عمران نے بشریٰ بی بی کی بیٹی سے شادی سے انکار کیوں کیا؟

معروف اینکر پرسن اور تجزیہ کار جاوید چوہدری نے انکشاف کیا ہے کہ عمران خان نے اپنی دوسری اہلیہ ریحام خان کو بشری ٰبی بی سے مشورے کے بعد طلاق دی تھی اور بعد میں انہی سے خفیہ نکاح کرلیا۔ ان کا کہنا ہے کہ اس سے پہلے بشریٰ بی بی نے عمران کو اپنی چھوٹی بیٹی سے شادی کرنے کا کہا تھا جو کہ طلاق یافتہ تھی، لیکن خان صاحب کا موقف تھا کہ وہ 25 برس کی ہے اور عمر میں مجھ سے بہت ہی چھوٹی ہے۔ جاوید چوہدری نے یہ انکشاف بھی کیا کہ بشریٰ بی بی حق مہر میں عمران کا بنی گالا والا محل اپنے نام کروانا چاہتی تھیں لیکن پھر عون چوہدری کی مخالفت کے بعد زمان پارک والے گھر اور ایک سات کنال کے پلاٹ پر اتفاق ہوا۔
اپنی تازہ تحریر میں جاوید چوہدری بتاتے ہیں کہ عون چوہدری 2010 سے 2018 تک سائے کی طرح عمران خان کے ساتھ رہے‘ یہ رات کے وقت انھیں ملنے والے آخری اور صبح ملاقات کے لیے آنے والے پہلے شخص ہوتے تھے۔چنانچہ یہ عمران خان کی زندگی کے اہم ترین دور کے اہم ترین شاہد ہیں‘ وہ بتاتے ہیں کہ مجھے چند دن قبل عون چوہدری نے اپنے گھر پر ناشتے کی دعوت دی‘ میں دو گھنٹے ان کے ساتھ بیٹھا رہا اور میں نے ان سے جو پوچھا انھوں نے مجھے وہ بلا جھجک بتا دیا۔ میں نے سب سے پہلے ان سے ریحام خان کے بارے میں پوچھا ’’ ان کا کہنا تھا ’’ریحام خان سے عمران خان کا رابطہ دھرنے کے دوران ہوا تھا‘ یہ انٹرویوز کے لیے کنٹینر پر آتی تھی اور یہ رابطہ آہستہ آہستہ اس تعلق میں تبدیل ہو گیا جس کا اختتام شادی کی شکل میں ہوا‘‘ میں نے پوچھا ’’کیا یہ نکاح 10 محرم کو ہوا تھا؟‘‘ یہ بولے ’’یہ خبر غلط ہے۔ ریحام سے عمران خان کا نکاح 5 محرم کو ہوا تھا اور ہم نے یہ خفیہ رکھا تھا‘ ریحام خان نے نکاح پر کسی قسم کی کوئی شرط نہیں رکھی تھی‘ حق مہر بھی شرعی تھا‘‘۔
جاوید چوہدری کہتے ہیں کہ میں نے عون سے پوچھا کہ ’’نکاح کے بعد کیا ہوا؟‘‘ وہ بولے ’’ 16 دسمبر 2014 کو اے پی ایس پشاور کا واقعہ پیش آیا‘ ہمارا دھرنا ختم ہو گیا اور 8 جنوری 2015 کو ہم نے ریحام خان سے شادی ڈکلیئر کر دی۔ میڈیا نے اے پی ایس کے واقعے اور خان کی شادی کو ایک ساتھ چلا کر ہماری مت مار دی لیکن خان صاحب ان باتوں سے نہیں گھبراتے‘ ریحام خان بنی گالا آ گئی اور اس نے گھر سنبھال لیا لیکن پھر دونوں کے درمیان جھگڑے شروع ہو گئے۔ عمران خان آزاد انسان ہیں‘ وہ پابندیاں برداشت نہیں کرتے، جب کہ ریحام خان انھیں کنٹرول کرنا چاہتی تھیں، چنانچہ ٹکراؤ شروع ہو گیا‘ ہم اکتوبر 2015 میں گھوٹکی میں نادر لغاری کے گھر ٹھہرے ہوئے تھے‘ عمران نے وہ رات لان میں ٹہلتے ہوئے گزاری‘ میرا خیال ہے اس رات انھوں نے طلاق کا فیصلہ کر لیا تھا۔ وہ اگلے دن اسلام آباد چلے گئے اور میں بلدیاتی الیکشنز کے سلسلے میں لاہور آگیا‘ مجھے عمران خان کا فون آیا کہ ریحام لندن کب جا رہی ہے؟ ٹکٹس کا بندوبست میری ذمے داری ہوتی تھی‘ میں نے خان کے ساتھ ٹکٹ شیئر کر دیا‘ ریحام خان نے جوں ہی27 اکتوبر کو ٹیک آف کیا‘ خان صاحب نے اسے طلاق ای میل کر دی اور لندن میں لینڈ ہوتے ہی اسے طلاق مل گئی‘ یہ خبر پھیل گئی تو ہم 31 اکتوبر کے بلدیاتی الیکشنز میں بری طرح ہار گئے۔پنجاب کی خواتین نے ہمیں ووٹ ہی نہیں دیے۔
عون چوہدری بتاتے ہیں کہ میں یکم نومبر کو بنی گالا پہنچ گیا‘ عمران خان طلاق پر بہت زیادہ ڈسٹرب تھے‘ میں نے زندگی میں انھیں اس سے زیادہ کبھی پریشان نہیں دیکھا‘ ان کے بال بکھرے ہوئے تھے‘ شیو بڑھی ہوئی تھی اور یہ اپنے فیصلے پر پچھتا رہے تھے‘ یہ بار بار کہتے تھے یہ میں نے کیا کر دیا؟ اس کے تین بچے ہیں‘ اب ان کا کیا بنے گا؟ میں نے برا کیا اور ہم انھیں تسلی دیتے رہے لیکن ان کی پریشانی بڑھتی چلی گئی۔ میں ڈر گیا اور زیادہ تر ان کے ساتھ رہنے لگا‘ میں نے گھر کے نوکروں سے تفتیش کی تو پتا چلا‘ خان صاحب نے طلاق سے پہلے فون پر کسی خاتون سے بات کی تھی اور یہ طلاق ان سے مشورے کے بعد ہوئی ‘ میں نے مزید تفتیش کی تو پتا چلا‘ خاتون کا نام بشریٰ بی بی ہے‘ یہ ہماری سوشل میڈیا ورکر مریم وٹو کی بہن ہیں اور ایک روحانی شخصیت ہیں۔ مریم وٹو دبئی میں رہتی تھی اور یہ اکثر خان صاحب کو فون کرتی رہتی تھی‘ انہوں نے خان صاحب کو بتایا کہ میری بہن اﷲ کے بہت قریب ہے اور انکا کا کہنا ہے آپ پر جادو ہو چکا ہے‘ لہذا آپ فوری طور پر اس کا توڑ کریں‘ عمران خان نے اس سے بہن کا نمبر لیا اور یوں ان کا بشریٰ بی بی سے رابطہ ہو گیا اور اس کے کچھ عرصے بعد انکی ریحام سے طلاق ہو گئی‘‘۔
جاوید چوہدری کہتے ہیں کہ میں نے عون چودھری سے پوچھا کہ آپ لوگوں کی بشریٰ بی بی سے کب ملاقات ہوئی؟‘‘ وہ بولے کہ نومبر 2015 میں ریحام خان کی طلاق کے بعد میں اور خان صاحب لاہور گلبرگ میں کلمہ چوک کے قریب خاور مانیکا کے گھر بشریٰ بی بی سے ملاقات کے لیے گئے۔ انہوں نے ہمیں دیکھتے ہی اعلان کر دیا کہ تم دونوں پر جادو ہے‘ بی بی نے بعدازاں خان صاحب کے سر اور چہرے پر دونوں ہاتھ پھیرے اور پھونک ماری‘ خان صاحب طلاق کی وجہ سے ڈپریشن میں تھے‘ ان کو بہت ریلیف ملا‘ بی بی کا کہنا تھا ہمیں دم کرانے کے لیے مزید دو مرتبہ آنا پڑے گا‘ ہم مزید دو مرتبہ لاہور گئے اور دم کروایا، اس کے بعد مرشد بی بی خود بنی گالا شفٹ ہو گئیں۔ جوہری کے بقول انہوں نے عون سے پوچھا کہ یہ کیسے ہوا؟ وہ بولے کہ چند دن بعد بنی گالا کی سٹریٹ نمبر دو میں بشریٰ بی بی نے تین کنال کا گھر کرائے پر لے لیا اور اس میں ایک مرسڈیز گاڑی بھی کھڑی ہو گئی۔ یہ تمام بندوبست احسن جمیل گجر نے کیا تھا‘ ہم اب روزانہ بشریٰ بی بی کے پاس جانے لگے‘ عمران کی ہر شام مرشد کے آستانے پر گزرتی تھی‘‘ میں نے پوچھا ’’کیا بشریٰ بی بی نے نواز شریف کے زوال کی پیش گوئی کی تھی؟‘‘ عون بولے کہ ’’جی ہاں‘ بشریٰ بی بی نے یہ دعویٰ کیا تھا کہ نواز شریف اقتدار سے بھی فارغ ہو ں گے اور اسکے بعد جیل بھی جائیں گے۔
جاوید چوہدری کہتے ہیں کہ اپریل 2016 میں واقعی پاناما کیس آ گیا‘ شریف فیملی پھنس گئی اور عمران خان کا بشریٰ بی بی پرانحصار مزید بڑھ گیا‘‘ میں نے پوچھا ’’بات پھر شادی تک کیسے پہنچی؟‘‘ وہ بولے ’’ہم سب عمران خان کی شادی کرانا چاہتے تھے‘ تین چار بہت اچھے رشتے موجود تھے‘ ان میں ہما بھی تھی‘ وہ خان صاحب کے لیے بہت مناسب تھی۔ میں نے خان صاحب کو قائل کرنے کی کوشش کی لیکن وہ نہیں مانے‘ ہم اگلے دن بشریٰ بی بی کے پاس گئے تو خان نے ان سے کہا کہ عون میری شادی کرانا چاہتا ہے‘ بشریٰ بی بی نے ہنس کر کہا کہ آپ ان کی فکر نہ کریں‘ ان کی شادی میں خود کراؤں گی‘ میں خاموش ہو گیا‘ بشریٰ بی بی نے چند دن بعد عمران خان کومشورہ دیا کہ آپ میری چھوٹی بیٹی سے شادی کر لیں۔ بشریٰ بی بی کی بیٹی کو طلاق ہو چکی تھی لیکن خان نہیں مانا‘ ان کا کہنا تھا کہ اس کی عمر صرف 25 سال ہے‘ وہ بہت چھوٹی ہے‘ یوں یہ معاملہ ختم ہوگیا لیکن پھر اچانک 31 دسمبر 2016 کو عمران نے مجھ سے کہا کہ میں بشریٰ بی بی سے نکاح کر رہا ہوں‘ چنانچہ تم نکاح کا بندوبست کر دو‘ ہم کل لاہور جا رہے ہیں‘ میں پریشان ہو گیا۔
عون چوہدری نے جاوید چوہدری کو بتایا کہ میں نے عمران سے کہا کہ وہ تو شادی شدہ ہیں‘ خان بولا‘ نہیں ان کی طلاق ہو چکی ہے‘ بہرحال قصہ مختصر یکم جنوری 2017 کو ہم نے ایک ریسٹورانٹ میں ڈنر کیا‘ میں نے ذلفی بخاری کو بلایا‘ اپنا آفیشل فون احتیاطاً اسلام آباد میں چھوڑ دیا تاکہ ہماری لوکیشن ٹریس نہ ہو سکے اور ہم موٹروے کے ذریعے لاہور روانہ ہو گئے۔ میں گاڑی چلا رہا تھا‘ عمران ساتھ والی سیٹ پر بیٹھا تھا اور ذلفی بخاری پیچھے بیٹھا تھا‘ ہم نے معاملے کو خفیہ رکھنے کے لیے جہانگیر ترین کا جہاز تک استعمال نہیں کیا تھا‘ میں نے نکاح خواں مفتی سعید کو بھی الگ گاڑی میں بھجوایا تھا‘ وہ ہمیں لاہور میں ملے تھے‘ گارڈز کی گاڑی بھی ہم سے پانچ کلومیٹر پیچھے تھی اور اس میں بھی صرف دو لوگ تھے‘ ہم یوں ڈی ایچ اے لاہور کے جی بلاک کے چار نمبر گھر پہنچ گئے۔
