فرح گوگی نے 3 سال میں 1 ارب 60 کروڑ کی رشوت لی

وزیر اعظم کے معاون خصوصی عطااللہ تارڑ نے کہا ہے کہ فرح گوگی نے 3 سال میں ایک ارب 60 کروڑ روپے کی رشوت اور کمیشن وصول کی۔
اسلام آباد میں پریس کانفرنس کے دوران عطا اللہ تارڑ نے کہا کہ عمران خان سیاسی جدوجہد کا ڈرامہ رچاتے ہیں، ان کومشکل وقت میں صرف چھپنا اور بھاگنا آتا ہے، جھوٹ،منافقت اور فریب کی شکل عمران خان ہے، جیل بھرو تحریک عدالتوں سےاستثنیٰ لینےکی تحریک میں بدل گئی ہے، ٹیریان کیس میں عمران خان نے عدالتی دائرہ اختیار کو چیلنج کردیا، وہ جتنے تاریخی حربے استعمال کرلیں، قانون کا اطلاق عمران خان پر بھی ہوسکتا ہے، انہیں بیٹی اور توشہ خانہ کیس کا جواب دینا ہوگا۔
انکا کہنا تھا کہ عثمان بزدار کو صرف مال کمانے کے لیے وزیر اعلیٰ پنجاب لگایا گیا، انہوں نے گھڑیاں اور ہار نہیں چھوڑے، یہ ٹھیکوں ، اور تقرریوں و تبادلوں پر رشوت لیتے تھے، احسن جمیل گجر سے ہم نے بھی کئی لوگوں کی سفارش کی ہے، میرا چھوٹا بھائی خود احسن جمیل گجر کے پاس سفارش کے لیے گیا ہے، محمد انوار الحق ولد عطا محمد نے فرح گوگی کے اکاؤنٹ میں 754 بینک ٹرانزیکشنز کے ذریعے 86 کروڑ 29 لاکھ روپے جمع کرائے ہیں۔ اسی طرح فیصل مسیح، احمد منصور اور ناصر نواز بھی ہے۔ جنہوں نے 3 سال میں مجموعی طور پر 959 ٹرانزیکشنز میں ایک ارب 60 کروڑ روپے کیش جمع کرائے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ کوئی ایسا کاروبار بتادیں جس میں کوئی بینک ٹرانزیکشن، کراس چیک، منی آرڈر یا پے آرڈر نہیں، صرف نقد رقم جمع کرائی گئی۔ فرح گوگی کو عمران خان اور بشریٰ بی بی نے فرار کرایا ہے۔ 23 کروڑ روپے کے اثاثوں کی مالکہ فرح گوگی 3 سال میں ایک ارب 60 کروڑ روپے کیسے کمالیتی ہے۔ یہ کیش اس لئے ہے کہ رشوت اور کمیشن کے پیسے کیش ہوتے ہیں، عمران خان اور بشریٰ بی بی فرح گوگی کے حصہ دار تھے، عمران خان کے نکاح میں فرح گوگی گواہ ہے، وہ پاکستان کیوں نہیں آتیں، وہ نیب اور ایف آئی اے کے کیسز کا سامنا کریں، عمران نیازی نے 2019 میں فرح گوگی اور ان کے شوہر کو ایمنسٹی اسکیم کے ذریعے فائدہ پہنچایا، عمران خان کا دامن صاف تو فرح گوگی کو واپس لائیں لیکن ایسا نہیں ہوگا کیونکہ فرح آئے گی تو فر فر بولے گی، اور پھر عمران خان نے لئے بہت بڑا ایشو بن جائے گا۔
