گوادر کا سمندر بانجھ کیے جانے پر ماہی گیروں کا احتجاج

بلوچستان کے ساحلی ضلع گوادر کے ماہی گیروں نے اپنی مسلسل حق تلفیوں سے تنگ آ کر حکومت کے خلاف ’گوادر کو حق دو‘ تحریک شروع کر دی ہے جسے گوادر کی تاریخ کی سب سے بڑی احتجاجی سرگرمی قرار دیا جا رہا ہے۔
یاد رہے کہ گوادر کی ایک بڑی آبادی کا ذریعہ روزگار ماہی گیری ہے، لیکن باہر سے آنے والے ٹرالروں اور کشتیوں کی غیر قانونی ماہی گیری نے گوادر کے علاقے میں سمندر کو بانجھ بنا دیا ہے جس کے باعث ماہی گیروں کا معاش اس قدر متاثر ہوا ہے کہ اب اُن کے گھروں میں فاقہ کشی شروع ہوچکی ہے۔ گوادر کے باسیوں کا کہنا ہے کہ انہیں ماضی میں گوادر کو سنگاپور بنانے کے سہانے خواب دکھائے گئے لیکن آج کوئی آ کر دیکھے یہاں کیا ہو رہا ہے، مقامی ماہی گیروں سے انکا معاش اور روزگار بھی چھین لیا گیا ہے۔
اس وقت گوادر کے ماہی گیروں کو جو سب سے بڑا مسئلہ درپیش ہے وہ سندھ سے آنے والے ٹرالرز ہیں۔ یہ ٹرالر درجنوں میں نہیں بلکہ سینکڑوں کی تعداد میں آتے ہیں۔ پھر واٹرنیٹ نامی جو جال یہ ٹرالر استعمال کرتے ہیں انکا استعمال بلوچستان کی سمندری حدود میں ممنوع ہے کیونکہ 12 ناٹیکل کے حدود میں ان جالوں کے ذریعے ماہی گیری نہیں بلکہ مچھلیوں کی نسل کشی ہوتی ہے۔ واٹر نیٹ نامی جال سب کچھ صاف کر دیتے ہیں حتیٰ کہ مچھلیوں کی پناہ گاہوں کو بھی تباہ کر دیتے ہیں جس کے نتیجے میں اگر کوئی مچھلی شکار سے بچ بھی جائے وہ اس علاقے میں رکتی نہیں بلکہ نقل مکانی کر جاتی ہے۔ مسئلہ یہ ہے کہ واٹرنیٹ سمندر کی تہہ تک جاتا ہے اور اس کی مثال بلڈوزر کی طرح ہے جس کے سامنے آنے والی کوئی چیز نہیں بچتی۔ اگر یہ ٹرالر غیرقانونی جال استعمال نہیں کرتے تو شاید گوادر کے ماہی گیر زیادہ پریشان نہیں ہوتے لیکن چونکہ یہ جال سمندری ماحول تک کو متاثر کرتا ہے، اس لیے گوادر کے ماہی گیر سمجھتے ہیں اُن کے معاش کا ذریعہ تباہ ہو رہا ہے۔
دوسری جانب محکمہ فشریز کے حکام کا کہنا ہے کہ ضلع گوادر میں بلوچستان کی سمندری حدود میں ٹرالروں کے ذریعے غیر قانونی ماہی گیری ایک بڑا مسئلہ ہے لیکن اس کی روک تھام کے لیے اقدامات کیے جا رہے ہیں۔ بلوچستان میں حکمران جماعت کے ترجمان اور صوبائی وزیر سردار عبدالرحمان کھیتران کا کہنا ہے کہ ایران سے آنے والی اشیا اور دیگر مسائل کے حوالے سے گوادر سمیت مکران کے لوگوں کو جن مشکلات کا سامنا ہے ان کو دور کیا جا رہا ہے۔
