1947 اور آج، 79برس میں پاکستان نے کیا کھویا کیا پایا؟

79 برس کی قومی زندگی میں پاکستان نے جہاں سیاسی، معاشی اور سماجی بحرانوں کا سامنا کیا، وہیں ایسے سنگِ میل بھی عبور کیے جن پر ایک پاکستانی کی حیثیت سے فخر کیا جاسکتا ہے۔ ہم اکثر اپنی ناکامیوں، مشکلات اور کمزوریوں کا ذکر کرتے کرتے یہ بھول جاتے ہیں کہ یہی ملک کئی ایسے میدانوں میں دنیا کے سامنے اپنی صلاحیت ثابت کرچکا ہے جہاں کامیابی آسان نہیں تھی۔ یومِ آزادی کا موقع صرف جشن منانے کا نہیں بلکہ اپنے ماضی کو یاد کرنے، حال کا جائزہ لینے اور مستقبل کے امکانات پر غور کرنے کا بھی ہے۔

پاکستان کا جوہری طاقت بننا ہماری تاریخ کی سب سے بڑی قومی کامیابیوں میں شمار ہوتا ہے۔ مسلم دنیا کی واحد جوہری طاقت بننے کا سفر کسی حادثے یا اچانک پیش آنے والے واقعے کا نتیجہ نہیں تھا بلکہ کئی دہائیوں پر محیط عزم، مسلسل محنت، سائنسی صلاحیت اور قومی اتفاقِ رائے کا نتیجہ تھا۔ سیاسی اختلافات اپنی جگہ موجود رہے، حکومتیں بدلتی رہیں، قیادتوں کے درمیان شدید اختلافات بھی رہے، لیکن پاکستان کو جوہری قوت بنانے کے بنیادی قومی مقصد پر مختلف ادوار کی قیادتیں کسی نہ کسی صورت متفق رہیں۔

یہ کامیابی اس بات کا ثبوت ہے کہ اگر پاکستان اپنے کسی قومی مقصد پر یکسو ہوجائے تو اسے حاصل کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے۔ یہی وہ سبق ہے جسے آج کے پاکستان کو دوبارہ سمجھنے کی ضرورت ہے۔ ہمارے مسائل کی فہرست طویل ہوسکتی ہے، لیکن ہماری صلاحیتوں کی فہرست بھی مختصر نہیں۔

دفاع کے میدان میں بھی پاکستان نے وقت کے ساتھ اپنی صلاحیتوں کو وسیع کیا ہے۔ آج قومی سلامتی کا تصور صرف جوہری ہتھیاروں تک محدود نہیں رہا بلکہ جدید ٹیکنالوجی، سائبر صلاحیت، ڈرون ٹیکنالوجی، فضائی دفاع، میزائل نظام اور مقامی دفاعی پیداوار بھی کسی ملک کی دفاعی طاقت کا بنیادی حصہ بن چکے ہیں۔ پاکستان نے ان شعبوں میں بھی اپنی صلاحیتیں پیدا کی ہیں اور جدید جنگ کے بدلتے ہوئے تقاضوں کے ساتھ خود کو ہم آہنگ کرنے کی کوشش کی ہے۔

پاکستان کی دفاعی صنعت کا ایک اہم پہلو یہ بھی ہے کہ ملک نے کئی اہم دفاعی سازوسامان کی تیاری میں خود انحصاری حاصل کرنے کی کوشش کی ہے۔ اس کا مطلب صرف دفاعی ضروریات پوری کرنا نہیں بلکہ ٹیکنالوجی، تحقیق اور صنعتی صلاحیت کو فروغ دینا بھی ہے۔ یہی صلاحیت اگر دفاع کے علاوہ معیشت، صنعت، زراعت اور شہری ٹیکنالوجی میں بھی اسی یکسوئی سے استعمال کی جائے تو پاکستان کی معاشی سمت تبدیل ہوسکتی ہے۔

سفارتی میدان میں بھی پاکستان نے مختلف ادوار میں اہم کردار ادا کیا ہے۔ حالیہ برسوں میں سعودی عرب اور ترکی کے ساتھ دفاعی اور تزویراتی تعاون نے پاکستان کی علاقائی اہمیت کو اجاگر کیا ہے۔ اسی طرح ایران اور امریکہ کے درمیان کشیدگی کے تناظر میں پاکستان کی سفارتی سرگرمیوں نے یہ ظاہر کیا کہ پاکستان جنوبی ایشیا تک محدود ملک نہیں بلکہ مشرق وسطیٰ اور وسیع تر مسلم دنیا میں بھی ایک اہم کردار ادا کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے۔

