عمران نے پاکستانی سفارت کاروں کوکیسے خوفزدہ کیا؟

پاکستانی دفتر خارجہ کے ذرائع نے انکشاف کیا ہے کہ سابق وزیراعظم عمران خان کی جانب سے ایک خفیہ امریکی مراسلے میں دھمکی دیے جانے کے دعوے کے بعد دنیا کے اہم دارالحکومتوں میں تعینات پاکستانی سفارت کار غیر یقینی کی صورتحال سے دوچار ہو گئے تھے کیونکہ ایک سفارت کار کے خفیہ مراسلہ کے حوالے سے جو کچھ ہو رہا تھا انھیں اس پر یقین نہیں آ رہا تھا۔ پاکستانی سفارت کاروں کے لیے سب سے حیران کن بات یہ تھی کہ کوئی اور نہیں بلکہ خود ایک وزیراعظم عوامی اجتماعات میں ایک تنازع کھڑا کر رہے تھے، جس کی بنیاد واشنگٹن جیسے اہم دارالحکومت میں تعینات پاکستان کے سبق سفیر اسد مجید خان کا بھجوایا ہوا مراسلہ تھا۔ عمران خان کا الزام تھا کہ اس مراسلے کے مطابق پاکستانی سفیر کے ساتھ ایک امریکی سفارتکار نے دھمکی آمیز زبان استعمال کی تھی۔ تاہم حقیقت یہ ہے کہ یہ مراسلہ اسد مجید خان نے خود تحریر کیا تھا۔ بعد ازاں نیشنل سکیورٹی کمیٹی کے اجلاس میں اسد مجید خان نے واضح کیا کہ اس مراسلے میں انہوں نے کسی دھمکی کا ذکر نہیں کیا تھا۔ کہ عمران خان اپنے موقف پر پر اڑے ہوئے ہیں اور اب تو فوجی ترجمان کو بھی دو بدو جواب دے رہے ہیں۔
بی بی سی کی ایک رپورٹ کے مطابق یہ پہلی بار تھا کہ پاکستانی وزیراعظم نے ایک خفیہ سفارتی مراسلہ اس طرح عوامی اجتماع میں منکشف کیا ہو۔ اس انکشاف اور اس کے نتیجے میں جنم لینے والے تنازعے نے پاکستانی سفارت کاروں میں غیر یقینی پیدا کر دی کہ وہ حساس معاملات پر کیبلز لکھنا جاری رکھیں یا پھر انھیں مستقبل میں زیادہ محتاط ہو کر یہ فرض نبھانا ہو گا۔ دفتر خارجہ کے ذرائع کے مطابق عمران خان کی حکومت جانے کے بعد پاکستانی سفارتکاروں میں غیر یقینی کی یہ صورتحال کئی درجے بڑھ گئی، اُن میں یہ شکوک بڑھ گئے کہ آنے والی نئی حکومت کیا سیکرٹ کیبل کو تسلیم کرے گی جو اُس وقت کے ملک کے بہترین تصور ہونے والے کریئر سفارتکار نے لکھی تھی۔
ایک سینئر سرکاری عہدیدار کے مطابق 22 اپریل کے نیشنل سکیورٹی کمیٹی کے اجلاس کے بعد جاری ہونے والے اعلامیہ نے سفارتکاروں میں پائی جانے والی غیر یقینی کی صورتحال کچھ حد تک ختم کر دی ہے، وزیراعظم شہباز شریف کی زیر صدارت پاکستان کے اعلیٰ ترین سول ملٹری فیصلہ سازادارے نے عمران خان کے اس دعوے کو مسترد کر دیا تھا کہ انھیں اقتدار سے نکالنے کے لیے کوئی سازش ہوئی۔ اس اجلاس کے بعد فوجی ترجمان نے بھی عمران خان کے الزام کو رد کر دیا لیکن موصوف اپنے موقف پر ڈٹے ہوئے ہیں اور اب یہ فرماتے ہیں کہ فوجی ترجمان کو سیاسی معاملات پر تبصرے سے گریز کرنا چاہیے۔ ایسے میں مریم نواز نے یاد دلایا ہے کہ اگر کیبل سیاسی معاملہ تھاتو پھر عمران نے اپنے دور میں اس پر نیشنل سکیورٹی کمیٹی کی میٹنگ کیوں کی اور فوجی قیادت کو سامنے کیوں بٹھایا۔
یاد رہے کہ دنیا کے اہم دارالحکومتوں میں تعینات پاکستانی سفیر خفیہ کیبلز یا سفارتی مراسلے بھجواتے ہیں، جنھیں اسلام آباد میں گنے چنے افراد ہی پڑھ سکتے ہیں۔ان میں صدر پاکستان، وزیراعظم، چیف آف آرمی سٹاف اور ڈائریکٹر جنرل انٹر سروسز انٹیلی جنس شامل ہیں۔ لہذا کیبل ملتے ہی خفیہ زبان یعنی کوڈ لینگویج سے اس کا مضمون تحریر کیا جاتا ہے اور پھر اس کی چار نقول بنائی جاتی ہیں اور متعلقہ حکام کو پہنچا دی جاتی ہیں۔
