کے پی حکومت نے 9 برس میں 887 ارب کے ریکارڈ قرضے لیے

پچھلے 9 برس سے صوبہ خیبر پختونخوا میں برسرِ اقتدار عمران خان کی تحریک انصاف 887 ارب روپے کا ریکارڈ قرضہ لینے کی وجہ سے تنقید کی زد میں آگئی ہے. تاہم صوبائی حکومت کا دعویٰ ہے کہ قرضوں کی رقم اتنی زیادہ نہیں ہے اور ویسے بھی ترقیاتی منصوبوں کے لئے قرض لینا کوئی بری بات نہیں. خیبر پختونخوا کے وزیر خزانہ کا اصرار ہے کہ کچھ میڈیا اداروں نے خیبر پختونخوا کے قرضوں کے حوالے سے ’غلط‘ اعداد و شمار شیئر کیے ہیں۔ اس حوالے سے صوبائی وزیر خزانہ تیمور سلیم جھگڑا نے سلسلہ وار ٹویٹس کیں جن میں انہوں نے گراف کی مدد سے اپنی بات سمجھانے کی کوشش بھی کی۔ ان اعداد و شمار کو سرکاری دستاویزات کے ساتھ رکھ کر دیکھا گیس تاکہ اندازہ لگایا جا سکے کہ اصل میں صوبے نے کتنا قرض لیا اور یہ قرض کیوں لیا گیا۔
صوبائی محکمہ خزانہ کی جانب سے دسمبر 2021 میں ایک باقاعدہ دستاویز ویب سائٹ پر شائع کی گئی جس میں صوبائی حکومت کی جانب سے لیے گئے قرضوں کی تمام تر تفصیلات درج ہے۔ ان دستاویزات کے مطابق 31 دسمبر 2021 تک قرضے کا مجموعی حجم 887 ارب روپے ہے۔ تاہم ان میں سے اب تک 331 ارب روپے سے زائد حکومت کو ادا کیے گئے یعنی صوبے کو قرض کی مد میں اب تک 331 ارب روپے ملے ہیں۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ اگر کسی شخص یا ادارے نے آپ کو ایک لاکھ روپے قرض دینے کا وعدہ کیا ہے، لیکن ان میں سے ابھی تک آپ کو صرف 50 ہزار ملے ہیں اور باقی آپ کو ملنے ہیں۔ تو آپ اس وقت تک صرف 50 ہزار روپے کے مقروض ہیں لیکن مجموعی طور آپ سے ایک لاکھ روپے قرض کا وعدہ کیا گیا ہے۔
صوبائی وزیر تیمور سلیم جھگڑا نے بھی ٹوئٹر پر اپنے تھریڈ میں یہی بتایا ہے کہ صوبے کا واجب الادا قرضہ 331 ارب روپے ہے۔ اپنے ٹوئٹر تھریڈ میں انھوں نے یہ بھی لکھا کہ شفافیت کو مدنظر رکھتے ہوئے صوبائی محکمہ خزانہ ہر چھ ماہ بعد قرضہ جات کی تفصیلی دستاویز اپنی ویب سائٹ پر جاری کرتا ہے اور ساتھ میں، اس دستاویز کو اراکین صوبائی اسمبلی کو بھی پیش کرتا ہے۔
تیمور جھگڑا کے مطابق ’صوبائی حکومت قرضوں کی منیجمنٹ بہت بہتر انداز میں کر رہی ہے اور خیبر پختونخوا واحد صوبہ ہے جس نے حال ہی میں قرضوں کی منیجمنٹ کے حوالے سے قانون اسمبلی سے پاس کیا ہے۔ صوبے کے تمام تر قرضے بیرون اداروں سے فنڈڈ ہیں اور مقامی سطح پر ایک روپیہ قرض بھی نہیں لیا گیا ہے۔‘
انہوں نے لکھا کہ ’قرض لینا مسئلہ نہیں ہے لیکن قرضے کو منیج کرنا اصل کام ہے اور صوبائی حکومت یہ کر رہی ہے۔ ابھی حالیہ بجٹ میں قرضوں کی مد میں صوبائی حکومت بجٹ کا صرف دو فیصد حصہ دے رہا ہے کیونکہ ہم نے قرضہ دینے کے نظام کو بہتر طریقے سے منیج کیا ہے۔‘ انکا کہنا تھا کہ 887 ارب روپے قرضے کی جو بات ہو رہی ہے، اس میں بعض میڈیا اداروں نے وہ قرض بھی شامل کیا ہے جو ابھی تک حکومت کو نہیں ملے۔
