کیا پرویز الٰہی بھی عمران کا ساتھ چھوڑنےوالے ہیں؟

سانحہ 9 مئی کے بعد تحریک انصاف خزاں رسیدہ پتوں کی طرح بکھرتی نظر آ رہی ہے۔ سیکرٹری جنرل سے لے کر یونین کونسل ناظم تک کے پکے یوتھیے بھی پارٹی سے کنارہ کشی اختیار کر رہے ہیں ایسے میں اطلاعات ہیں کہ ماضی قریب میں عمرانڈو ہو جانے والے چودھری پرویز الٰہی نے بھی بالآخر توبہ کرنے کا فیصلہ کرتے ہوئے تحریک انصاف سے راستے جدا کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ سینئر صحافی اعزاز سید نے دعوی کیا ہے کہ چودھری پرویز الٰہی نے بھی پریس کانفرنس کی تیاری شروع کر دی ہے۔

خیال رہے کہ پاکستانی سیاسی اُفق پر اس وقت ایسی پریس کانفرنسز کے بادل چھائے ہوئے ہیں، جن کا مشترکہ اسکرپٹ اس اظہار پر آگے بڑھتا ہے کہ ’اُس پر کوئی دباؤ نہیں‘ اور اس اعلان پر تمام ہوتا ہے کہ ’اب وہ تحریک انصاف کی کشتی کا سوار نہیں‘۔ عامر کیانی سے لیکر عمران اسماعیل تک ہر پریس کانفرنس اس ایک حقیقت کی ترجمان ہے۔ ایسے تمام مواقع پر جن میں تحریک انصاف کو خیر باد اور عمران خان کو خدا حافظ کہا گیا، ان پریس کانفرنسز نے زیادہ توجہ حاصل کی جن کے کرنے والے اس پریس کانفرنس سے پہلے سرکاری مہمان تھے۔

مگر اب ایک ایسی پریس کانفرنس کی سرگوشیاں ہیں جس کا کرنے والا گجرات کا باسی اور ظہورالٰہی روڈ لاہور کا مکین ہے۔ جی ہاں! متوقع تقریب کے دُلہا چوہدری پرویز الٰہی ہیں جنہیں لاہور پولیس چاہ کر بھی تلاش نہ کر سکی، ان کے گھر پر مارے جانے والے چھاپے نامرادی اور ناکامی کا نشان بن گئے، مگر کب تک؟ایسے وقت میں جب بدلتے موسموں کی دھوپ نے پرویز الٰہی پر بزرگی طاری کر دی ہے، اور انہیں جواں سال بیٹے کے سہارے کی ضرورت ہے، بیٹا سات سمندر دور سے عمران خان کے ساتھ ڈٹ کر کھڑے رہنے کی نوید سنا رہا ہے، اس عمران خان کے ساتھ کندھے سے کندھا ملائے رکھنے کا دعویٰ کر رہا ہے جو خود زمان پارک کا اسیر بن کر رہ گئے ہیں، کوئی دن نہیں جاتا کہ یہ خانہ بندی تمام ہو اڈیالہ کے در کُھل جائیں اور وہ شاخ ہی نہ رہے جس پر مونس الٰہی آشیانہ بنانے کے خواہاں ہیں۔دریں اثناء باخبر صحافی اعزازسید نے ٹوئٹ کیا کہ ’ سنا ہے پرویز الہی بھی پریس کانفرنس کی تیاری رہے ہیں‘ ۔۔۔ تو جواب میں مونس الٰہی نے ترنت ٹوئٹ کیا کہ:

جیت ہوگی ہار ہوگی وہ بعد میں ہوگی

فی الحال وفا ہوگی، وفاداری ہوگی اور سرِ عام ہوگی‘

ناقدین کا کہنا ہے کہ مونس الٰہی شاید بھول گئے کہ ظہور الٰہی کے خاندان میں وفا صرف اسٹیبلشمنٹ سے کی جاتی ہے، کوئی نواز شریف، کوئی جنرل مشرف اور کوئی عمران خان ان کے خاندان کی رگوں میں لہو کی طرح گردش کرتی اسٹیبلشمنٹ سے وفاداری کو چاہ کر بھی نہیں بدل سکتا۔ سو ایسے وقت میں جب اسٹیبلشمنٹ کے اشارہ ابرو پر خان کے کتنے ہی جانثاروں کو ’9 مئی‘ نگل گیا، تو گجرات کے ان چوہدریوں کی کیا جرأت کہ وہ اسٹیبلشمنٹ کے مرضی کے بغیر سانس بھی لے سکیں، رہی بات ننھے چوہدری کی تو اس پر ایک حکایات یاد آگئی۔

کہتے ہیں سرِآبجو ایک شیر پانی پی رہا تھا کہ ایک بلند چٹان پر موجود میمنہ بولا ’چچا جان کیا حال ہے؟‘شیر مسکرایا اور بولا ’یہ حال تُو نہیں پوچھا رہا بلکہ بلندی پر موجود ہونے کی وجہ سے بچ نکلنے کا امکان ہے جو یوں ہم کلام ہے۔سو یہی کچھ مونس الٰہی کے ساتھ ہے جو بوڑھے باپ کو مشکل میں چھوڑ کر گوشہ عافیت میں جا بیٹھے ہیں اور وہاں سے فرمان سنا رہے ہیں کہ:

