کیا ایس آئی ایف سی پاکستان میں سرمایہ کاری لا پائے گی؟

پاکستان میں سرمایہ کاری اور کاروباری سرگرمیوں کے راستے میں حائل سرخ فیتے، پیچیدہ قوانین اور غیر ضروری انتظامی رکاوٹیں ختم کرنے کے لیے حکومت نے ایک اہم ذمہ داری اسپیشل انویسٹمنٹ فیسیلیٹیشن کونسل کو سونپ دی ہے۔ وزیراعظم شہباز شریف کی ہدایت پر اب ایس آئی ایف سی نہ صرف سرمایہ کاری کے فروغ بلکہ کاروباری اور انتظامی اصلاحات کی قیادت بھی کرے گی۔ یہ فیصلہ ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب پاکستان طویل عرصے سے سرمایہ کاروں کو پیچیدہ ضابطوں، طویل منظوری کے مراحل اور مختلف اداروں کے درمیان رابطے کے فقدان سے پیدا ہونے والی مشکلات سے نکالنے کی کوشش کر رہا ہے۔

ایس آئی ایف سی کے مطابق نظامی رکاوٹوں کے باعث مطلوبہ اصلاحات پر عمل درآمد کی رفتار سست تھی، جس کے بعد اب اس عمل کو تیز کرنے کے لیے ایس آئی ایف سی کو اپنے منفرد ’’ہال آف گورنمنٹ‘‘ طریقہ کار کے تحت اصلاحات کی قیادت کرنے کی ذمہ داری دی گئی ہے۔ اس سے قبل بورڈ آف انویسٹمنٹ نے ضابطہ جاتی رکاوٹوں میں کمی کے لیے ’’ریگولیٹری گلوٹین‘‘ کا فریم ورک متعارف کرایا تھا، تاہم مختلف اداروں اور نظامی پیچیدگیوں کے باعث ان اصلاحات کو مطلوبہ رفتار سے عملی جامہ نہیں پہنایا جا سکا۔

جون 2023 میں قائم ہونے والی اسپیشل انویسٹمنٹ فیسیلیٹیشن کونسل کا بنیادی مقصد پاکستان میں مقامی اور غیر ملکی سرمایہ کاری کو فروغ دینا، اہم معاشی شعبوں میں فیصلوں کے عمل کو تیز کرنا اور سرمایہ کاروں کو ایک ہی چھت تلے ضروری سہولیات فراہم کرنا تھا۔ اس کے دائرۂ کار میں زراعت، معدنیات، توانائی، اطلاعاتی ٹیکنالوجی اور دفاعی پیداوار جیسے شعبے شامل کیے گئے، جبکہ خلیجی ممالک اور دیگر دوست ممالک سے سرمایہ کاری لانے پر بھی خصوصی توجہ دی گئی۔

کاروباری اصلاحات کا بنیادی مقصد ایسے قوانین اور طریقہ کار کا جائزہ لینا ہے جو کاروبار شروع کرنے یا اسے وسعت دینے میں غیر ضروری رکاوٹ بنتے ہیں۔ فرسودہ تعمیلی تقاضے، غیر ضروری کاغذی کارروائی، پیچیدہ لائسنسنگ نظام اور مختلف سرکاری اداروں سے الگ الگ منظوری لینے کی ضرورت کاروباری طبقے کے لیے نہ صرف وقت طلب عمل ہے بلکہ اس سے کاروبار کی لاگت بھی بڑھتی ہے۔ حکومت کا خیال ہے کہ ان رکاوٹوں کو آسان یا ختم کر کے کاروباری ماحول کو زیادہ مسابقتی بنایا جا سکتا ہے۔

ایس آئی ایف سی کا کہنا ہے کہ اس کی نگرانی میں اصلاحاتی عمل میں نمایاں تیزی آئی ہے۔ ادارے کے مطابق مختلف سرکاری محکموں کے درمیان رابطہ کاری بہتر بنانے، تعطل کا شکار منصوبوں کو آگے بڑھانے اور سرمایہ کاروں کو درپیش رکاوٹیں دور کرنے کے لیے مسلسل اقدامات کیے گئے ہیں۔ حکومت کا دعویٰ ہے کہ اس طریقہ کار کے نتیجے میں پاکستان کو مقامی اور عالمی سرمایہ کاری کے لیے زیادہ پرکشش منزل بنانے کی راہ ہموار ہو رہی ہے۔

