کیا کپتان نے زلفی بخاری کو مکمل طور پر فارغ کر دیا؟

وزیرِاعظم کے سابقہ معاون خصوصی اور دست راست سید زلفی بخاری نے تسلیم کیا ہے کہ پچھلے دو ماہ سے انکی عمران خان سے کوئی ملاقات نہیں ہوئی لیکن انہوں نے کپتان سے اختلافات کی تردید کرتے ہوئے کہا ہے کہ اب وہ سیاست میں آنے کے لیے الیکشن کا راستہ چنیں گے چونکہ ماضی میں ان کے غیر منتخب مشیر ہونے پر اعتراض کیا جاتا رہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ رنگ روڈ سکینڈل میں ان کا نام کلئیر ہو چکا ہے اور کابینہ میں ان کی واپسی بارے عمران خان خود فیصلہ کریں گے جن کی حیثیت انکے لئے ایک بڑے بھائی کی سی ہے۔
یاد رہے کے راولپنڈی رنگ روڈ سکینڈل میں نام آنے کے بعد چند ماہ پہلے عمران خان کی آنکھ کا تارا سمجھے جانے والے زلفی بخاری سے بطور معاون خصوصی کا استعفیٰ لے لیا گیا تھا کیونکہ انکوائری رپورٹ میں یہ الزام لگا تھا کہ رنگ روڈ اپنے رشتہ داروں کی زمینوں تک لے جانے کے لیے انہوں نے اپنا اثرورسوخ استعمال کیا۔ وفاقی کابینہ سے علیحدگی کے بعد پہلی بار وزیراعظم سے تعلقات اور اپنے مستقبل کے بارے میں بات کرتے ہوئے عمران خان کے درینہ ساتھی نے بتایا کہ ’پانچ سال بعد میں سیاسی کیریئر کے اگلے پیمانے پر ہوں گا اور وہ پیمانہ ہوگا ایک منتخب رکن اسمبلی کا۔‘ اردو نیوز سے انٹرویو میں انہوں نے کہا کہ ’اب تک کے تین برسوں میں اگر میرے خلاف کوئی اعتراض صحیح تھا تو وہ یہ کہ میں منتخب نہیں تھا جو ایک حقیقت ہے۔ ذلیل نے کہا کہ اگر رست سونے سے پہلے میں سوچوں کہ میرے خلاف بدنامی والی کون سی چیز صحیح ہے، تو وہ یہ ہے کہ میں منتخب نہیں ہوں، اسلیے لوگ آپ کو آسان لینا شروع کر دیتے ہیں۔ انہوں نے ان اطلاعات کی تردید کی کہ ان کے وزیراعظم کے ساتھ اختلافات پیدا ہو گئے ہیں اور اس وجہ سے ان کی کابینہ میں واپسی نہیں ہو رہی۔
زلفی بخاری نے کہا کہ ’رنگ روڈ سکینڈل میں ان کا نام کلیئر ہوئے ابھی صرف ڈیڑھ ماہ ہوا ہے اور یہ کوئی بڑی مدت نہیں ہے کہ اس دوران وزیراعظم نے ان کی کابینہ میں دوبارہ شمولیت کا دوبارہ فیصلہ نہیں کیا۔ یاد رہے کہ عمران خان کے قریبی حلقوں میں یہ تاثر عام ہے کہ انہوں نے رنگروڈ سکینڈل میں نام آنے کے بعد زلفی بخاری کی مکمل طور پر چھٹی کروا دی ہے اور انہیں ملنے کے لیے بھی تیار نہیں۔ اس سے پہلے انہیں ان چند افراد میں شمار کیا جاتا تھا جو کپتان کے قریب ترین تھے اور جنہوں نے ان کی ریحام خان اور بشری بی بی کے ساتھ شادی کی دونوں تقریبات میں شرکت کی تھی۔
