بشریٰ نے شوہر سے طلاق لے کر عمران سے شادی کیوں کی تھی؟

لوگ متجسس ہیں اور جاننا چاہتے ہیں کہ پنکی پیرنی بشریٰ بی بی وزیر اعظم عمران خان کے عقد میں کیسے آئیں۔ جب عمران خان اور پنکی پیرنی یعنی بشریٰ بی بی کے مابین ملاقاتوں کا سلسلہ دراز ہوگیا اور عمران خان بشریٰ بی بی کی شخصیت کے سحر میں جکڑے گئے تو پنکی پیرنی نے عمران خان کو ایک بار پھر گھر بسانے کا مشورہ دیا۔ نتیجتاً عمران خان نے بھی تیسری شادی کا ذہن بنا لیا۔ اس کے بعد چودہ جولائی 2016 کو ایک اخبار نے اطلاع دی کہ عمران خان تیسری شادی کے لئے پرعزم دکھائی دیتے ہیں۔ اس زمانے میں ذرائع ابلاغ میں یہ باتیں عام ہونے لگی تھیں کہ عمران خان ان دنوں مانیکا خاندان کی بہو بشریٰ بی بی المعروف پنکی کو روحانی رہنما مان چکے ہیں اور پنکی پیرنی نے ہی عمران خان کو تیسری شادی کی ہدایت کی ہے، جس پر وہ جلد عمل کریں گے۔ جب کپتان کی شادی بارے چہ میگوئیاں بڑھیں تو عمران خان نے بھی تیسری شادی کے حوالے سے کھل کر جذبات کا اظہار کرنا شروع کردیا۔ انہی دنوں عمران خان کا ایک بیان سامنے آیا کہ میرا شادی پر یقین پہلے سے زیادہ پختہ ہوگیا ہے میں ہمت ہارنے اور مایوس ہونے والا نہیں۔ اس کے بعد جولائی 2016ء میں یہ خبریں بھی گردش کرنے لگیں کہ چیئرمین تحریک انصاف عمران خان نے بشریٰ بی بی کی بہن مریم مانیکا کے ساتھ تیسری شادی کر لی ہے۔ تاہم مانیکا فیملی اور تحریک انصاف نے ان خبروں کی فوری تردید کر دی۔ انہی دنوں بعض حلقے بشریٰ بی بی کی ایک بیٹی اور عمران خان کے نکاح کے حوالے سے بھی بے پر کی اڑاتے رہے۔
یہ اطلاعات بھی ہیں کہ بشریٰ بی بی اور خاور فرید مانیکا کا خیال تھا کہ ریحام خان عمران خان کے سیاسی راستے میں رکاوٹ ہیں، چنانچہ خان صاحب نے پنکی پیرنی کے اشارے پر یہ رکاوٹ ہٹا دی۔ کپتان اور ریحام کی طلاق کے بعد یہ دونوں میاں بیوی عمران خان کے لیے رشتہ بھی تلاش کرتے رہے۔ کہا جاتا ہے کہ یہ کوئی ایسی خاتون تلاش کر رہے تھے جس کی عمر چالیس اور پچاس سال کے درمیان ہو، جو مذہبی ہو، مکمل طور پر گھریلو ہو اور جو عمران خان کے لیے خوش نصیب ثابت ہو۔ یہ دو سال تک رشتہ تلاش کرتے رہے لیکن رشتہ نہ مل سکا لیکن آخر میں بشارت ہو ئی، روحانی رہنمائی ملی اور رشتہ قرب و جوار میں ہی مل گیا۔
بعض حلقوں کا دعویٰ ہے کہ بشریٰ بی بی کو حضورؐ نے خواب میں حکم دیا تھا کہ وہ اپنے شوہر خاور فرید مانیکا سے طلاق لے کر عمران خان کے نکاح میں آجائیں۔ اس طرح عمران خان کی تقدیر بدل جائے گی اور عمران خان وزیراعظم بن کر پاکستان کی قسمت سنوار دیں گے۔ دوسری جانب یہ بھی دعویٰ سامنے آیا تھا کہ بشریٰ بی بی کے شوہر خاور فرید مانیکا کو غیب سے اشارہ ہوا کہ اب دونوں اپنا ازدواجی رشتہ ختم کردیں تاکہ بشریٰ بی بی تحریک انصاف کے چیئرمین عمران خان کی اہلیہ بن کر پاکستان کی قسمت سنوارنے میں اپنا کردار ادا کر سکیں۔ انہی اطلاعات کی بنیاد پر کہا جاتا ہے کہ خاور فرید مانیکا نے پاکستان کی خاطر بشریٰ بی بی کو طلاق دی تھی جس کے بعد پنکی پیرنی لاہور شفٹ ہوئیں اور والدہ کے ساتھ رہنے لگیں۔ عدت پوری ہوئی اور عمران خان نے انھیں رشتہ بھجوا دیا۔ اس حوالے سے دوسری اطلاع یہ ہے کہ بشریٰ مانیکا نے خود خاور فرید سے خلع لیا، عدت پوری کی اور یکم جنوری 2018ء کو لاہور میں عمران خان کے ساتھ نکاح کر لیا تاہم اس نئے رشتے کا باقاعدہ اعلان کرنے کے لئے کچھ دیر انتظار کیا گیا کیونکہ بشریٰ بی بی کا یہ کہنا تھا کہ شادی کی تاریخ کا اعلان ستاروں کی چال دیکھ کر کرنا ہوگا۔
