ہائوسنگ اتھارٹی کا ہائیکورٹ فیصلے کیخلاف سپریم کورٹ سے رجوع

فیڈرل سوشل ہاؤسنگ سروس فار ایمپلائز (FGEHA) اور اس کے جنرل ڈائریکٹر سے بے گھر افراد کو رہائش فراہم کرنے اور حاصل شدہ جائیدادوں کی ترقی کو روکنے کے لیے قانونی کارروائی کے خلاف قانونی تحفظ کے لیے درخواست۔ درخواستیں سپریم کورٹ کو بھجوا دی گئیں۔
سپریم کورٹ کی تین رکنی جیوری جس کی سربراہی جج عمر عطا بندیال کریں گے، جس میں جج سجاد علی شاہ اور جج سید منصور علی شاہ شامل ہیں، آج درخواست پر غور کریں گے۔ اسمبلی کی نمائندگی جنرل منیجر کے مشیر محمد اکرم شیخ گاگا اور محمد منیر پراچہ کر رہے ہیں۔
درخواست گزاروں نے اسلام آباد سپریم کورٹ کے 20 اگست کے فیصلے کو معطل کرنے کا مطالبہ کیا جس میں اسلام آباد سپریم کورٹ اور ضلعی عدالتوں کے موجودہ اور سابق ججوں کو اراضی کی منتقلی کو کالعدم قرار دیا جائے۔ اسلام آباد ہائی کورٹ نہ صرف اس کیس کو مزید غور کے لیے ایک بڑی عدالت میں لے گئی بلکہ اس بات پر حیران ہوا کہ مقامی عدالتوں نے اسلام آباد میں F-14 اور F-15 ڈویژن کے حصے تفویض کرنے کے لیے درحقیقت قرعہ اندازی کی۔ ہر افسر اس سے مستفید ہوتا ہے۔
تاہم، سپریم کورٹ نے فیصلہ دیا کہ یہ مقدمہ مفادات کا ٹکراؤ تھا کیونکہ لاٹ مارکیٹ کی قیمت سے بہت کم قیمت پر دیے گئے تھے۔ ایف جی ای ایچ اے اور اس کے ڈائریکٹر جنرل نے اپیل کی کہ سپریم کورٹ آئین کے آرٹیکل 199 کے تحت اپنے دائرہ اختیار کا استعمال نہیں کر سکتی اور مئی تک فیصلے کا اطلاق نہیں کر سکتی، جب زخمی فریق اپیل کرے گا۔
اپیل میں کہا گیا ہے کہ اسلام آباد سپریم کورٹ کے روبرو مدعیوں نے اراضی کے حصول پر اعتراض نہیں کیا لیکن سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ کیا یہ زمین ایف جی ای ایچ اے کے فائدے کے لیے حاصل کی جا سکتی ہے اور حاصل شدہ اراضی حکام کو کون منتقل کر سکتا ہے۔ سابقہ لاٹ تفویض کرنے کے اہل ہیں۔
مقدمے میں یہ بھی الزام لگایا گیا ہے کہ اسلام آباد ہائی کورٹ کے 20 اگست کے فیصلے میں ایسے سوالات اٹھائے گئے جو مدعی کی طرف سے نہیں پوچھے گئے اور نہ ہی اس مقدمے میں کوئی مشاورت کی گئی۔ یہ خود ارادیت کی طرف بھی واپس جاتا ہے۔ وہ اسلام آباد سپریم کورٹ میں نہیں ہیں۔
مدعیان نے دلیل دی کہ عدالت زخمی فریق یا کسی دوسرے شخص کو برطرف کرنے کے لیے اپنے رول 199 کے دائرہ اختیار کا استعمال نہیں کر سکتی کیونکہ اسلام آباد سپریم کورٹ کی طرف سے اٹھائے گئے تمام ایشوز کو بڑی سپریم کورٹ کو بھیج دیا گیا تھا۔ ایک معاہدہ طے پایا کہ 20 اگست کا عدالتی فیصلہ ناقابل قبول تھا۔
درخواست میں الزام لگایا گیا ہے کہ سپریم کورٹ کے فیصلے نے اسلام آباد اور دیگر شہروں میں ایف جی ای ایچ اے کے معاہدوں اور اسائنمنٹس کے بارے میں تشویش کا اظہار کیا۔ اس کیس کا فیصلہ عدالتی فیصلے کے آئینی مقصد کے مطابق اور اس میں شامل فریقین کو متاثر کیے بغیر ہونا چاہیے، تاکہ FGEHA بغیر کسی رکاوٹ اور رکاوٹ کے اپنا کام جاری رکھ سکے۔
