گلگت میں تیر چلے گا، شیر دھاڑے گا یا جھرلو پھرے گا؟

گلگت بلتستان میں حکومت اور اپوزیشن جماعتوں نے اپنی اپنی انتخابی مہم تقریبا مکمل کر لی ہے لیکن اب تک واضح طور پر نہیں کہا جاسکتا کہ 15 نومبر کے روز الیکشن کا نتیجہ کیا نکلے گا۔ وثوق سے نہیں کہا جا سکتا کہ گلگت کے الیکشن میں تیر نشانے پر لگے گا، شیر دھاڑے گا یا پھر 2018 کی طرح جھرلو پھر جائے گا اوربلا اپنا کام دکھائے گا۔ تاہم ایک بات جو گلگت کے عوام تسلیم کر رہے ہیں وہ یہ کہ بلاول بھٹو نے گلگت میں اب تک سب سے پر زور اور پر اثر انتخابی مہم چلائی ہے اور اپنی تقاریر میں بنیادی طور پر گلگت کی عوام کے مسائل اور ایشوز پر فوکس کرتے ہوئے تبدیلی کے لیے ووٹ مانگا۔ مریم نواز کی انتخابی مہم کے حوالے سے گلگت کے عوام کا کہنا ہے کہ انہوں نے اسکا آغاز کافی تاخیر سے کیا کیا لیکن انہوں نے عوام کے مسائل پر توجہ دینے کی بجائے صرف سیاسی بات کی اور ووٹ مانگنے کی بجائے ووٹ نہ دینے کی مہم چلاتی ہوئی دکھائی دیں۔ یاد رہے کہ مریم نواز نے اپنی گلگت کی انتخابی مہم کے دوران عوام کو سیاسی وفاداریاں بدلنے والے لوٹوں کو ووٹ نہ دینے کی تلقین کی۔ دوسری طرف گلگت کی انتخابی مہم میں حکومتی چہرہ ایک بیہودہ اور واحیات وفاقی وزیر تھا جسکا نام علی امین گنڈاپور ہے۔ اس بد زبان وزیر نے گلگت کی مہم کے دوران پوری طرح اپنے لیڈر کی نمائندگی کی اور وہی گندی زبان استعمال کی جو خان صاحب اپنے سیاسی مخالفین کی بہنوں اور بیٹیوں کے لئے استعمال کرتے چلے آئے ہیں۔
تاہم ضروری نہیں ہے کہ گلگت میں انتخابی مہم کے دوران لوگوں کی بڑی تعداد کی اپوزیشن کے جلسوں میں شرکت سے یہ تاثر لیا جائے حکومت بھی شاید اپوزیشن کی کوئی جماعت ہی بنائے گئی۔ یہ پہلا موقع ہے کہ انتخابی مہم کے دوران گلگت میں امیدواروں کو آرمی چیف کی تصویر والے پوسٹرز استعمال کرنے سے منع کر دیا گیا تھا اور الیکشن والے دن فوج پولنگ کے عمل کی نگرانی نہیں کرے گی۔ لیکن آزاد کشمیر کی طرح گلگت میں بھی یہ روایت رہی ہے کہ جس جماعت کی وفاق میں حکومت ہوتی ہے وہی گلگت میں بھی الیکشن جیتتی ہے۔ اب دیکھنا یہ ہے کہ کیا 15 نومبر کے الیکشن اپوزیشن کی کوئی جماعت جیتتی ہے یا ماضی کی روایت برقرار رکھتے ہوئے پی ٹی آئی الیکشن میں کامیابی حاصل کرتی ہے۔ دونوں اپوزیشن جماعتوں کا یہ کہنا ہے کہ اگر الیکشن صاف اور شفاف ہوئے تو پی ٹی آئی کے اقتدار میں آنے کا کوئی امکان نہیں ہے۔ سیاسی تجزیہ نگاروں کے خیال میں اگر الیکشن میں کسی قسم کی کوئی مداخلت نہ ہو تو ایسا نظر آتا ہے کہ شاید پیپلزپارٹی گلگت میں اگلی حکومت قائم کرے گی۔
