یوم دفاع جوش و جذبے کے ساتھ منایا جا رہا ہے، شہداء کے مزاروں پر حاضری

ملک بھر میں خصوصی تقریبات کا انعقاد، مزار قائد اور مزار اقبال پر گارڈز کی تبدیلی کی پروقار تقریبات؛ شہداء اور غازیوں کو خراج عقیدت پیش کیا جا رہا ہے

اسلام آباد: 6 ستمبر 1965ء کا دن دفاع وطن کی تاریخ میں ایک اہم سنگ میل اور شہدائے وطن کی قربانیوں کی یاد تازہ کرنے کا دن ہے۔ ملک بھر میں یوم دفاع پاکستان آج بھرپور ملی جوش و جذبے کے ساتھ منایا جا رہا ہے۔

ملک بھر میں یوم دفاع کے سلسلے میں مختلف تقریبات کا انعقاد کیا جائے گا، جنگ ستمبر کے شہداء اور غازیوں کو زبردست خراج عقیدت پیش کیا جائے گا، جبکہ مزار قائد اور مزار اقبال پر گارڈز کی تبدیلی کی پروقار تقریبات بھی ہوں گی۔

6 ستمبر 1965ء کو بھارت نے پاکستان کی سرحدوں پر جارحیت کی کوشش کرتے ہوئے بیک وقت لاہور، سیالکوٹ اور قصور کے محاذوں پر حملہ کیا، تاہم پاک فوج کے بہادر جوانوں نے دشمن کے عزائم ناکام بناتے ہوئے بھرپور مزاحمت کی اور اسے پسپائی پر مجبور کر دیا۔

جنگ ستمبر کے دوران میجر عزیز بھٹی شہید نے بی آر بی نہر کے محاذ پر 5 روز تک دشمن کے ٹینکوں کو روکے رکھا اور دشمن کو ناکام بنانے کے بعد جام شہادت نوش کیا۔

پاک فضائیہ کے شاہینوں نے بھی شجاعت کی نئی مثالیں قائم کیں۔ سکواڈرن لیڈر ایم ایم عالم نے ایک منٹ سے بھی کم وقت میں دشمن کے 5 جنگی طیارے مار گرائے۔

جنگ 17 روز تک جاری رہی اور 23 ستمبر 1965ء کو جنگ بندی عمل میں آئی۔ بھارت اپنے مذموم مقاصد میں ناکام رہا اور پاکستان سرخرو ہوا۔

یوم دفاع کے موقع پر ملک بھر میں خصوصی تقریبات کا سلسلہ جاری ہے، جبکہ مزار قائد پر گارڈز کی تبدیلی کی پروقار تقریب بھی منعقد ہوئی۔

اس کے علاوہ اعلیٰ فوجی افسران نے نشان حیدر پانے والے لانس نائیک سوار محمد حسین شہید، لانس نائیک محمد محفوظ شہید، کیپٹن سرور شہید، میجر عزیز بھٹی شہید، میجر محمد اکرم شہید اور کیپٹن کرنل شیر خان شہید کے مزاروں پر حاضری دی۔

اعلیٰ فوجی افسران نے شہداء کو خراج عقیدت پیش کیا اور دفاع وطن کے لیے ہر قربانی دینے کے عہد کی تجدید کی۔

Back to top button