فیڈرل گورنمنٹ ایمپلائیز ہاؤسنگ اتھارٹی (ایف جی ای ایچ اے) اور اس کے ڈائریکٹر جنرل کی جانب سے ’بے گھر افراد کو رہائش فراہم کرنے کے قانونی کاموں کو انجام دینے اور حاصل شدہ اراضی کی ترقی میں رکاوٹوں‘ کے خلاف عدالتی تحفظ حاصل کرنے کے لیے سپریم کورٹ میں درخواستیں دائر کردی گئیں۔
جسٹس عمر عطا بندیال کی سربراہی میں جسٹس سجاد علی شاہ اور جسٹس سید منصور علی شاہ پر مشتمل سپریم کورٹ کا 3 رکنی بینچ ان درخواستوں پر آج سماعت کرے گا ، دورانِ سماعت محمد اکرم شیخ ایف جی ای ایچ اے کی نمائندگی کریں گے اور محمد منیر پراچہ ڈائریکٹر جنرل کے وکیل ہوں گے۔
درخواست گزاروں نے عدالت عظمیٰ سے اسلام آباد ہائی کورٹ کا 20 اگست کا حکم کالعدم قرار دینے کی استدعا کی ہے جس میں اسلام آباد ہائی کورٹ اور ضلعی عدالتوں کے حاضر اور سابق ججز کو پلاٹوں کی الاٹمنٹس معطل کردی گئی تھی۔
اسلام آباد ہائی کورٹ نے نہ صرف معاملہ مزید سماعت کے لیے لارجر بینچ کے سامنے پیش کیا بلکہ اس بات پر بھی حیرت کا اظہار کیا کہ اسلام آباد کے ایف-14 اور ایف-15 سیکٹرز میں پلاٹوں کی الاٹمنٹ کی قرعہ اندازی میں ورچوئلی ضلعی عدالتوں کا ہر جوڈیشل افسر مستفید ہونے والا تھا۔
تاہم ہائی کورٹ نے اسے مفادات کے تصادم کے طور پر دیکھا کیونکہ پلاٹ مارکیٹ کی قیمتوں سے کافی کم قیمت پر دیے گئے تھے۔مزید برآں فہرست میں کچھ ایسے عدالتی افسران کے نام بھی شامل تھے جنہیں بداخلاقی یا بدعنوانی کی وجہ سے برطرف کردیا گیا تھا۔
ایف جی ای ایچ اے اور اس کے ڈائریکٹر جنرل کی طرف سے دائر کی گئی اپیلوں میں استدلال کیا گیا کہ ہائی کورٹ، آئین کی دفعہ 199 کے تحت ازخود دائرہ اختیار کا استعمال نہیں کر سکتی اور وہ اس دفعہ کو صرف اس صورت میں استعمال کر سکتی ہے جب کوئی متاثرہ فریق اپیل دائر کرے۔
اپیلوں میں کہا گیا کہ اسلام آباد ہائی کورٹ میں درخواست گزاروں نے اراضی کے حصول کو چیلنج نہیں کیا تھا بلکہ سوال یہ ہے کہ کیا ایف جی ای ایچ اے کے لیے اراضی حاصل کی جاسکتی ہے اور کون اتھارٹی کے لیے حاصل کی گئی زمین سے نکالے گئے پلاٹوں کی الاٹمنٹ کا اہل ہے۔
درخواست میں مزید کہا گیا کہ اسلام آباد ہائی کورٹ نے 20 اگست کے فیصلے سے وہ سوالات اٹھائے جنہیں درخواست گزار نے نہیں اٹھایا تھا اور نہ ہی اس معاملے پر کوئی رائے مانگی گئی تھی۔ساتھ ہی یہ بھی کہا گیا کہ یہ ازخود اختیار کے مترادف ہے جو اسلام آباد ہائی کورٹ کے پاس نہیں ہے۔
درخواست گزاروں نے دلیل دی کہ عدالت، دفعہ 199 کے تحت دائرہ اختیار کا استعمال کرتے ہوئے متاثرہ فریق یا کسی شخص کی شکایت سے تجاوز نہیں کر سکتی چونکہ اسلام آباد ہائی کورٹ کی جانب سے اٹھائے گئے تمام متنازع مسائل کو سپریم کورٹ کے ایک بڑے بینچ نے حل کر دیا تھا ، اس لیے عدالت کا 20 اگست کا حکم پائیدار نہیں تھا۔
درخواست میں مؤقف اختیار کیا گیا کہ ہائی کورٹ کے حکم سے اسلام آباد اور دیگر شہروں میں ایف جی ای ایچ اے کی اسکیموں اور الاٹیز میں تشویش کی لہر دوڑ گئی ہے۔ساتھ ہی استدعا کی گئی کہ یہ ضروری ہے کہ عوامی اہمیت کے حامل اس معاملے کا فیصلہ عدالتی فیصلے کی آئینی اسکیم کے مطابق اور اس میں شامل فریقین کے اثر و رسوخ کے بغیر ہو تاکہ ایف جی ای ایچ اے اپنا کام بلاتعطل اور بلارکاوٹ جاری رکھے۔
