کیا چودھری عمران خان کو چھوڑنے کی ہمت کرینگے؟

ایم کیو ایم پاکستان کی جانب سے وفاقی حکومت سے اظہار ناراضی کے بعد اب پنجاب میں کپتان کی سب سے اہم اتحادی جماعت قاف لیگ کی قیادت نے بھی اپنے اختلافات پبلک کرتے ہوئے اہنے مستقبل کے فیصلے کرنے کا اعلان کردیا ہے، لہذا بدلتی ہوئی صورت حال میں اس خدشے کا اظہار کیا جا رہا ہے کہ بلآخر چوہدری برادران اور عمران کا ساتھ ختم ہونے جا رہا ہے۔
خیال رہے کہ چند ماہ قبل وزیراعظم عمران خان اور ناراض چوہدری برادران کے مابین معاملات طے پا گے تھے جس کے بعد پرویزالٰہی نے وزیراعظم عمران خان کے خلاف کھڑے ہونے والے ان کے اور اپنے دوست جہانگیر ترین کو بھی چارج شیٹ کر دیا تھا۔ لیکن اب عمران خان سے دوبارہ سے تعلقات خراب ہونے کے بعد اسپیکر پنجاب اسمبلی چوہدری پرویزالٰہی نے کہا ہے کہ ہم ہر طرح کی ذیادتیوں کے باوجود عمران خان اور انکی جماعت سے تعلق نبھاتے رہے لیکن وہ اور ان کی حکومت ہمارا ساتھ نہیں دے رہی۔ لہذا ان حالات میں فیصلہ کرنا ضروری ہو گیا ہے کہ قاف لیگ کا اگلا لائحہ عمل کیا ہوگا۔
14 نومبر کے روز مسلم لیگ (ق) کی پارلیمانی پارٹی نے حکومت سے فاصلے پیدا ہونے کے بعد مشاورت سے مستقبل کے تمام فیصلے کرنے کا اختیار پرویز الہٰی کو دے دیا ہے۔ پارلیمانی پارٹی کے اجلاس میں حکومتی پارٹی کی جانب سے قاف لیگ کے بندے توڑنے اور ان کے بندوں کو اہم حکومتی کمیٹیوں سے نکالنے کے اقدامات کی پرزور مذمت کی گئی۔ ق لیگ نے پارلیمانی پارٹی کے اجلاس کا اعلامیہ جاری کرتے ہوئے کہا کہ بڑھتی ہوئی بیروزگاری اور مہنگائی کے باعث اب ان کی جماعت کا حکومت کے ساتھ چلنا مشکل ہوتا جارہا ہے اور اب فیصلے میں مزید تاخیر نہیں کی جائے گی۔
اجلاس میں ڈالر، پٹرول، بجلی، گیس کی بڑھتی قیمتوں اور امن و امان کی ابتر صورتحال پر تشویش ظاہر کی گئی۔ اعلامیے میں کہا گیا کہ ان تمام وجوہات کی بنا پر حکومت کے ساتھ چلنا مشکل ہوتا جارہا ہے۔ مسئلہ یہ بھی یے کہ عوامی نمائندے اپنے حلقوں میں عوام کا سامنا کیسے کرین کیونکہ عام آدمی اذیت میں ہے اور حکومت عوامی مشکلات کے تدارک میں ناکام دکھائی دیتی ہے۔ یہ بھی کہا گیا کہ اصل ایشوز کو دبانے کے لیے حکومت مسلسل نان ایشوز کو ایشوز بنا کر عام آدمی کے زخموں پر نمک پاشی کر رہی ہے۔ ق لیگی پارلیمانی اجلاس کے اعلامیے کے مطابق اگر عام آدمی کو ریلیف نہ دیا گیا تو حالات مزید بگڑیں گے۔ اجلاس میں اراکین قومی و پنجاب اسمبلی کے علاوہ پرویز الہی، طارق بشیر چیمہ، مونس الہٰی، سینیٹر کامل علی آغا، سالک حسین اور حسین الہٰی نے بھی شرکت کی۔
قاف لیگ ذرائع کا کہنا ہے کہ حکومت اور انکی جماعت کے مابین فاصلوں میں تب اور بھی اضافہ ہوگیا جب تحریک انصاف ق لیگ کے رہنما سلیم بریار کو پی ٹی آئی میں شامل کر لیا گیا۔ یاد رہے کہ مسلم لیگ ق کے نائب صدر اور ایم پی اے احسن سلیم کے والد سلیم بریار نے پی ٹی آئی کے چیف آرگنائزر سینیٹر سیف اللہ نیازی کے حالیہ دورہ سیالکوٹ کے دوران گلے میں پٹہ نما جھنڈا ڈلوا کر کہا کہ یہ کیسے ہوسکتا ہے کہ باپ ایک پارٹی میں ہوں جب کہ بیٹا دوسری پارٹی میں۔ انہوں نے کہا کہ جس دن سے میرے بیٹے احسن بریار کو تحریک انصاف کا ٹکٹ ملا تھا میں اسی دن پی ٹی آئی میں شامل ہو گیا تھا لیکن اسکا باقاعدہ اعلان آج کر رہا ہوں۔
ذرائع کا کہنا ہے کہ اس کے علاوہ قاف لیگی قیادت کی حکومت سے ناراضی کی ایک اور وجہ یہ ہے کہ ق لیگ کے سینئر نائب صدر کامل علی آغا کو الیکشن کمیشن میں تقرریاں کرنے والی کمیٹی میں سے نکال دیا گیا ہے اور ان کی جگہ اعظم سواتی کو شامل کرلیا گیا۔ دوسری جانب وزیراعظم عمران خان نے ایک مرتبہ پھر چوہدری برادران کو منانے کے لیے کچھ وفاقی وزراء کی ڈیوٹی لگا دی ہے لیکن قاف لیگی ذرائع کا کہنا ہے کہ دودھ کا جلا چھاچھ بھی پھونک پھونک کر پیتا ہے لہذا اب چوہدری برادران بہت سوچ سمجھ کر اپنے سیاسی مستقبل کا فیصلہ کریں گے۔
