وزیراعظم شہباز شریف نے مودی کو مذاکرات کی دعوت دے دی

وزیراعظم شہباز شریف نے بھارتی وزیراعظم نریندر مودی کو مذاکرات کی دعوت دیتے ہوئے کہا ہے کہ پرامن ہمسائے کے طور پر رہنا چاہتے ہیں، دونوں ممالک کے درمیان تین جنگیں ہوئیں جن کا نتیجہ غربت اور بیروزگاری کے علاوہ کچھ نہیں نکلا۔

عرب ٹی وی کو انٹرویو میں وزیراعظم شہباز شریف نے کہا کہ کرپشن کے معاملے پر ہماری پالیسی ’زیرو ٹالیرنس‘ ہے۔ پاکستان کو مشکل ترین معاشی چیلنجز کا سامنا ہے، سعودی عرب اور پاکستان کے درمیان کئی دہائیوں سے برادرانہ تعلقات  ہیں۔ ہم اسلام کو سلامتی کا مذہب ثابت کرنے کے لئے خلیجی ملکوں کے ساتھ تعاون کرتے ہیں۔پاکستان خلیجی ملکوں کی تجارت اور سرمایہ کاری کے فروغ کے لیے کام کر رہا ہے۔

ایک سوال کے جواب میں وزیراعظم شہباز شریف کا کہنا تھا کہ بھارت کے ساتھ بنیادی مسائل حل کرکے پرامن ہمسائے کے طورپر رہنا چاہتے ہیں۔ دونوں ممالک کے درمیان 3 جنگیں ہوئیں جن کا نتیجہ غربت اور بیروزگاری کے علاوہ کچھ نہیں نکلا، بھارتی وزیراعظم نریندر مودی کو سنجیدہ اور مثبت مذاکرات کی دعوت دیتا ہوں، پاکستان اور بھارت کو فضول کی کشمکش اور دشمنی سے نکلنا ہوگا اور دونوں ملکوں کو عوام کی ترقی کے لیے کام کرنا ہوگا، اگر بھارت اپنا رویہ تبدیل کرکے مذاکرات کرے تو ہمیں تیار پائے گا۔

شہباز شریف نے مشرقی یورپ میں کشیدہ صورت حال کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ اس کے دنیا پر تباہ کن اثرات مرتب ہو رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ اسلام آباد چین اور امریکا کے درمیان پل ہے۔

دوسری جانب وزیراعظم آفس نے وزیراعظم شہباز شریف کے عرب میڈیا کو دیے گئے انٹرویو پر وضاحت جاری کردی۔

جاری بیان میں کہا گیا ہےکہ پاکستان اوربھارت کوبالخصوص مسئلہ کشمیر حل کرنا چاہیے، وزیراعظم نے بارہا کہا بات تب ہوسکتی ہے جب بھارت 5 اگست 2019 کا اقدام واپس لے۔

وزیراعظم آفس کے مطابق وزیراعظم نےکہا کہ بھارتی اقدام کو منسوخ کیے بغیر مذاکرات ممکن نہیں، یو این قراردادوں اور کشمیری عوام کی امنگوں کے مطابق مسئلہ کشمیر حل ہونا چاہیے۔

ترجمان کے مطابق وزیراعظم نےحالیہ دورہ یو اے ای میں عرب میڈیا کوانٹرویو میں یہ مؤقف واضح کیا ہ

Back to top button