پنکی کے فون سے ڈیلیٹ کی گئیں75ہزارتصاویر ریکور، کئی پردہ نشین بے نقاب

تحقیقاتی ادارے انمول عرف پنکی ڈان کے موبائل فون سے ڈیلٹ کی گئیں 75 ہزار سے زاید تصاویر ریکور کرنے میں کامیاب ہو گئے ہیں جس کے بعد مستقبل قریب میں کئی پردہ نشینوں کے نام سامنے آنے کا امکان پیدا ہو گیا ہے۔
خیال رہے کہ کراچی میں مبینہ ہائی پروفائل منشیات فروش انمول عرف پنکی کے خلاف جاری تحقیقات میں اہم پیش رفت اس وقت سامنے آئی جب وفاقی تحقیقاتی اداروں کی معاونت سے ملزمہ کے موبائل فون کا فرانزک تجزیہ مکمل کر لیا گیا، جس کے نتیجے میں 100 جی بی سے زائد اہم ڈیجیٹل ڈیٹا برآمد ہونے کا انکشاف ہوا ہے۔
تفتیشی ذرائع کے مطابق فرانزک رپورٹ میں 75 ہزار سے زائد تصاویر اور دیگر تصویری مواد کا سراغ ملا ہے، جبکہ سیکڑوں بینک سلپس اور آن لائن ٹرانزیکشنز کے اسکرین شاٹس بھی برآمد کیے گئے ہیں۔ حکام کا کہنا ہے کہ یہ شواہد ایک منظم مالیاتی نیٹ ورک کی نشاندہی کرتے ہیں، جس کے ذریعے مبینہ طور پر منشیات کی خرید و فروخت سے متعلق ادائیگیاں کی جاتی تھیں۔
رپورٹ کے مطابق ملزمہ کے موبائل فون سے 13 ہزار رابطہ نمبرز اور 42 ہزار کال لاگز بھی حاصل کیے گئے ہیں۔ مزید یہ کہ انمول عرف پنکی ایک ہی موبائل فون میں دو الگ واٹس ایپ اکاؤنٹس استعمال کر رہی تھی، جن میں سے ایک عام موبائل نمبر جبکہ دوسرا بزنس اکاؤنٹ کے طور پر فعال تھا۔ تفتیشی ادارے اس پہلو کا بھی جائزہ لے رہے ہیں کہ آیا یہ اکاؤنٹس مختلف نیٹ ورکس کے ساتھ رابطے کے لیے استعمال ہوتے رہے ہیں یا نہیں۔
دوسری جانب کراچی کی مقامی عدالت میں جمع کرائے گئے عبوری چالان میں بھی کئی اہم انکشافات سامنے آئے ہیں۔ چالان کے مطابق ملزمہ گزشتہ 16 برس سے منشیات کے کاروبار سے وابستہ رہی اور اس نے مبینہ طور پر کوکین کی تیاری کا طریقہ اپنے سابق شوہر سے سیکھا۔ بعد ازاں اس نے کراچی اور لاہور میں قیام تبدیل کرتے ہوئے اپنا علیحدہ نیٹ ورک قائم کر لیا۔
تحقیقاتی دستاویزات کے مطابق ملزمہ تعلیمی اداروں، نجی تقریبات اور پوش علاقوں میں اپنے کارندوں کے ذریعے کوکین کی فراہمی کرتی تھی۔ چالان میں دعویٰ کیا گیا ہے کہ سادہ کوکین 20 ہزار روپے فی گرام جبکہ "گولڈن اسٹف” 40 ہزار روپے فی گرام فروخت کی جاتی تھی۔ تفتیش کے دوران یہ بھی سامنے آیا کہ آن لائن آرڈرز کی تصدیق کے بعد مخصوص رائیڈرز کے ذریعے منشیات گاہکوں تک پہنچائی جاتی تھیں۔
اعداد و شمار کے مطابق ملزمہ کے خلاف کراچی اور لاہور میں مجموعی طور پر 27 مقدمات درج ہونے کا ذکر کیا گیا ہے، جبکہ اس کے قریبی رشتہ داروں کے خلاف بھی مختلف نوعیت کے متعدد مقدمات موجود ہیں۔ مزید برآں، تفتیش کاروں کے مطابق بعض بینک اکاؤنٹس میں کروڑوں روپے کی ٹرانزیکشنز کے شواہد ملے ہیں۔ ایک منجمد اکاؤنٹ میں 6 کروڑ 39 لاکھ روپے کی موجودگی کا بھی انکشاف کیا گیا ہے۔
حکام کے مطابق ایف آئی اے، سائبر کرائم حکام اور دیگر متعلقہ ادارے اس کیس کے مختلف پہلوؤں کا جائزہ لے رہے ہیں۔ ملزمہ کی سفری تاریخ، مالی معاملات، ڈیجیٹل روابط اور مبینہ ساتھیوں کے کردار کی بھی چھان بین جاری ہے۔ تفتیشی افسران کا کہنا ہے کہ مزید شواہد موصول ہونے کے بعد عدالت میں حتمی چالان پیش کیا جائے گا۔
تاہم یہ امر قابل ذکر ہے کہ ملزمہ نے اپنے خلاف عائد تمام الزامات کی تردید کرتے ہوئے مؤقف اختیار کیا ہے کہ اسے غیر قانونی طور پر حراست میں لیا گیا۔ اس لیے حتمی حقائق کا تعین عدالت میں شواہد اور قانونی کارروائی مکمل ہونے کے بعد ہی ممکن ہو سکے گا۔
