اٹارنی جنرل کی تعیناتی پر کیا حکومت کسی سے بارگین کر رہی ہے

عدالت اعظمٰی کا حکومت کی جانب سے اٹارنی جنرل کی عدم تعیناتی پر اظہار برہمی، جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے ریمارکس دیئے کہ ملک میں اس وقت اٹارنی جنرل کون ہے؟ جس کا ڈپٹی اٹارنی جنرل تسلی بخش جواب نہ دے سکے، جسٹس فائزعیسٰی نے ریمارکس دیئے کہ آں آں آں ایسے کر رہے جیسے بہت مشکل آئینی سوال پوچھ لیا ہے۔
جسٹس فائزعیسی نے اپنی بات جاری رکھتے ہوئے کہا کہ حکومت اتنی نااہل ہے کہ ایک اٹارنی جنرل تک تعینات نہیں کرسکتی، کیا اٹارنی جنرل کی تعیناتی پر حکومت کسی سے بارگین کر رہی ہے؟سپریم کورٹ کے جسٹس قاضی فائز عیسٰی نے ٹیمپرڈ گاڑی سے متعلق کیس پر سماعت کی۔ جسٹس قاضی فائز عیسی نے دوران سماعت برہمی کا اظہار کرتے ہوئے استفسار کیا کہ ملک میں اس وقت اٹارنی جنرل کون ہے؟ جس کا ڈپٹی اٹارنی جنرل تسلی بخش جواب نہ دے سکے، جسٹس فائزعیسی نے ریمارکس دیئے کہ آں آں آں ایسے کر رہے جیسے بہت مشکل آئینی سوال پوچھ لیا ہے۔
جسٹس فائزعیسی نے اپنی بات جاری رکھتے ہوئے کہا کہ حکومت اتنی نااہل ہے کہ ایک اٹارنی جنرل تک تعینات نہیں کرسکتی، کیا اٹارنی جنرل کی تعیناتی پر حکومت کسی سے بارگین کر رہی ہے؟جسٹس فائزعیسی نے کہا کہ سپریم کورٹ کے ساڑھے 5 ہزار وکیل ہیں حکومت کو ایک نہیں مل رہا، اٹارنی جنرل تعینات نہ کر کے حکومت آئین کی خلاف ورزی کر رہی ہے، جسٹس قاضی فائزعیسی نے کہا کہ سپریم کورٹ کے احکامات کی بھی پاسداری نہیں کی گئی، پیار سے کہہ رہے ہیں کہ اٹارنی جنرل تعینات کر دیں۔
عدالت نے کہا کہ ایڈیشنل اور ڈپٹی اٹارنی جنرل صرف اٹارنی جنرل سے ہدایات لینے کے پابند ہیں، اٹارنی جنرل کی ہدایات کے بغیر ڈپٹی اور ایڈیشنل اٹارنی جنرل کا پیش ہونا خلاف قانون ہے۔