پاکستان کی ایک اور بڑی کامیابی اس کی مزاحمت کی قوت ہے۔ دہشت گردی کے خلاف طویل جنگ نے ملک کو انسانی جانوں، معیشت، انفراسٹرکچر اور سماجی زندگی کے اعتبار سے بے پناہ نقصان پہنچایا، لیکن ریاست اور معاشرے نے اس چیلنج کا مقابلہ جاری رکھا۔ ہزاروں شہریوں، فوجی جوانوں، پولیس اہلکاروں اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کے اہلکاروں نے قربانیاں دیں، لیکن ملک نے دہشت گردی کے چیلنج کے سامنے مکمل طور پر گھٹنے ٹیکنے سے انکار کیا۔

پاکستان کی طاقت کا ایک اہم پہلو اس کا غیر معمولی ثقافتی اور لسانی تنوع بھی ہے۔ پنجاب، سندھ، خیبر پختونخوا، بلوچستان، گلگت بلتستان اور آزاد کشمیر سمیت ملک کے مختلف خطوں میں زبانیں، ثقافتیں، روایات اور طرزِ زندگی ایک دوسرے سے مختلف ہیں۔ اتنے بڑے تنوع کے باوجود ایک مشترکہ قومی شناخت کا برقرار رہنا بذاتِ خود ایک اہم کامیابی ہے۔

یہ راستہ ہمیشہ آسان نہیں رہا۔ اختلافات، سیاسی کشمکش، علاقائی محرومیاں اور مختلف ادوار کے بحران اپنی جگہ موجود رہے، لیکن اس کے باوجود ملک کا اجتماعی سفر جاری رہا۔ ایک متفقہ آئین کی تشکیل اور وفاقی نظام کے ذریعے مختلف اکائیوں کو ایک ریاستی ڈھانچے میں جوڑے رکھنا پاکستان کی تاریخ کا ایک اہم پہلو ہے جس پر زیادہ سنجیدگی سے بات ہونی چاہیے۔

پاکستان کی نظریاتی شناخت بھی اپنی نوعیت میں منفرد ہے۔ ملک نے اسلامی تشخص کے ساتھ جمہوری اور پارلیمانی نظام کو اختیار کیا۔ آئین میں اسلامی اصولوں کو بنیادی اہمیت دی گئی جبکہ قانون سازی اور ریاستی نظم کے لیے پارلیمانی نظام قائم کیا گیا۔ اس منفرد امتزاج نے پاکستان کو ایک ایسی ریاستی شناخت دی جس میں مذہبی اور جمہوری تصورات کو ایک آئینی فریم ورک میں جوڑنے کی کوشش کی گئی۔

پاکستان کی کامیابیاں صرف دفاع، سفارت کاری یا ریاستی اداروں تک محدود نہیں۔ کھیلوں کے میدان میں پاکستانی کھلاڑیوں نے دنیا بھر میں ملک کا نام روشن کیا، فنون، ادب اور ثقافت میں پاکستانی تخلیق کاروں نے اپنی شناخت بنائی، طب اور تحقیق کے میدان میں پاکستانی ماہرین نے عالمی سطح پر خدمات انجام دیں، جبکہ دنیا کے مختلف ممالک میں پاکستانی ڈاکٹر، انجینئر، سائنس دان، کاروباری افراد اور دیگر شعبوں کے ماہرین اپنی صلاحیتوں کا لوہا منوا رہے ہیں۔

یہ سب اس بات کا ثبوت ہے کہ پاکستان انسانی صلاحیت کے اعتبار سے ایک بانجھ معاشرہ نہیں۔ مسئلہ شاید صلاحیت کی کمی کا نہیں بلکہ صلاحیت کو منظم، مؤثر اور مسلسل استعمال کرنے کا ہے۔ ہمارے معاشرے میں ایسے بے شمار ذہین، محنتی اور تخلیقی لوگ موجود ہیں جو مناسب مواقع، بہتر اداروں اور سازگار ماحول ملنے پر غیر معمولی کارکردگی دکھا سکتے ہیں۔