’جیت ہوگی ہار ہوگی وہ بعد میں ہوگی

فی الحال وفا ہوگی، وفاداری ہوگی اور سرِ عام ہوگی‘

دوسری جانب مختلف تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ چودھری مونس الٰہی کے بہکاوے اور دباؤ میں آکر اپنے بھائی جیسے کزن چودھری شجاعت حسین کی پیٹھ میں چھرا گھونپ کر عمرانڈو ہو جانے والے چودھری پرویز الٰہی جلد در بدر ہونے والے ہیں۔ پی ٹی آئی سے وفاداری کیلئے ہر طرح کی یقین دہانیاں کروانے کے باوجود عمران خان چودھری پرویز الٰہی پر اعتماد کرنے پر قطعا آمادہ نظر نہیں آتے۔ عمران خان نے چودھری پرویز الہی کو اسٹیبلشمنٹ کی ٹیم کا حصہ قرار دے کر ان سے دوری اختیار کر رکھی ہے۔ پاکستان تحریک انصاف کے صدر پرویز الہی پچھلے کچھ عرصے سے سیاسی منظرنامے سے بھی غائب رہے ہیں جس کی وجہ سے ان کے پارٹی چھوڑنے کے حوالے سے بہت قیاس آرئیاں چل رہی ہیں۔ اگرچہ انھوں نے اپنے ایک ویڈیو بیان میں اس کی نہ صرف تردید کی تھی بلکہ عمران خان کو اپنی وفاداری کا یقین بھی دلایا ہے تاہم عمران خان یہ سمجھ چکے ہیں کہ جو بندہ اپنے بھائی اور خاندان کا نہیں بن سکا وہ ان سے یا تحریک انصاف سے کیا وفا کرے گا۔دوسری جانب چودھری پرویز الٰہی کی تحریک انصاف سے دوری بارے گفتگو کرتے ہوئے پی ٹی آئی کے ایک رہنما نے نام نہ ظاہر کرنے کی شرط پر بتایا کہ پرویز الہی نے پچھلے چند دنوں سے عمران خان سے رابطہ کرنے کی کوشش کر رہے ہیں مگر ان کا عمران خان سے رابطہ نہیں ہو سکا۔ ان کا کہنا تھا کہ عمران خان پرویز الہی سے ناراض ہیں۔ ناراضی کی وجہ پوچھنے پر رہنما نے بتایا کہ ناراضی کی بڑی وجہ پرویز الہی عمران خان کی اسٹیبلشمنٹ مخالف بیانئے سے اتفاق نہیں کرتے۔ عمران خان جیل بھرو تحریک کے حوالے سے بھی پرویز الہی سے ناراض ہیں۔

جب پی ٹی آئی رہنما سھ پوچھا گیا کہ کیا پرویز الہی پی ٹی آئی کو خیر باد کہہ سکتے ہیں ؟ تحریک انصاف کے رہنما نے بتایا کہ پرویز الہی پارٹی چھوڑ سکتے ہیں، وہ 9مئی کے بعد والا دباؤ برداشت نہیں کر سکتے۔ پرویز الہی اب بھی ڈیل کے چکر میں ہیں کہ کسی طرح ڈیل ہو جائے تو تحریک انصاف کی صدارت سے استعفی دے دوں، اگر ڈیل نہ بنی تو وہ خاموش رہیں گے۔ کافی امید ہے کہ وہ جلد دوبارہ ق لیگ جوائن کر لیں گے۔

خیال رہے کہ چوہدری پرویز الہی کے کزن چوہدری وجاہت حسین اور ان کا بیٹا بھی پی ٹی آئی سے راہیں جدا کر کے دوبارہ ق لیگ میں شامل ہو چکے ہیں، چوہدری وجاحت حسین کے دوبارہ ق لیگ میں شمولیت کے بعد یہ قیاص آرائیاں کی جا رہی تھیں کہ تحریک انصاف کے صدر چوہدری پرویز الہی بھی جلد تحریک انصاف سے راہیں جدا کر لیں گے تاہم پرویز الہی نے ان قیاس آرائیوں پر خاموشی جبکہ چودھری مونس الہی ایسی پیشرفت سے انکار کرتے ہیں۔دوسری جانب پاکستان تحریک انصاف کے سنئیر رہنما شفقت محمود کا کہنا تھا کہ 9 مئی کے واقعات کے بعد تحریک انصاف کے بعض لوگ پریشر برداشت نہیں کر رہے جس کی وجہ سے وہ پارٹی چھوڑ رہے ہیں۔ بہت سے لوگ پارٹیاں چھوڑتے ہیں مگر ان چیزوں سے پارٹیوں کو کوئی فرق نہیں پڑتا۔

Back to top button