تیمور سلیم جھگڑا سے جب پوچھا کہ 887 ارب روپے میں سے 551 ارب روپے تاحال نہیں ملے ہیں لیکن حکومت نے یہ معاہدے تو کیے ہیں، تو اس کے جواب میں ان کا کہنا تھا کہ ’یہ بالکل درست ہے کہ باقی ماندہ قرضوں کی کمٹمنٹ اداروں کے ساتھ ہوچکی ہے، تاہم یہ قرضے ابھی ملے نہیں ہیں اور یہی وجہ ہے کہ اس کو قرضوں کے کل حجم میں شمار کرنا درست نہیں ہے۔‘ محکمہ خزانہ کے دستاویزات کے مطابق پی ٹی آئی حکومت کو 31 دسمبر 2021 تک مجموعی طور ملنے والا قرض 331 ارب روپے ہے اور یہ صوبے کو واجب الادا ہے۔ یہ قرضے دستایزات کے مطابق ڈالر، یورو، پاکستانی روپے اور جاپانی کرنسی میں لیے گئے ہیں تاہم قرضے میں سب سے زیادہ یعنی 82 فیصد شرح ڈالرز کی صورت میں لیے گئے قرضوں کی ہے۔
اگر ان قرضہ جات پر سود دینے کی بات کی جائے، تو دستاویزات کے مطابق ان میں 70 فیصد قرضے فکسڈ انٹرسٹ ریٹ جبکہ باقی 30 فیصد فلوٹنگ انٹرسٹ ریٹ پر دیے گئے ہیں۔ فکسڈ ریٹ کا مطلب یہ ہے کہ اس پر ایک فکسڈ سود کا ریٹ مقرر کیا گیا ہے اور کرنسی میں اضافے یا کمی سے سود میں اضافہ یا کمی نہیں ہوگی جبکہ فلوٹنگ ریٹ اس کے برعکس ہے۔
انڈیپنڈنٹ اردو کی جانب سے حاصل کی گئی دستاویزات کے مطابق صوبائی حکومت نے سب سے زیادہ قرضہ ٹرانسپورٹ محکمے کے لیے لیا جس کا کل حجم 132 ارب روپے سے زائد ہے اور یہ مجموعی قرضے کا 40 فیصد ہے۔ اسی طرح دوسرے نمبر پر سب سے زیادہ قرضہ معاشی ترقی کے منصوبوں کے لیے لیا گیا ہے جس کا کل حجم 59 ارب روپے سے زائد ہے اور یہ مجموعی قرضے کا 18 فیصد بنتا ہے۔ دیگر سیکٹرز میں انرجی اینڈ پاور کے لیے 36 ارب روپے سے زائد، فنانس کے لیے 27 ارب روپے، علاقائی ترقی کے لیے 20 ارب روپے، آبپاشی کے لیے 19 ارب، تعلیم کے لیے 11 ارب، زراعت کے لیے سات ارب، سوشل ویلفیئر کے لیے چار ارب سے زائد، سیاحت کے لیے بھی چار ارب سے زائد، ماحولیات اور صحت کے لیے تین، تین ارب روپے، واٹر اینڈ سینیٹیشن کے لیے تقریباً ایک ارب جبکہ انڈسٹریز کے لیے 27 کروڑ روپے قرضہ لیا گیا ہے۔
واجب الادا قرضہ جات میں دستاویزات کے مطابق سب سے زیادہ قرضہ پشاور کی بس ریپیڈ ٹرانزٹ کا ہے جو تقریباً 70 ارب روپے بنتے ہیں جبکہ دوسرے نمبر پر سب سے زیادہ قرضہ ’خیبر پختونخوا ایمرجنسی روڈ ریحیبلیٹیشن پراجیکٹ‘ کے لیے لیا گیا ہے جو تقریباً 22 ارب روپے ہے۔ خیبر پختونخوا میں پی ٹی آئی 2013 میں اقتدار میں آئی اور اس وقت صوبے کے قرضوں کا کل حجم تقریباً 97 ارب روپے تھا تاہم اب واجب الادا قرضے 331 ارب روپے تک پہنچ گئے ہیں۔
تاہم صوبائی وزیر خزانہ تیمور سلیم جھگڑا سمجھتے ہیں کہ قرضہ لینا کسی بھی صوبے کی ترقی کے لیے اچھا اقدام ہے۔ انہوں نے بتایا کہ بڑے منصوبوں کے لیے بڑے قرضے لینے پڑتے ہیں اور صوبائی حکومت اگر یہ منصوبے اپنے پیسوں سے کریں تو ان منصوبوں کو اپنے پیسوں سے برقرار رکھنا بھی مشکل ہوتا ہے اور یہی وجہ ہے کہ حکومتیں ایسے منصوبوں کے لیے قرضے لیتی ہیں۔
تاہم معاشی تجزیہ کار کے پی حکومت کی جانب سے نو برس کے دوران حاصل کیے گئے قرضوں کو ایک خطرناک بوجھ قرار دیتے ہیں۔ ان کا کہنا یے کہ حکومتیں اس قابل ہونی چاہییں کہ وہ قرضے لیں لیکن اس میں ضروری بات یہ ہے، کہ یہ قرضے کس مد میں اور کن شرائط پر لیے جاتے ہیں کیونکہ اصل مسئلہ ان قرضوں کی واپسی کا ہوتا ہے۔