اس دوران میڈیا پرخوب شور رہا کہ بشریٰ بی بی نے عدت کی مدت پوری کئے بغیر ہی عمران خان سے نکاح کر لیا ہے۔ جس پر تحریک انصاف نے میڈیا کے محاذ پر خوب جنگ لڑی کہ ابھی کپتان نے صرف شادی کا پیغام بھجوایا ہے لہٰذا بشریٰ بی بی کے حوالے سے ایسی بے سروپا باتیں نہ اچھالی جائیں۔ بالآخر 18 فروری کے دن پاکستان تحریک انصاف کی جانب سے جماعت کے سربراہ عمران خان کی تیسری شادی کی باقاعدہ تصدیق کرتے ہوئے نکاح کی تصاویر جاری کی گئیں اور بتایا گیا کہ یہ تقریب لاہور میں ہوئی۔ ٹوئٹر پر پی ٹی آئی کی جانب سے جاری کی جانے والی تصاویر میں دیکھا جا سکتا ہے کہ عمران خان اور بشریٰ مانیکا کا نکاح مفتی سعید نے پڑھایا۔ پی ٹی آئی کے چیئرمین کے نکاح کے موقع پر ان کی جانب سے عون چوہدری اور ان کے دوست زلفی بخاری گواہان میں شامل تھے جبکہ عمران خان کے قریبی رشتہ داروں کی جانب سے کوئی تقریب میں شامل نہیں تھا کیونکہ عمران خان کے بچے ملک سے باہر تھے اور بہنیں اس رشتے کے حق میں نہیں تھیں۔
تحریک انصاف کی جانب سے شادی کی خبر پبلک کیے جانے کے بعد یہ بحث مزید زور پکڑنے لگیں کہ بشریٰ اور عمران کی شادی ایک غیر معمولی واقعہ ہے جس کی بنیاد روحانی اعتقاد ہے۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ یکم جنوری 2018 یعنی عید نوروز کو عقد ثلاثہ کی تقریب سعید میں بدلنے کے اشارے گزشتہ دو برس سے ظاہر ہو رہے تھے۔ یعنی دو برس سے اس بات کا انتظار کیا جارہا تھا کہ کب نکاح کیا جاسکے۔ اس حوالے سے بشریٰ بی بی نے ایک انٹرویو میں اس دعوے کو یکسر جھوٹا اور بے بنیاد قرار دیا۔ انہوں نے کہا کہ انہیں حضورؐ نے خاور فرید مانیکا کے عقد سے نکل جانے کے حوالے سے کوئی حکم نہیں دیا تھا، یہ تمام باتیں بے سروپا ہیں۔ تاہم دوسری جانب بشریٰ بی بی کے سابق شوہر خاور فرید مانیکا آج تک اس معاملے پر مکمل خاموشی اختیار کئے ہوئے ہیں۔
یہاں یہ امر بھی قابل ذکر ہے کہ جب بشریٰ بی بی نے خاور فرید مانیکا سے طلاق لی تو چہ مگوئیاں ہونے لگیں کہ عمران خان کی وجہ سے دونوں کے درمیان اختلافات اس قدر بڑھ گئے تھے کہ یہ رشتہ ختم ہوگیا۔ اس اہم موقع پر خاور فرید مانیکا نے اپنی سابقہ اہلیہ بشریٰ بی بی کی پاکدامنی کی گواہی دی اور کہا کہ وہ دنیا کی سب سے زیادہ پرہیزگار اور وفا شعار بیوی ہیں۔ خاور مانیکا کے بقول اس وقت صورتحال ایسی تھی کہ دونوں کا ایک ساتھ رہنا مناسب نہیں تھا ،لہذا بشریٰ بی بی نکاح کے لیے آزاد ہیں۔ خاور مانیکا سے طلاق کے چند مہینے بعد بشریٰ بی بی کی عمران خان سے شادی ہوئی تو خاور فرید مانیکا اور عمران خان کے مابین انتہائی خوشگوار تعلقات برقرار رہے بلکہ خاور فرید مانیکا اپنے بیٹوں کے ہمراہ اکثر عمران خان کی اسلام آباد میں واقع رہائش گاہ بنی گالہ بھی آیا کرتے تھے جس سے ان افواہوں کو تقویت ملی کہ شاید خاور فرید مانیکا نے کسی غیبی اشارے پر بشریٰ بی بی سے برسوں کی رفاقت کو ختم کیا اور پھر بشریٰ بی بی کے عمران خان کے عقد میں جانے پر کسی قسم کی ناراضی کا اظہار بھی نہیں کیا۔ یہ بھی کہا جاتا رہا کہ بشریٰ بی بی اپنے سابق شوہر کے لئے نئی بیوی بھی ڈھونڈ رہی ہیں اور چند مہینے بعد خاور فرید مانیکا نے مبینہ طور پر اپنی بیٹی کی سہیلی کو جوان سے عمر میں کئی برس چھوٹی تھی ایک سادہ سی تقریب میں رفیقہ حیات بنا لیا۔
