں، اس مقدمے میں تینوں کے خلاف کارروائی کی جاتی تو قابل فہم تھی لیکن صرف فواد چودھری کے خلاف کارروائی سے سیاسی انتقام کی بو آتی ہے ۔شہباز شریف کی حکومت سیاسی مخالفین کے خلاف وہی کچھ کر رہی ہے جو عمران خان کی حکومت اپنے سیاسی مخالفین کے خلاف کرتی تھی ۔سیاسی اختلاف کو ذاتی دشمنیوں میں تبدیل کر دیا گیا ہے۔
نصف صدی قبل بھی یہی حالات تھے۔ الطاف حسن قریشی صاحب کی پرانی تحریروں میں جہاں پاکستان کیلئے بہت درد نظر آتا ہے وہاں یہ بھی پتہ چلتا ہے کہ 1970ء میں بھی سیاسی اختلاف کو کفرو اسلام کی جنگ بنا دیا گیا تھا۔ایک جگہ پر انہوں نے پاکستان کے دشمنوں کی نشاندہی کی ہے اور انہیں بیرونی طاقتوں کا ایجنٹ قرار دیا ہے ۔آگے چل کر عوامی لیگ، نیپ بھاشانی گروپ، نیپ ولی خان گروپ، پیپلزپارٹی ،جی ایم سید گروپ اور کانگریسی علما کو پاکستان کے دشمن قرار دے دیا گیا۔ جن جماعتوں کو الطاف حسن قریشی پاکستان کا دشمن سمجھتے تھے 1970ء کے انتخابات میں پاکستان کے عوام نے ان جماعتوں پر بھرپور اعتماد کا اظہار کیا۔مشرقی پاکستان میں عوامی لیگ جیت گئی سندھ اور پنجاب میں پیپلز پارٹی کو اکثریت ملی، خیبر پختونخوا اور بلوچستان میں نیپ اور جے یو آئی کو اکثریت ملی۔
حامد میر کے بقول 1970ء میں ہمارے بزرگ ایک دوسرے کو غدار اور کافر قرار دے رہے تھے اور 2023ء میں ہم بھی ایک دوسرے پر غداری کے الزامات لگا رہے ہیں۔ غداری کے الزامات اور سیاسی مخالفین کو جیلوں میں پھینکنے سے نصف صدی قبل پاکستان نے جو نقصان اٹھایا تھا آج اس سے سبق سیکھنے کی ضرورت ہے ۔یہ سبق صرف شہباز شریف کو نہیں عمران خان کو بھی سیکھنا ہے ۔عمران نے اپنی ضد اور ہٹ دھرمی سے پہلے قومی اسمبلی سے استعفے دیئے پھر پنجاب اور خیبر پختونخوا کی اسمبلیاں تحلیل کر دیں۔ حالات و واقعات نے ثابت کیا کہ ان کے دونوں فیصلے غلط تھے اور جب انہوں نے قومی اسمبلی میں واپسی کا ارادہ کیا تو سپیکر قومی اسمبلی نے ان کے استعفے قبول کرلئے سپیکر نےبھی ہٹ دھرمی دکھائی۔ ان حالات میں حامدمیر سیاسی جماعتوں کو مشورہ دیتے ہوئے کہتے ہیں کہ معاملات کی نزاکت کا احساس کریں۔ سیاسی جماعتوں کی آپسی لڑائیوں نے آئین اور قانون کو ایک مذاق بنا کر رکھ دیا ہے، ایسا لگتا ہے کہ پاکستان میں جنگل کا قانون نافذ ہے جہاں انسانوں پر ظلم جائز ہے اور بھیڑیوں کو چیر پھاڑ کرنے کی کھلی آزادی ہے لہذا اس بات کو سمجھنا چاہیے کہ جنگل کے قانون سے نجات میں ہی پاکستان کی نجات ہے۔