مجموعی طور پر بات کی جائے تو گلگت بلتستان کی عوام میں الیکشن سے قبل مایوسی بھی ہے اور امید بھی۔ کوئی دل و جان سے پیپلز پارٹی کا سپورٹر ہے، کوئی مسلم لیگ ن کا ’پکا ووٹر‘ ہے اور کوئی پی ٹی آئی کی حمایت کر رہا ہے۔ گلگت بلتستان خشک، پتھریلا اور ریتلا خطہ ہے مگر یہ سیاحوں کے لیے مقناطیسی کشش رکھتا ہے۔ یہاں فلک شگاف پہاڑی سلسلوں میں گھری وسیع و عریض وادیاں ہیں۔ جھیلیں، دریا، صحرا، باغات اور برف سے ڈھکی دنیا کی بلند ترین چوٹیاں بھی یہیں ہیں۔ یہ خطہ دنیا بھر کے سیاحوں کی منزل تو رہتا ہی ہے مگر آج کل سیاستدانوں کی توجہ بھی اسی خطے پر مرکوز ہے۔ انتخابی سرگرمیاں عروج پر ہیں۔ ہر جماعت کے امیدوار نئے نئے وعدوں کے ساتھ گھر گھر جا کر ووٹ مانگ رہے ہیں، مگر یہاں بسنے والے محرومیوں اور مشکلات میں گھرے ہیں۔
گلگت بلتستان میں اسمبلی کی 33 میں سے 24 نشستوں کے لیے تین سو سے زائد امیدوار انتخابی میدان میں ہیں جبکہ آئندہ انتخابات میں سات لاکھ سے زیادہ ووٹرز اپنا حق رائے دہی استعمال کریں گے۔ پیپلز پارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری کئی ہفتوں سے گلگت بلتستان کے دور دراز علاقوں میں مہم چلا رہے ہیں، حکمراں جماعت تحریک انصاف نے امور کشمیر کے وزیر امین گنڈاپور کو یہاں بھیجا ہوا ہے۔
انتخابی سرگرمیوں میں پیپلز پارٹی سب سے زیادہ متحرک نظر آتی ہے، تاہم مقامی سیاسی پنڈتوں کے بقول بظاہر پاکستان کے دیگر حصوں میں حکومت اور اسٹیبلیشمنٹ کو للکارتی مسلم لیگ ن اس وقت یہاں ایک کمزور پوزیشن میں دکھائی دیتی ہے۔ اور اسی کمزور پوزیشن کو بہتر بنانے کے لیے خود مریم نواز شریف یہاں پہنچیں۔
بیشتر علاقوں کی خواتین سیاسی لحاظ سے خاصی سرگرم ہیں۔ گلگت میں پیپلز پارٹی کے ویمن کنونشن میں شریک ایک خاتون سعدیہ نے بتایا کہ وہ اس لیے ووٹ دینے کے لیے ’پُرجوش‘ ہیں کیونکہ اب سیاسی جماعتوں میں ’نوجوان امیدوار آگے آ رہے ہیں، جو یونیورسٹیوں سے تعلیم یافتہ ہیں اور آج کے نوجوانوں کے مسائل اور مطالبات کو سمجھتے ہیں، خاص طور پر سوشل میڈیا کے دور میں اب بہت کچھ پہلے جیسا نہیں رہا۔‘
