عامر لیاقت کی موت کا اصل راز کھلنے کا امکان پیدا ہو گیا

کراچی کی ایک مقامی عدالت کی جانب سے عامر لیاقت حسین کی قبر کشائی اور پوسٹ مارٹم کے حکم نے ان خدشات کو تقویت دی ہے کہ ان کی اچانک اور پرسرار موت غیر فطری بھی ہو سکتی ہے، اس خدشے کا اظہار ان کی تدفین سے پہلے بھی کیا جارہا تھا لیکن ان کے بیٹے اور بیٹی نے پوسٹ مارٹم کرنے کی اجازت نہ دی اور ایک عدالتی حکم نامہ بھی حاصل کر لیا۔ عامر لیاقت کے بچوں کا موقف تھا کہ وہ اپنے والد کی لاش کی بے حرمتی نہیں کروانا چاہتے لیکن عدالتی فیصلے کے بعد اب ان کی لاش کو قبر سے نکال کر پوسٹ مارٹم کرنا ہو گا۔ عدالتی حکم کا بنیادی مقصد ہی یہ طے کرنا ہے کہ کیا عامر لیاقت کی اچانک موت کے پیچھے جائیداد سے متعلقہ کوئی معاملہ تو نہیں تھا؟
18 جون کو کراچی کی عدالت میں عامر لیاقت حسین کی قبر کشائی اور پوسٹ مارٹم سے متعلق دائر کردہ درخواست پر جوڈیشل مجسٹریٹ شرقی وزیر حسین میمن نے سماعت کی۔اس دوران سرکاری وکیل سجاد علی دشتی نے دلائل دیتے ہوئے کہا کہ مرحوم کے ورثا پوسٹ مارٹم کرانا نہیں چاہتے، وہ کہتے ہیں کہ پوسٹ مارٹم کرانے سے ان کے والد کی روح کو تکلیف پہنچے گی، ان کا مذید کہنا ہے کہ ہمیں کسی پر شک بھی نہیں ہے۔ عدالت نے فریقین کے دلائل سننے کے بعد مختصر حکم نامے میں عامر لیاقت کے پوسٹ مارٹم کا حکم دے دیا، اس حوالے سے تفصیلی حکم نامہ تاحال جاری نہیں کیا گیا۔ واضح رہے کہ عامر لیاقت حسین کی وفات کی وجہ جاننے کے لیے قبر کشائی اور پوسٹ مارٹم کے لیے ایک خصوصی بورڈ تشکیل دینے کی درخواست دائر کی گئی تھی۔ کرمنل پراسیجر کوڈ 1898 کی دفعہ 174 اور 176 کے تحت عدالت میں دائر درخواست میں متوفی عامر لیاقت کی قبر کشائی اور پوسٹ مارٹم کرانے کی استدعا کی گئی تھا تاکہ مقتول کی موت کی اصل وجہ دریافت کی جا سکے۔
کراچی کے ایک شہری عبدالاحد خان کی جانب سے بیرسٹر ارسلان راجا کے ذریعے دائر کردہ درخواست میں کہا گیا تھا کہ مرحوم عامر لیاقت حسین کی پراسرار اور اچانک موت نے کراچی کے شہریوں میں ان شبہات کو جنم دیا ہے کہ کسی نے جائیداد کے تنازع پر ان کا قتل کیا ہے اور اسی لئے پوسٹمارٹم کی اجازت بھی نہیں دی گئی۔ درخواست میں استدعا کی گئی تھی کہ عامر لیاقت حسین کی قبر کشائی اور پوسٹ مارٹم کیا جائے کیونکہ موت کی حقیقی وجہ سامنے آنا ضروری ہے۔
درخواست میں مزید کہا گیا تھا کہ ڈائریکٹر جنرل ہیلتھ سندھ کو ہدایت دی جائے کہ وہ ایک خصوصی میڈیکل بورڈ تشکیل دیں جو مرحوم کی موت کی اصل وجہ معلوم کرنے کے لیے قبرکشائی کرے اور پوسٹ مارٹم کروائے۔
درخواست میں مزید استدعا کی گئی تھی کہ ڈائریکٹر جنرل صحت سندھ کو ہدایت دی جائے کہ وہ میت کے نمونے پنجاب فرانزک سائنس ایجنسی لاہور کو بھجوائے تاکہ اسٹرنگولیشن فارنزک ایگزامینیشن، فرانزک پیتھالوجی، ٹریس کیمسٹری اور ہسٹولوجیکل ایگزامینیشن کروایا جائے۔
اس سے پہلے عامر لیاقت کے ورثا کی درخواست پر کراچی کی ایک عدالت نے پوسٹ مارٹم نہ کروانے کا حکم دیا تھا اور کہا تھا کہ ان کے جسم کا صرف بیرونی معائنہ کیا جائے۔ پولیس رپورٹ میں کہا گیا تھا کہ پولیس سرجن کے مطابق جب تک مرحوم کے جسم کا اندرونی جائزہ نہیں لیا جاتا اور پوسٹ مارٹم نہیں کروایا جاتا تب تک موت کی وجوہات معلوم نہیں ہو سکتیں۔ تدفین سے قبل سندھ پولیس نے چھیپا ویلفیئر کو عامرلیاقت کی میت ورثا کے حوالے نہ کرنے سے متعلق خط لکھا تھا۔ یہ خط چھیپا کے سرد خانے کے انچارج کے نام لکھا گیا تھا جس میں کہا گیا تھا کہ کہ عامرلیاقت کی میت کسی کےحوالے نہ کی جائے۔ پولیس نے کہا تھا کہ لاش امانت کے طور پر آپ کے سرد خانے کےسپرد کی گئی ہے، اور اسے بریگیڈ تھانے کا عملہ وصول کرے گا، لہٰذا اسے کسی اور کے حوالے نہ کی جائے، پولیس کی جانب سے یہ بھی کہا گیا تھا کہ میت کسی اور کو دی گئی تو قانونی کارروائی عمل میں لائی جائے گی۔
تاہم عامر لیاقت کے خاندان نے پوسٹ مارٹم کروانے سے انکار کردیا تھا اور ایک عدالتی حکم بھی حاصل کرلیا تھا جس کے بعد ان کی میت کو ان کے خاندان کے حوالے کردیا گیا۔ چاچی ان کا پوسٹ مارٹم کروائے بغیر ہی تدفین کر دی گئی تھی۔ خیال رہے کہ عامر لیاقت حسین 10 جون کو 50 برس کی عمر میں کراچی میں پراسرار حالات میں انتقال کر گئے تھے۔ ان کی موت کے بعد ان خدشات کا اظہار کیا گیا تھا کہ یا تو انہوں نے خودکشی کی ہے، یا ان کو ہارٹ اٹیک ہوا تھا یا پھر انہیں قتل کیا گیا ہے۔ لہذا اب پوسٹمارٹم سے ہی اصل حقیقت سامنے آسکے گی۔