پنکی پیرنی شادی سے پہلے عمران خان کو مختلف معاملات میں قیمتی روحانی اور سیاسی مشوروں سے نوازتی رہیں۔ کہا جاتا ہے کہ شادی کے بعد بھی یہ سلسلہ بدستور جاری ہے۔ شادی کے بعد عمران خان نے انٹرویو میں کہا تھا کہ تصوف میں میری دلچسپی 30 سال قبل شروع ہوئی تھی جس کی وجہ سے میری زندگی بدل گئی۔ میری اہلیہ صوفی اورعالمہ ہے اوراسی وجہ سے میری دلچسپی ان کی جانب زیادہ رہی۔ کہا جاتا ہے کہ آج بھی عمران خان کسی بڑے عہدے پرموزوں ترین افراد کا انتخاب کرنے سے پہلے بشریٰ بی بی سے ضرور مشورہ کرتے ہیں۔ شادی سے قبل بشریٰ بی بی نے عمران خان کو جتنے بھی مشورے دئیے، وہ عمران خان کے حق میں بہترین ثابت ہوئے۔
اس ضمن میں ریحام خان کو طلاق دلوانے کے بعد عائشہ گلالئی سکینڈل کا خاتمہ بالخیرقابل ذکر ہے۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ2007 میں جب تحریک انصاف کی رکن قومی اسمبلی نے عمران خان پر جنسی ہراسانی کے الزامات لگائے تو عمران خان سخت پریشانی میں مبتلا تھے۔ اس موقع پر بشریٰ بی بی نے عمران خان کو صورتحال سے نمٹنے کے لیے تحمل کا مظاہرہ کرنے اور خاص وظیفہ کرنے کی ہدایت کی تھی۔ دعویٰ کیا جاتا ہے کہ بشریٰ بی بی نے عمران خان پر واضح کردیا تھا کہ عائشہ گلالئی کا سکینڈل ان کا کچھ نہیں بگاڑ سکے گا بلکہ عمران خان پر الزام لگا کر عائشہ گلالئی نے سیاسی خودکشی کی ہے۔ عائشہ گلالئی نے یکم اگست2017ء کو عمران خان پر ہراساں کرنے کا الزام لگایا تو عمران خان 3 اگست کو بشریٰ بی بی کے ساتھ پاک پتن گئے اور مزار شریف پر سلام کیا۔ بشریٰ بی بی نے خان صاحب کو تسلی بھی دی اور یہ یقین بھی دلایا آپ اس بحران سے صاف نکل جائیں گے جبکہ عمران خان کا خیال تھا حکومت یہ ایشو اچھالے گی، کیس بنے گا اور حکومت انھیں صادق اور امین نہیں رہنے دے گی لیکن پنکی پیرنی کی بات درست اور خان صاحب کا خدشہ غلط ثابت ہوا، عائشہ گلالئی سکینڈل چند ہی ہفتوں میں ہوا ہو گیا جس کے بعد عمران خان کا بشریٰ بی بی پر اعتماد مزید بڑھا اور یہ سلسلہ ہنوز جاری ہے۔
عمران خان کے خاندان کے ایک فرد کا دعویٰ ہے کہ بشریٰ بی بی نے روحانی حساب لگا کر بتایا عمران خان کا لاہور کا آبائی گھر زمان پارک ان کے لیے ٹھیک نہیں۔ زمان پارک میں عمران خان کی ہمشیرہ عظمیٰ نیازی اپنے بچوں کے ساتھ رہتی تھیں۔ عمران خان نے پنکی پیرنی کے مشورے پر اپنا آبائی گھر گرا دیا۔ عمران خان کی ہمشیرہ اب کرائے کے مکان میں رہنے لگیں۔ خیال رہے یہ عمران خان کے کزن حفیظ اللہ نیازی کی بیگم ہیں اور دونوں کے مابین کئی سال پہلے علیحدگی ہوچکی ہے۔ کہا جاتا ہے کہ عمران خان نے بشریٰ بی بی کے کہنے پر ہی زمان پارک میں واقع اپنے آبائی گھر کو مکمل طور پر گرا کر اس کی از سرِ نو تعمیر کروائی۔