گلگت کے مرکزی بازار میں مسلم لیگ ن کی انتخابی مہم کے لیے بنے دفتر کے باہر موجود ایک نوجوان قاسم کا کہنا تھا کہ وہ بھی آج کل گلگت کے ہزاروں نوجوانوں کی طرح انتخابات اور انتخابی گہری سرگرمیوں پر نظر رکھے ہوئے ہیں۔ وہ سمجھتے ہیں کہ اب کوئی بھی سیاسی جماعت تعلیم یافتہ نوجوانوں کو جھوٹے وعدوں اور کھوکھلے دعوؤں سے نہیں بہکا سکتی۔ قاسم کا کہنا تھا کہ ’الیکشن میں ہر پارٹی آتی ہے اور اپنے نعرے اور ایجنڈا دیتی ہے۔ یہ تو نوجوانوں نے فیصلہ کرنا ہے کہ کس کو ووٹ دینا ہے کیونکہ ان سب کو آزمایا ہوا تو ہے۔‘ وہ کہتا ہے کہ اس بار وہ مسلم لیگ ن کو ووٹ دیں گا اور اس کی وجہ وہ مریم نواز کا حکومت کے خلاف اعلان جنگ بتاتا ہے۔ اسکا کہنا تھا کہ ’وفاق میں حکومت نے ایک کروڑ نوکریوں کے وعدے کیے تھے۔ مگرجو نوکریوں والے تھے، اب وہ بھی بیروزگار ہیں۔ یعنی نوجوانوں کو تو پھر دیوار سے لگا دیا گیا ہے، ن لیگ کی حکومت کو بھی آزمایا ہوا ہے۔ تو ابھی آنے والے دنوں میں دیکھتے ہیں، میرے خیال میں تو جو نوجوانوں کے لیے آواز اٹھائیں گے، ہم انھی کے ساتھ ہوں گے چاہے وہ کسی بھی سیاسی جماعت سے ہوں۔‘
دوسری طرف یہاں پاکستان تحریک انصاف کی مہم بھی جوش و خروش سے جاری ہے۔ اس بارے میں رائے یہ ہے کہ پی ٹی آئی کو ووٹ دینے سے علاقے کو فنڈز ملیں گے اور ترقیاتی منصوبے آگے بڑھیں گے۔ یہاں روایت رہی ہے کہ جو جماعت وفاق میں حکومت کر رہی ہو اس جماعت کو یہاں زیادہ ووٹ ملتے ہیں اور وہ گلگت بلتستان میں حکومت قائم کرتی ہے۔ زمرد خان نامی ایک مقامی شخص، جو بازار میں دکان چلاتے ہیں، کہتے ہیں کہ ’اپوزیشن کو تو یہاں کام کرنے کے لیے کوئی فنڈنگ ہی نہیں دے گا نہ ان کی کوئی سنے گا۔‘
یہاں مقامی سطح پر بجلی، بے روزگاری، تعلیم، انفراسٹرکچر اور سب سے بڑھ کر صحت کے مسائل ہیں۔ مگر تجزیہ کار سمجھتے ہیں کہ بیشتر سیاسی جماعتوں کے منشور اور تقاریر میں ان عوامی مسائل پر بات نہیں کی جا رہی۔ گلگت میں سینیئر صحافی شبیر میر کا کہنا تھا کہ گلگت بلتستان میں اسی کی حکومت بنتی ہے جس کی وفاق میں حکومت ہو، ’حتی کہ سیاستدان بھی یہی دیکھتے ہیں کہ وفاق میں کس کی حکومت ہے تاکہ یہ اس پارٹی کو جوائن کر لیں۔‘
خیال رہے کہ مسلم لیگ کے نصف درجن سے زائد رہنماؤں نے انتخابات سے پہلے ن لیگ کو خیرباد کہا ہے اور ان میں سے بعض نے پاکستان تحریک انصاف میں شمولیت اختیار کر لی ہے جبکہ بعض آزاد امیدوار کے طور پر الیکشن لڑ رہے ہیں۔ پی ٹی آئی میں شامل ہونے والوں میں مسلم لیگ ن کے موجود گلگت بلتستان اسمبلی کے سپیکر بھی شامل ہیں۔ اور شاید اسی لیے مریم نواز نے ایسے تمام لوگوں کے خلاف انتخابی مہم میں بار بار لوٹوں کا لفظ استعمال کیا اور یہ بھی کہا کہ ان کی جگہ اسمبلی میں نہیں بلکہ غسل خانوں میں ہے۔