ایس آئی ایف سی کے قیام کا ایک اہم پہلو اس کا مختلف ریاستی اداروں کو ایک مربوط پلیٹ فارم پر لانا ہے۔ ماضی میں سرمایہ کاروں کو ایک ہی منصوبے کے لیے متعدد وزارتوں، محکموں اور متعلقہ اداروں سے رابطہ کرنا پڑتا تھا، جس کے باعث فیصلوں میں تاخیر اور غیر یقینی صورتحال پیدا ہوتی تھی۔ ون ونڈو نظام کے ذریعے کوشش یہ ہے کہ سرمایہ کار کو ایک مربوط نظام کے تحت ضروری اجازت نامے، رہنمائی اور سرکاری سہولت فراہم کی جائے۔

تاہم ایس آئی ایف سی کی کارکردگی پر سیاسی سطح پر سوالات بھی اٹھتے رہے ہیں۔ پاکستان تحریک انصاف ماضی میں یہ مؤقف اختیار کرتی رہی ہے کہ ایس آئی ایف سی کے متعدد اعلانات اور منصوبے عملی نتائج کے بجائے پاورپوائنٹ پریزنٹیشنز اور بلند بانگ دعوؤں تک محدود رہے۔ اس تنقید کے باوجود ایس آئی ایف سی کا مؤقف ہے کہ اس کی سہولت کاری سے گزشتہ چند برسوں میں کئی ایسے منصوبوں میں پیش رفت ہوئی جو طویل عرصے سے تعطل کا شکار تھے۔

ادارے کے مطابق ہوا بازی، پانچ جی، معدنیات، زراعت، مویشی پالنے اور اطلاعاتی ٹیکنالوجی سمیت مختلف شعبوں میں اہم پیش رفت ایس آئی ایف سی کی سہولت کاری کے باعث ممکن ہوئی۔ حکومت کے نزدیک اب اگلا مرحلہ صرف سرمایہ کاری کے نئے منصوبے لانا نہیں بلکہ اس پورے نظام کو بہتر بنانا ہے جس کے ذریعے سرمایہ کاری پاکستان میں آئے، کاروبار شروع ہو اور سرمایہ کار طویل مدت تک ملک میں رہ کر کام کر سکے۔

اصل امتحان اب یہ ہوگا کہ اصلاحات کاغذی اعلانات سے آگے بڑھ کر عملی تبدیلی میں کس حد تک تبدیل ہوتی ہیں۔ اگر غیر ضروری قوانین ختم کیے جاتے ہیں، منظوریوں کا عمل مختصر ہوتا ہے، سرکاری اداروں کے درمیان رابطہ بہتر بنایا جاتا ہے اور سرمایہ کاروں کو پالیسیوں میں تسلسل کی یقین دہانی ملتی ہے تو پاکستان کے کاروباری ماحول میں نمایاں بہتری آ سکتی ہے۔ لیکن اگر اصلاحات صرف نئے اعلانات، اجلاسوں اور پالیسی دستاویزات تک محدود رہیں تو سرمایہ کاری کے لیے مطلوبہ اعتماد پیدا کرنا مشکل ہوگا۔

پاکستان کو اس وقت صرف نئی سرمایہ کاری ہی نہیں بلکہ موجودہ کاروباری اداروں کے لیے بھی آسان اور قابلِ اعتماد ماحول کی ضرورت ہے۔ ایس آئی ایف سی کو کاروباری اصلاحات کی ذمہ داری ملنا اسی سمت میں ایک اہم قدم قرار دیا جا سکتا ہے، مگر اس فیصلے کی اصل کامیابی کا پیمانہ یہ ہوگا کہ عام کاروباری شخص، مقامی صنعت کار اور غیر ملکی سرمایہ کار کو سرکاری دفاتر کے چکروں، غیر ضروری کاغذی کارروائی اور طویل انتظار سے کتنی حقیقی نجات ملتی ہے۔

Back to top button