یہی وہ مقام ہے جہاں پاکستان کے آج اور کل کا سوال سامنے آتا ہے۔ ماضی کی کامیابیاں یقیناً باعثِ فخر ہیں، لیکن صرف ماضی پر فخر کرکے مستقبل نہیں بنایا جاسکتا۔ جوہری طاقت بننا، دہشت گردی کا مقابلہ کرنا یا عالمی سطح پر اپنی سفارتی اہمیت منوانا بڑی کامیابیاں ہیں، مگر اب اصل چیلنج یہ ہے کہ پاکستان اپنی انسانی صلاحیت کو معاشی طاقت میں کیسے تبدیل کرتا ہے۔

پاکستان کو اپنے نوجوانوں کے لیے معیاری تعلیم، تحقیق، روزگار، کاروبار اور تخلیقی اظہار کے مواقع پیدا کرنا ہوں گے۔ جامعات کو تحقیق کے مراکز بنانا ہوگا، صنعت اور تعلیم کے درمیان رابطہ مضبوط کرنا ہوگا، ٹیکنالوجی اور مصنوعی ذہانت جیسے نئے شعبوں میں نوجوانوں کو تیار کرنا ہوگا اور ایسا ماحول پیدا کرنا ہوگا جہاں ذہانت ملک چھوڑنے کے بجائے ملک کی ترقی کا ذریعہ بنے۔

معاشی استحکام بھی اسی سلسلے کی بنیادی کڑی ہے۔ ایک ایسا ملک جس کے پاس نوجوان آبادی، قدرتی وسائل، زرعی صلاحیت، جغرافیائی اہمیت، سمندری راستے اور دنیا بھر میں پھیلی ہوئی باصلاحیت افرادی قوت موجود ہو، اس کے لیے ترقی کے امکانات کم نہیں ہوسکتے۔ ضرورت صرف یہ ہے کہ پالیسیوں میں تسلسل، اداروں میں استحکام اور قومی ترجیحات میں یکسوئی پیدا کی جائے۔

ہمیں یہ بھی تسلیم کرنا ہوگا کہ پاکستان کے مسائل حقیقی ہیں۔ سیاسی عدم استحکام، معاشی مشکلات، مہنگائی، بے روزگاری، کمزور حکمرانی، تعلیم اور صحت کے مسائل اور ادارہ جاتی کمزوریاں ہماری ترقی کی رفتار کو متاثر کرتی ہیں۔ ان مسائل سے صرف جذباتی نعروں یا جشن کے ذریعے نہیں بلکہ مسلسل محنت، بہتر پالیسی، احتساب اور قومی اتفاقِ رائے کے ذریعے نمٹا جاسکتا ہے۔

یومِ آزادی کا اصل پیغام شاید یہی ہے کہ قومیں صرف اپنے ماضی کی کامیابیوں سے زندہ نہیں رہتیں بلکہ ان کامیابیوں کو مستقبل کی بنیاد بناتی ہیں۔ پاکستان نے ناممکن نظر آنے والے کئی کام ممکن کرکے دکھائے ہیں۔ اگر وہی عزم تعلیم، معیشت، تحقیق، صنعت، انصاف اور حکمرانی کے شعبوں میں پیدا ہوجائے تو نتائج بھی مختلف ہوسکتے ہیں۔

پاکستان کی مٹی میں صلاحیت کی کمی نہیں۔ یہاں ایسے ذہن موجود ہیں جو دنیا کی بڑی جامعات میں جگہ بنا سکتے ہیں، ایسے ہاتھ موجود ہیں جو صنعتیں کھڑی کرسکتے ہیں، ایسے نوجوان موجود ہیں جو جدید ٹیکنالوجی میں دنیا کا مقابلہ کرسکتے ہیں اور ایسے لوگ موجود ہیں جو مشکل ترین حالات میں بھی امید کا دامن نہیں چھوڑتے۔

مٹی بہت زرخیز ہے، بس اسے تھوڑی سی نمی درکار ہے۔ اگر اسے مناسب ماحول، مسلسل محنت، درست سمت اور مواقع مل جائیں تو فصلِ گل صرف خواب نہیں رہے گی بلکہ ہمارے آنگن میں آکر ٹھہر سکتی ہے۔ یہی پاکستان کے کل کی امید ہے، اور یہی یومِ آزادی کا سب سے خوبصورت پیغام بھی۔

Back to top button