عمران سے دُوری کے متعلق ایک سوال کا جواب دیتے ہوئے زلفی بخاری نے کہا کہ ’عمران خان کی حیثیت ان کے لیے ایک بڑے بھائی اور سرپرست کی سی ہے۔ وہ اس ملک کے وزیراعظم ہیں، اس کے باوجود میرے لیے وہ ایک بڑے بھائی ہیں۔ میرے لیے وہ ایک انسپائریشن ہیں، اتالیق ہیں، ہر لحاظ سے۔ میری اور وزیراعظم کی گفتگو ہوتی رہتی ہے اور میری ان سے کوئی ناراضی نہیں ہے۔ تاہم انہوں نے تسلیم کیا کہ گذشتہ دو ماہ میں ان دونوں کی ملاقات نہیں ہو پائی جس کی وجہ انہوں نے مصروفیت قرار دی۔
وزارت سے اپنے استعفے کے بارے میں زلفی بخاری کا کہنا تھا کہ اس معاملے میں انہوں نے شاید جلد بازی سے کام لیا تھا۔ میرے قریبی لوگ کہتے ہیں کہ یہ تم نے بڑا جذباتی فیصلہ کیا، لیکن مجھے وہ کرنا تھا جو مجھے صحیح لگا۔‘ زلفی بخاری نے کہا کہ ’انہوں نے استعفیٰ میڈیا پر اس حوالے سے خبریں چلنے سے پہلے ہی دے دیا تھا۔ میں نے دو ہفتے پہلے استعفیٰ دے دیا تھا، لیکن تب میری وزیر اعظم سے ملاقات نہیں ہوئی تھی۔ میں دبئی چلا گیا تھا، فیملی کی چھٹیاں تھیں، میں نے وہیں عید کی تھی۔ میں رنگ رود انکوائری رپورٹ کا انتظار کر رہا تھا، لیکن جس دن میرا نام میڈیا پر چلا ہے میں نے اسی وقت وزیراعظم کو استعفیٰ بھیج دیا تھا کہ ٹینشن نہ لیں، ایزی رہیں، اسے جب بھی استعمال کرنا ہو، کر لیں۔‘
زلفی نے کہا کہ جب میرا نام رنگ روڈ انکوائری رپورٹ میں بالواسطہ طور پر لیا گیا تو میں نے دبئی سے واپس آ کر وزیراعظم سے ملا اور بولا کہ اب تو اس نے میرا نام لے لیا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ انہیں وزارت سے استعفیٰ دینے کے بارے میں وزیراعظم یا کسی اور نے نہیں بلکہ رنگ روڈ سکینڈل کی تحقیقاتی رپورٹ کی ایک لائن نے مجبور کیا تھا۔ 33 صفحوں کی اس رپورٹ میں ایک لائن تھی، جس نے مجھے استعفیٰ دینے پر مجبور کیا، وہ لائن یہ تھی کہ شاید زلفی بخاری نے رنگ روڈ پراجیکٹ میں اپنا اثر و رسوخ استعمال کیا۔ زلفی نے تسلیم کیا کہ اس سکینڈل میں ان کا نام آنے کی بنیادی وجہ یہ تھی کہ اس علاقے میں انکی امی کے فرسٹ کزن کی زمین موجود ہے لیکن اب سے نہیں بلکہ دو تین سو سال سے ہے۔
زلفی بخاری نے انٹرویو کے دوران بتایا کہ اپنی وزارت چلے جانے کے بعد جب میں اپنے حلقے میں گیا تو مجھے احساس ہوا کہ مجھے یہاں آئے تین سال گزر گئے ہیں۔ جب میں نے سیاست میں حصہ لینا شروع کیا تھا تو کابینہ میں بھی میں نے وعدہ کیا تھا کہ میں اٹک پر زیادہ توجہ دوں گا، لیکن میں ایسا نہیں کر پایا، تو شاید یہ ایک طریقہ تھا، خدا کا یہ دکھانے کا کہ ایک وعدہ جو تم نے کیا ہوا تھا، اس پر توجہ دو اور اسے پورا کرو۔ چنانچہ میری توجہ اب زیادہ وہاں پر ہے۔زلفی بخاری کا کہنا تھا کہ ’وہ اب بھی پس منظر میں رہ کر اوورسیز پاکستانیوں اور سیاحت کے لیے کام کر رہے ہیں، تاہم ان کے وزارت چھوڑنے کے بعد کچھ اہم سرکاری کاموں پر وزارت کی کارکردگی سست ہوئی ہے۔