ایک سینئر حکومتی عہدیدار نے بتایا کہ ’یہ خفیہ رابطہ ہوتا ہے اور صرف مخصوص حکام کی آنکھوں کے لیے ہوتا ہے۔ لہٰذا روایت یہی ہے کہ ان کیبلز اور ان میں لکھے ہوئے مواد پر عوام کے سامنے بات نہیں کی جاتی۔‘
نئی دہلی میں پاکستان کے ہائی کمشنر رہنے والے سابق سینئر سفارتکار عبدالباسط نے کہا کہ ’یہ معاملہ اب طے ہو چکا ہے۔ ہمارے سفارتکار اب معمول کے مطابق اپنا کام کر رہے ہیں۔ اسد مجید خان اب ایک اور سٹیشن پر ہیں اور معمول کے اپنے فرائض انجام دے رہے ہیں۔ میرا نہیں خیال کہ اب ہمارے سفارت کاروں کے امور کار میں کوئی زیادہ رکاوٹ پیدا ہو گی۔ اول تو یہ ایک عارضی مرحلہ ثابت ہوا، دوسری بات یہ کہ دنیا جانتی ہے کہ داخلی سیاسی مجبوریوں کی وجہ سے یہ سب ہوا۔ اسد مجید خان اب ایک اور جگہ پر اپنے امور کار انجام دے رہے ہیں۔‘
سابق سفیر عبدالباسط نے کہا کہ اس شور شرابے کا سفارتی دنیا پر ایک مثبت نقش پیدا ہوا۔ ’دیکھیں کس طریقے سے امریکہ نے سفیر بھجوایا اور کس طرح وہ پاکستانی معاشرے اور حکومت تک رسائی حاصل کر رہے ہیں۔’ عبدالباسط نے کہا کہ ’ساری دنیا اب جانتی ہے کہ دھمکی آمیز سفارتی مراسلے کے داخلی سیاسی بیانیے پر اثرات مرتب ہوتے ہیں۔‘
دوسری جانب اسلام آباد کے سفارتی حلقوں میں عام طور پر یہ سمجھاجاتا ہے کہ عمران خان کی بیان بازی کا مقصد اپنے سیاسی مخالفین پر کیچڑ اچھالنا اور انھیں ملوث کرنا تھا اور وہ پاکستان کے داخلی معاملات میں امریکی حکومت کی مداخلت کا الزام اپنے سیاسی بیانیے کے لیے لگا رہے تھے۔ ایک پاکستانی سفارتکار نے اس بارے میں بات کرتے ہوئے کہا کہ ’ہم دو نتائج اخذ کر سکتے ہیں کہ عمران خان کا یہ بیان کہ وہ امریکہ کے ساتھ دوستی چاہتے ہیں، اس امر کی عکاسی ہے کہ وہ اپنے لیے دروازہ کھلا رکھنا چاہتے ہیں۔
’جس کا مطلب ہے کہ وہ مکمل طور پر امریکہ کے خلاف نہیں جانا چاہتے۔ دوسری بات یہ کہ عمران خان کی آزاد خارجہ پالیسی کے لیے مہم پاکستانی عوام کے لیے ہے اور اسے امریکہ مخالف بیانیے کے طور پر لینا چاہیے۔‘ انھوں نے مزید کہا کہ ’سیاسی مخالفین کے ذریعے پیسے کے زور پر اپنی حکومت گرانے کا امریکہ پر الزام لگانے والا شخص کبھی بھی امریکہ کے ساتھ دوستی کرنا نہیں چاہے گا۔ ’جو شخص واقعی یہ یقین رکھتا ہو کہ اقتدار سے بے دخل کرنے میں امریکہ نے اس کے سیاسی مخالفین کو استعمال کیا تو وہ کبھی بھی امریکہ کا دوست نہیں بننا چاہے گا یا یہ کہے گا کہ وہ امریکہ مخالف نہیں۔‘
دوسری جانب نئی وزیر مملکت برائے خارجہ امور حنا ربانی کھر نے حال ہی میں صحافیوں کے ایک گروپ کو سیکرٹ کیبل کے بارے میں بریفنگ دیتے ہوئے آگاہ کیا کہ پاکستانی سفارت کار اس واقعے سے بالکل خوش نہیں۔ دفتر خارجہ سمجھتا ہے کہ سفیر اور دفتر خارجہ کو سیاسی مقاصد کے لیے استعمال کیا گیا۔ زیادہ تر سفیر خوفزدہ ہیں کہ وہ ایسے حساس معاملات پر کیبل بھیجیں۔