گوادر میں گذشتہ کئی سالوں سے مختلف مسائل کے حوالے سے احتجاج کا سلسلہ جاری ہے لیکن رواں سال ان میں شدت آئی ہے۔ دو، تین ماہ قبل کوسٹل ہائی وے پر دھرنا دیا گیا جس میں یہ اعلان کیا گیا کہ اگر گوادر کے عوام کے مطالبات کو تسلیم نہیں کیا گیا تو گوادر میں احتجاجی ریلی نکالی جائے گی جس میں آئندہ کے لائحہ عمل کا اعلان کیا جائے گا۔
’گوادر کو حق دو‘ تحریک کے زیر اہتمام چند روز قبل ایک بڑی احتجاجی ریلی نکالی گئی جس میں مطالبات تسلیم نہ ہونے کی صورت میں 15 نومبر سے دھرنے کا اعلان کیا گیا تھا۔ اسی شیڈول کے مطابق 15 نومبر کو پورٹ روڈ پر دھرنے کا آغاز کر دیا گیا۔ دھرنے کے شرکا کے اہم مطالبات میں بلوچستان کی سمندری حدود میں ٹرالروں کی غیر قانونی ماہی گیری کو روکنا، ایران سے آنے والی اشیا کی آمد کی راہ میں رکاوٹوں کا خاتمہ اور قانون نافذ کرنے والے اداروں اور سکیورٹی فورسز کی ان چیک پوسٹوں کا خاتمہ ہے جن سے مقامی لوگ اور ماہی گیر مشکلات کا سامنا کرتے ہیں۔ دھرنے میں شامل جماعت اسلامی کے مولانا ہدایت الرحمان نے بتایا کہ اگرچہ ٹرالروں کے ذریعے غیر قانونی ماہی گیری سے گوادر کے ماہی گیروں کو مسائل درپیش ہیں لیکن ایران سے آنے والے تیل اور خوردنی اشیا کی آمد پر سختی کی وجہ سے پورا مکران متاثر ہوا ہے۔ مولانا ہدایت الرحمان کا کہنا یے کہ ہمارا اصل مطالبہ یہ ہے کہ ہمارے معاش کو بچایا جائے اور اس غرض سے ٹرالروں کو سمندری حدود میں آنے سے روکا جائے۔ گوادر سمیت مکران کے دیگر علاقوں میں لوگوں کے معاش اور روزگار کا انحصار ماہی گیری اور ایران سے آنے والی اشیا پر لیکن مختلف حربوں کے ذریعے ان کو ختم کیا جا رہا ہے۔ مولانا ہدایت نے کہا کہ جب تک ماہی گیروں کے تمام بڑے مطالبات تسلیم نہیں کیے جاتے اس وقت تک دھرنا ختم نہیں کیا جائے گا۔
دھرنے میں شامل بہت سے ماہی گیروں نے بتایا کہ اس صورتحال کی وجہ سے ان کے گھروں میں نوبت فاقوں تک آ گئی ہے۔ انکا کہنا یے کہ مناسب حکومتی انتظامات نہ ہونے کی وجہ سے بلوچستان میں ماہی گیری پہلے بھی بہت زیادہ منافع بخش کاروبار نہیں تھا لیکن گذشتہ تین چار سال سے ان ٹرالروں کی وجہ سے ماہی گیر عید کے مواقع پر بھی نئے کپڑے خریدنے کی بھی سکت نہیں رکھتے۔ ماہی گیر بتاتے ہیں کہ سندھ سے آنے والے ٹرالر سال میں جتنا نقصان کرتے ہیں چینی ٹرالر وہ نقصان دو ماہ میں کرتے ہیں۔ انھوں نے بتایا کہ سمندر بانجھ ہونے کی وجہ سے ماہی گیر خودکشی پر مجبور ہیں کیونکہ اب تک علاقے میں ماہی گیری کی 13 مقامی کمپنیاں بند ہونے سے سینکڑوں محنت کش اپنے روزگار سے ہاتھ دھو بیٹھے ہیں۔
