کیا کپتان حکومت تحریک لبیک کو طاقت سے روک پائے گی؟

تحریک انصاف حکومت کی جانب سے پنجاب میں رینجرز کی دو ماہ کے لیے تعیناتی اور تحریک لبیک کے ساتھ آہنی ہاتھوں سے نمٹنے کے اعلان کے بعد یہ سوال کیا جا رہا ہے کہ اگر حکومت تحریک لبیک کو ریاستی طاقت کے ذریعے دبانے میں ناکام رہی تو کیا وہ ایک مرتبہ پھر اس کے سامنے گھٹنے ٹیک دے گی جیسا کہ وہ ماضی میں بھی کرتی رہی ہے۔
دفاعی تجزیہ کاروں کا ماننا ہے کہ عمران خان حکومت اپنی دوغلی حکمت عملی کی وجہ سے تحریک لبیک سے متعلق ٹھوس حکمت عملی بنانے پر کنفیوژن کا شکار ہے۔ پچھلے دو ہفتوں سے کالعدم ٹی ایل پی کے ساتھ جاری مذاکرات ناکام ہونے کے بعد تحریک انصاف حکومت نے بالآخر لانگ مارچ کے شرکاء پر طاقت کا استعمال صوبے میں دو ماہ کے لئے رینجرز کو طلب کر کے یہ دکھانے کی کوشش کی ہے کہ اب وہ کنفیوژن سے باہر نکل آئی ہے تاہم یقین سے نہیں کہا جاسکتا کہ کپتان حکومت بزور طاقت ریاست کی رٹ قائم کرنے کے اعلان پر قائم رہتی ہے یا ایک بار پھر سرنڈر کردے گی؟ تجزیہ کاروں کے مطابق تحریک لبیک کی جانب سے مزاحمت یا پسپائی سے ہی حکومتی عزم اور حکمت عملی کی پختگی کا ثبوت ملے گا وگرنہ خدشہ یہی ہے کہ اگر لبیک والے مزاحمت پر اتر آئے تو حکومت کہیں ایک بار گھٹنے ٹیکنے پر مجبور نہ ہو جائے۔
یاد رہے کہ تحریک انصاف حکومت نے کچھ عرصہ قبل سعد رضوی کی گرفتاری کے بعد لبیک والوں کے ہاتھوں پولیس والوں کی اموات کے بعد اس تنظیم کو کالعدم قرار دیا تھا، تاہم اس پابندی کو مکمل طور پر موثر بنوانے کے لئے نہ تو ابھی تک حکومت کی جانب سے سپریم کورٹ میں پٹیشن دائر کی گئی ہے اور نہ ہی اس دوران ہونے والے ضمنی انتخابات میں تحریک لبیک کو الیکشن لڑنے سے روکا گیا۔ ان اقدامات سے یہ تاثر پختہ ہوا کہ کپتان حکومت بعض مصلحتوں کے پیش نظر تحریک لبیک کے حوالے سے کنفیوژن کا شکار ہے۔ تجزیہ کاروں کے خیال میں لبیک والوں پر طاقت کے استعمال اور انہیں مستقل طور پر قابو میں رکھنے کی غرض سے حکومت نے رینجرز کو تعینات کرکے کنفیوذڈ پالیسی کا تاثر کسی حد تک ختم کردیا ہے لیکن ابھی تحریک لبیک کا ردعمل دیکھنا باقی ہے۔ خدشہ ہے کہ اگر لبیک والوں نے اپنے احتجاج کو مذید موئثر بناتے ہوئے حکومت پر دبائو بڑھا دیا تو اسلام آباد کے فیصلہ ساز اس معاملے پر ایک اور یوٹرن بھی لے سکتے ہیں۔
واضح رہے کہ 27 اکتوبر کو وفاقی حکومت نے کالعدم تحریک لبیک کے دھرنے سے نمٹنے کے لیے پنجاب میں 60 روز کے لیے رینجرز کو طلب کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ رینجرز آرٹیکل 147 کے تحت دہشت گردی اور امن عامہ کی صورت حال سے نمٹنے میں پنجاب پولیس کی معاونت کریں گے۔ اپنی حالیہ پریس کانفرنس کے دوران رینجرز بلانے کے فیصلے کی وضاحت کرتے ہوئے وفاقی وزیر داخلہ شیخ رشید احمد نے کہا تھا کہ پولیس کے پاس صرف ڈنڈے تھے اور کالعدم جماعت کے پاس کلاشنکوف جیسے ہتھیار ہیں اس لیے ان کا پولیس اکیلے مقابلہ نہیں کر سکتی تھی جس کی وجہ سے رینجرز کو طلب کیا گیا ہے۔ اس حکومتی اقدام سے یہ اندازہ ہوتا ہے کہ اب تحریک لبیک کو مزید ڈھیل دینے کی بجائے ان کے ساتھ بزور طاقت نمٹا جائے گا جیسا کہ وفاقی وزیر برائے اطلاعات فواد چوہدری بھی کہہ چکے ہیں کہ اب لبیک کے ساتھ ایک عسکریت پسند تنظیم کی طرح برتائو کریں گے۔ پنجاب حکومت کی جانب سے وزارت داخلہ کو بھیجی جانے والے درخواست میں کہا گیا ہے کہ آئین کے آرٹیکل 147 اور انسداد دہشت گردی ایکٹ 1997 کے سیکشن 4 (2) کے تحت رینجرز کی خدمات 60 دن کے لیے پنجاب حکومت کے سپرد کی جائیں، تاکہ وہ پولیس کے اختیارات استعمال کرتے ہوئے دہشت گردی اور متعلقہ جرائم کے خاتمے میں مدد دے سکیں۔ واضح رہے کہ یہ پہلا موقع نہیں ہے کہ پاکستان کے کسی صوبے نے امن و امان کی بحالی کے سلسلے میں رینجرز کو طلب کیا گیا ہے بلکہ پاکستان میں اکثر دیکھنے میں آتا ہے کہ مظاہروں، مذہبی تہواروں حتیٰ کہ انتخابات کی سکیورٹی کے لیے بھی پولیس ناکافی ہوجاتی ہے اور پیرا ملٹری فورس یعنی رینجرز کو طلب کیا جاتا ہے۔ سابق انسپکٹر جنرل پنجاب پولیس شوکت جاوید کے بقول رینجرز کو اس لیے طلب کرنا پڑتا ہے کہ پولیس کے پاس ایسے ہنگاموں سے نمٹنے کے لیے کافی صلاحیت نہیں ہوتی۔ مسئلہ یہ ہے کہ حکومت پولیس کی استعداد کار بڑھانے کے لیے کافی اقدامات نہیں کرتی جس کے باعث رینجرز کو بلانا مجبوری بن جاتا ہے۔
خیال رہے کہ کالعدم جماعت تحریک لبیک پاکستان نے وفاقی حکومت کے ساتھ ہونے والے مذاکرات کی ناکامی کا دعویٰ کرتے ہوئے ایک بار پھر اسلام آباد کی جانب لانگ مارچ کا شروع کر دیا ہے۔ بدھ کو لاہور کے قریب سادھوکی کے مقام سے مذہبی جماعت کے کارکنوں کے جی ٹی روڈ پر مارچ کے دوبارہ آغاز کرنے پر پولیس نے انہیں روکنے کے لیے آنسو گیس کا استعمال کیا۔اس دوران پولیس اہل کاروں اور تحریکِ لبیک کے کارکنوں کے درمیان جھڑپیں بھی ہوئیں۔ اطلاعات کے مطابق مظاہرین نے سڑک پر کھڑے بعض ٹرکوں کو آگ لگانے کی کوشش کی، جب کہ اطراف میں املاک کو بھی نقصان پہنچایا۔ اس دوران دو پولیس والوں اور تحریک لبیک کے ایک کارکن کے جاں بحق ہونے کی اطلاعات بھی ہیں۔ پنجاب پولیس کے حکام کا الزام ہے کہ احتجاج میں موجود مظاہرین میں بعض افراد کے پاس اسلحہ بھی ہے جس سے پولیس اہل کاروں کو نشانہ بنایا گیا ہے۔ دوسری جانب تحریک لبیک نے بھی پولیس کے تشدد سے کارکنوں کے مرنے کا دعویٰ کیا ہے۔
تازہ ترین اطلاعات کے مطابق تحریک لبیک کا احتجاجی جلوس کامونکی سے اسلام آباد کی جانب دوبارہ گامزن ہوگیا ہے۔ وفاقی وزیرِ داخلہ شیخ رشید نے اعلان کیا ہے کہ مظاہرین کو جہلم کراس نہیں کرنے دیا جائے گا اور اسلام آباد کسی بھی صورت نہیں پہنچنے دیا جائے گا۔ انہوں نے مظاہرین پر الزام عائد کیا کہ ان کی جانب سے کلاشنکوف سے براہِ راست پولیس اہل کاروں پر فائرنگ کی گئی جس سے 3 اہلکار جاں بحق ہوگئے۔ ان کا کہنا تھا کہ حکومت نے لبیک والوں کے سارے مطالبات مان لیے تھے لیکن فرانسیسی سفیر کی بے دخلی کا مطالبہ نہیں تسلیم کیا جا سکتا۔
وفاقی وزیرِ داخلہ نے کہا کہ پاکستان میں فرانس کا سفیر موجود نہیں ہے۔ لیکن ہم لبیک والوں کو آگاہ کر چکے ہیں کہ فرانس کا سفارت خانہ بند نہیں کر سکتے کیونکہ پاکستان دنیا کے ساتھ چلنا چاہتا ہے۔ اب دیکھنا یہ ہے کہ کیا کپتان حکومت تحریک لبیک کے مظاہرین کو اسلام آباد پہنچنے سے روک پائے گی یا اس دوران کوئی خون خرابہ حالات کو مزید خراب کر دے گا؟