عون چوہدری نے بتایا کہ یہ فرح گوگی اور احسن جمیل گجر کا گھر تھا‘ نکاح کی کارروائی شروع ہوئی تو بشریٰ بی بی نے حق مہر میں بنی گالا کا گھر مانگ لیا‘ عمران خان راضی ہو گیا لیکن میں ڈٹ گیا‘ فرح گوگی ہمارا پیغام بی بی اور ان کا ہمارے پاس لے کر آتی تھی، لیکن میں نہیں مانا‘ خان صاحب بار بار کہہ رہے تھے یار لکھوا دو‘ کیا فرق پڑتا ہے، لیکن میں نہیں مانا‘ یاد رہے کہ بنی گالا میں گھر کے علاوہ عمران خان کا 7 کنال کا ایک پلاٹ بھی ہے۔ آخر میں یہ فیصلہ ہوا کہ عمران خان وہ سات کنال کا پلاٹ اور زمان پارک کا گھر حق مہر میں لکھوا دیں اور ہم نے یہ لکھوا دیا، یوں نکاح ہو گیا‘‘۔
جاوید چوہدری کہتے ہیں کہ میں نے عون چوہدری سے پوچھا کہ ’’بشریٰ بی بی کی طلاق کب ہوئی تھی؟‘‘ ان کا جواب تھا ’’14 نومبر 2016 کو‘‘ میں نے پوچھا ’’کیا یہ نکاح عدت میں ہوا؟‘‘ وہ فوراً بولے ’’جی ہاں‘ ہم نے اسی لیے یہ نکاح شروع میں خفیہ رکھا تھا‘‘ میں نے پوچھا ’’کیا مفتی سعید نے طلاق کے کاغذات کی تصدیق کرائی تھی؟‘‘ عمران بولے ’’نہیں‘ ہمیں طلاق کے ڈاکومنٹس کبھی نہیں ملے۔ بشریٰ بی بی کا کہنا تھا کہ مجھے شرعی طلاق ہوئی تھی چنانچہ ہمارے پاس طلاق کی کوئی دستاویز نہیں تھی‘‘ عون کے بقول خان صاحب وہ رات نئی بیگم کے پاس ان کے گھر پر رہے‘ اگلی صبح میں نے جہانگیر ترین کا جہاز منگوایا اور ہم اسلام آباد آ گئے‘ اس دن انسداد دہشت گردی کی عدالت میں ہماری پیشی تھی‘ ہم سیدھے عدالت پہنچ گئے‘‘۔ جاوید چوہدری کے بقول میں نے عون سے پوچھا کہ نکاح کی خبر سینئر صحافی عمر چیمہ کو کس نے دی تھی؟‘‘ وہ بولے کہ ’’یہ خبر ہمارے لیے بھی حیران کن تھی‘ میرا خیال ہے یہ خبر احسن جمیل گجر نے لیک کی تھی۔ یہ لوگ چاہتے تھے کہ عمران خان کا مائینڈ بدلنے سے پہلے یہ خبر عام ہو جائے تاکہ کام پکا ہو جائے‘‘۔ جاوید نے عون سے پوچھا کہ ’’آپ لوگوں نے خبر نکلنے کے بعد نکاح کی حقیقت سے انکار کیوں کیا تھا؟‘‘ ان کا جواب تھا کہ ’’بشریٰ بی بی تب عدت میں تھی‘ ہم اگر مان لیتے توفتوؤں کا شکار ہو جاتے‘‘ میں نے پوچھا ’’آپ کو پھر نکاح کی اتنی جلدی کیوں تھی؟ عدت پوری ہو لینے دیتے‘‘ عون شرمندہ ہو کر بولے ’’بشریٰ بی بی کا کہنا تھا کہ یہ حکم اوپر سے آیا ہے لہذا ہم اوپر والے کا حکم کیسےٹال سکتےتھے؟‘‘
