آرمی چیف تعیناتی:شہباز، زرداری کا بغیردبائو فیصلہ کرنے پراتفاق

پیپلز پارٹی کے شریک چیئرمین و سابق صدر آصف علی زرداری نے وزیراعظم شہباز شریف سے وزیراعظم ہائوس میں اہم ملاقات کی ہے، جس افواج پاکستان کے اعلیٰ عہدوں پر تعیناتیاں بغیر کسی دبائو کے کرنے پر اتفاق کیا گیا ہے۔
سابق صدر آصف علی زرداری وزیراعظم ہاؤس پہنچے تو وزیراعظم شہباز شریف نے ان کا استقبال کیا، اس دوران سابق صدر نے وزیراعظم کی مزاج پرسی کی،وزیراعظم نے سابق صدر کی آمد پر ان کا شکریہ ادا کیا، دونوں قائدین نے مجموعی ملکی سیاسی صورتحال پر بھی تبادلہ خیال کیا۔
خیال رہے کہ یہ ملاقات ایک ایسے وقت میں ہو رہی ہے جب ملک میں آرمی چیف کی تعیناتی پر سیاسی قیادت ایک دوسرے کے ساتھ بیان بازی میں مصروف ہیں۔
واضح رہے کہ 29 نومبر کو آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ اور چیئر مین جوائنٹ چیفس آف سٹاف عہدے سے سبکدوش ہو رہے ہیں، ان کی تقرری موضوع بحث بن چکی ہے۔
سینیارٹی لسٹ کے مطابق وقت پانچ لیفٹیننٹ جنرلز نئے سپہ سالار کیلئے امیدوار ہیں،ان امیدواروں میں لیفٹیننٹ جنرل عاصم منیر، لیفٹیننٹ جنرل ساحر شمشاد مرزا، لیفٹیننٹ جنرل اظہر عباس، لیفٹیننٹ جنرل نعمان محمود، لیفٹیننٹ جنرل فیض حمید شامل ہیں۔
واضح رہے کہ وزیر اعظم شہباز شریف نے چند ہفتے قبل لندن کا دورہ کیا جہاں انہوں نے نواز شریف سے آرمی چیف کی تعیناتی کے معاملے پر مشاورت کی اور واپسی کے بعد تمام اتحادی جماعتوں کو اعتماد میں لیا۔
یاد رہے کہ 19 نومبر کو پریس کانفرنس کے دوران وزیر خارجہ بلاول بھٹو زرداری نے صدر عارف علوی کو آرمی چیف کے تقرر کے عمل میں کسی قسم کی رکاوٹ پیدا کرنے سے گریز کا مشورہ دیا تھا، انہوں نے کہا تھا کہ کیا صدر عارف علوی پاکستانی عوام، آئین، جمہوریت کے ساتھ وفاداری دکھائیں گے یا عمران خان سے دوستی نبھائے گا، امید ہے اس وقت آئین و قانون کے تحت ساری چیزیں چلیں گی، اگر صدر عارف علوی نے کچھ گڑ بڑ کرنے کی کوشش کی تو پھر انہیں نتیجہ بھگتنا پڑے گا۔
قبل ازیں وزیراعظم شہباز شریف مصر میں ہونے والی کوپ کانفرنس کے بعد پاکستان آنے کے بجائے لندن چلے گئے تھے جہاں پرانہیں اپنے بھائی اور قائد میاں محمد نواز شریف سے ملاقات کی تھی اور اہم تعیناتی پر تبادلہ خیال کیا تھا،لندن سے واپسی کے بعد پاکستان پہنچنے پر پاکستان مسلم لیگ ن کی ترجمان اور وفاقی وزیر اطلاعات مریم اورنگزیب نے بتایا کہ وزیراعظم شہباز شریف کو تیسری مرتبہ کورونا ہو گیا جس کے بعد انہیں خود کو وزیراعظم ہاؤس میں قرنطینہ کر لیا ہے۔
علاوہ ازیں چند روز قبل وزیراعظم شہباز شریف سے ملنے کے لیے پاکستان ڈیمو کریٹک موومنٹ (پی ڈی ایم) کے سربراہ اور امیر جمعیت علمائے اسلام (ف) مولانا فضل الرحمان بھی وزیراعظم ہاؤس گئے تھے، جہاں پر ملکی سیاسی صورتحال سمیت اہم امور پر تبادلہ خیال کیا گیا تھا۔
