کیا پاکستان میں کرپٹو کرنسی پر پابندی لگنے والی ہے؟

ایک طرف ڈیجیٹل کرنسی کرپٹو کے ذریعے پاکستانیوں کا مستقبل تابناک بنانے کی باتیں کی جا رہی ہیں تو دوسری طرف اسٹیٹ بینک اور وفاقی حکومت نے بار بار فراڈ کے واقعات کے بعد اس پر پابندی لگانے کے لیے عدالت سے رجوع کر لیا ہے۔ اسٹیٹ بینک اور حکومت پاکستان نے سندھ ہائی کورٹ میں کرپٹو کرنسی پر مکمل پابندی عائد کرنے کی سفارش کر دی ہے، سندھ ہائی کورٹ کی تشکیل کردہ کمیٹی نے بھی رپورٹ پیش کرتے ہوئے پاکستان میں کرپٹو کرنسی اور اس سے متعلقہ سرگرمیوں کو ملک اور عوام کے لیے نقصان دہ قرار دے دیا ہے۔ جسٹس محمد کریم خان آغا کی سربراہی میں دو رکنی بینچ نے کمیٹی کو ہدایت کی ہے کہ وہ مشترکہ اجلاس میں زیر غور لانے کے لیے اپنی رپورٹ وزارت خزانہ اور قانون کو بھیجے تاکہ حتمی فیصلہ کیا جا سکے کہ آیا پاکستان میں کرپٹو کرنسی کے بزنس کی اجازت دی جائے یا نہیں۔
یاد رہے کہ حال ہی میں پاکستانیوں کے ساتھ کرپٹو کرنسی کے بزنس میں 18 ارب ارب روپے کے فراڈ کا معاملہ سامنے آیا ہے جس کے بعد وفاقی تحقیقاتی ادارہ فراڈ کرنے والوں کی گرفتاری کے لیے متحرک ہوگیا ہے۔ وفاقی تحقیقاتی ادارے کی جانب سے ملزموں کی گرفتاری کے لیے چھاپے جاری ہیں اور درجنوں صارفین اور ڈیلرز کے بینک اکاؤنٹ بھی منجمد کر دیئے گے ہیں۔
دوسری جانب سندھ ہائی کورٹ کی تشکیل کردہ کمیٹی کی رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ پاکستان میں کرپٹو کرنسی کے بزنس سے پیدا ہونے والے خطرات اس کے فوائد سے کہیں زیادہ ہیں۔رپورٹ میں کہا گیا کہ پاکستان میں کرپٹو کرنسی کا کاروبار قیاس آرائی پر چلتا ہے، اور لوگوں کو قلیل مدتی سرمایہ حاصل کرنے کے لیے کرپٹو کرنسی میں سرمایہ کاری کرنے پر آمادہ کیا جا رہا ہے۔ رپورٹ میں مزید کہا گیا کہ اس کے نتیجے میں قیمتی زرمبادلہ کی پرواز کے ساتھ ساتھ ملک سے غیرقانونی رقوم کی منتقلی بھی جاری ہے۔ سندھ ہائیکورٹ کی جائزہ کمیٹی نے دیگر چند ممالک کی مثالیں پیش کرتے ہوئے یہ بھی سفارش کی کہ وفاقی حکومت کو چاہئے کہ ملک بھر میں بائنانس، اوکٹا ایف ایکس جیسے کرپٹو کرنسی ایکسچینجز کے آپریشن پر پابندی عائد کرتے ہوئے انہیں کاروبار سے روکنے کے لیے جرمانے عائد کرے۔ رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ چین اور ترکی سمیت کئی ممالک نے کرپٹو کرنسی پر پابندی عائد کی ہے، جاپان، آسٹریلیا، نیوزی لینڈ اور کئی دیگر ممالک نے اسے اثاثہ جات یا قانونی جائیداد کے طور پر تصور کیا ہے جبکہ روس اور دبئی نے اسے قابل ٹیکس جائیداد سمجھا اور اس کے لیے ایک ریگولیٹری فریم ورک متعارف کروایا ہے۔