شبیر میر کہتے ہیں کہ ’پی ایم ایل این کا ’ووٹ کو عزت دو‘ کا نعرہ ٹاؤن ایریاز میں لوگوں کو متوجہ کر رہا ہے، بہت بڑی تعداد میں تو نہیں، مگر بہرحال ہم نے سوشل میڈیا پر دیکھا ہے کہ لوگ اس نعرے کو فالو کر رہے ہیں۔ مگر پی ٹی آئی کا تبدیلی والا بیانیہ یہاں نظر نہیں آ رہا کیونکہ وہ پاکستان میں پِٹ چکا ہے۔‘ ان کے مطابق اس وقت پیپلزپارٹی مضبوط جماعت کے طور پر سامنے آئی ہے اور اس کی بڑی وجہ بلاول بھٹو کی یہاں موجودگی ہے۔
’یہاں بعض علاقوں میں سخت سردی ہے اور درجہ حرارت نقطہ انجماد سے بھی نیچے ہے، بلاول ان جگہوں پر بیٹھے ہوئے ہیں۔ اور ان کے جلسوں میں کتنے لوگ اکٹھے ہو رہے ہیں، یہ بھی ایک بڑا انڈیکیٹر ہے۔ بہت لوگ آتے ہیں اور ان علاقوں میں جہاں گرمیوں میں بھی اتنے لوگ باہر نہیں نکلتے، اس ٹھنڈے موسم میں جب وہ نکلتے ہیں تو اس کا مطلب ہے کہ وہ بلاول کو سنجیدگی سے لے رہے ہیں۔ اور یہاں اس وقت پی ٹی آئی کو کوئی چیلنج ہے تو وہ پیپلزپارٹی اور بلاول ہی ہیں۔‘
مسلم لیگ ن سے تعلق رکھنے والے سابق چیف منسٹر کہتے ہیں کہ ان کی جماعت کو یہاں انتخابی مہم چلانے میں بے شمار مسائل کا سامنا ہے۔ وہ کہتے ہیں ’شہباز شریف کو عین اس وقت نیب نے گرفتار کیا جب انھوں نے گلگت بلتستان میں انتخابی مہم چلانے کا اعلان کیا۔ اس گرفتاری نے نہ صرف یہاں مورال ڈاؤن کیا بلکہ ہمارے کئی اہم لوگ پی ٹی آئی کا حصہ بن گئے۔ انکا کہنا ہے کہ فوجی اسٹیبلیشمنٹ یہاں قبل از انتخاب دھاندلی کر رہی ہے، حکومتی جماعت کو جتوانے کے لیے لوگ توڑے جا رہے ہیں، ووٹ بینک توڑے جا رہے ہیں۔ یہاں تک کہ پوسٹل بیلٹ کے نام پر ایک بڑی دھاندلی کی جا رہی ہے۔‘
مگر اسٹیبلیشمنٹ ان الزامات کی تردید کرتی ہے اور کسی بھی سیاسی جماعت کی طرفداری کے الزام کو ہمیشہ مسترد کرتی رہی ہے۔ حال ہی میں مسلم لیگ ن کے سینیئر رہنما احسن اقبال نے انٹیلیجنس بیورو یعنی آئی بی پر الزام لگایا تھا کہ وہ ان کے امیدوار توڑنے میں ملوث ہے۔
اب چیف الیکشن کمشنر نے امیدواروں کو پاکستانی فوج کے سربراہ سمیت کسی فوجی افسر کی تصویر انتخابی مہم میں استعمال کرنے سے منع کیا ہے۔ دوسری جانب مقامی سپریم کورٹ نے بھی احکامات جاری کیے کہ تمام پبلک آفس ہولڈرز جن میں وفاقی وزرا بھی شامل ہیں گلگت بلتستان سے 72 گھنٹوں میں چلے جائیں اور انتخابی مہم نہ چلائیں۔ لیکن عدالت کی طرف سے دیا گیا وقت ختم ہونے کے باوجود تمام حکومتی لیڈران گلگت میں موجود ہیں اور انتخابی مہم چلا رہے ہیں۔
