سرمایہ داراوں کیساتھ ملکرحکومتی IPPsبھی عوام کا خون چوسنے لگیں

پچھلے کئی روز سے پاکستان میں بجلی کے نجی کارخانوں یعنی آئی پی پیز کو کی جانے والی ادائیگیاں یعنی کپیسِٹی پیمنٹس زیرِ بحث ہے۔جہاں کئی افراد سوال کر رہے ہیں کہ یہ کارخانے بجلی بناتے ہی نہیں تو ان کو اربوں روپے کی ادائیگیوں کی کیا ضرورت ہے تو وہیں کچھ الزام لگاتے ہیں کہ ان آئی پی پیز کے پیچھے دراصل ملک کی اشرافیہ بشمول سیاستدان اور کاروباری شخصیات ہیں جو ان سے بے جا فائدہ اٹھا رہے ہیں۔اب سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ آیا واقعی بغیر پیداوار کے آئی پی پیز کو ادائیگیاں کی جا رہی ہیں اور ملک میں موجود آئی پی پیز کے اصل مالکان کون ہیں؟

گوہر اعجاز کا آئی پی پیز کے خلاف سپریم کورٹ میں مقدمہ دائر کرنے کا اعلان

خیال رہے کہ پاکستان میں کپیسِٹی پیمنٹ کو لے کر اس ساری بحث کا آغاز اس وقت ہوا جب سابق نگران وزیر تجارت گوہر اعجاز نے اپنے ایکس اکاؤنٹ پر پاور پلانٹس کو کی جانے والی ادائیگیوں کی تفصیلات جاری کیں۔انھوں نے دعوٰی کیا کہ گزشتہ مالی سال کے دوران پاور پلانٹس کو کپیسِٹی پیمنٹ کی مد میں 1900 ارب روپے کی ادائیگی کی گئی۔

سلیمان شہباز کی زیر ملکیت چنیوٹ پاور کمپنی، گوہر اعجاز کی جانب سے جاری کی جانے والی ان کمپنیوں کی فہرست میں شامل ہے، جنھیں کیپسٹی پیمنٹ کی گئی۔پاکستان کریڈٹ ریٹنگ ایجنسی کے مطابق چنیوٹ پاور کمپنی کے چیف ایگزیکٹو سلیمان شہباز شریف ہیں اور وہ کمپنی کے 94 فیصد حصص کے مالک بھی ہیں۔چنیوٹ پاور شریف گروپ کا حصہ ہے۔

پاکستان میں اس وقت آٹھ آئی پی پیز ایسے ہیں جو بیگاس سے بجلی پیدا کرتے ہیں جن میں سے سات پنجاب اور ایک سندھ میں واقع ہے۔ ان آٹھ پاور پلانٹس کی مجموعی انسٹالڈ کپیسِٹی 259 میگاواٹ ہے۔

وزارت توانائی کے ذیلی ادارے پرائیوٹ پاور اینڈ انفراسٹرکچر بورڈ کی ویب سائٹ پر دیے گئے اعداد و شمار کے مطابق بیگاس سے بجلی پیدا کرنے والے پلانٹس میں جے ڈی ڈبلیو شوگر ملز (یونٹ دوئم) اور جے ڈی ڈبلیو شوگر ملز (یونٹ سوئم) سیاست دان جہانگیر ترین کے ملکیتی جے ڈی ڈبلیو گروپ کی ملکیت ہیں۔

چنیوٹ پاور کے مالک سلیمان شہباز ہیں۔ اس کے علاوہ رحیم یار خان شوگر ملز، لیہ شوگر ملز، المعیز انڈسٹریز اور چنار انرجی لمیٹڈ بھی بیگاس سے بجلی پیدا کرنے والے پاور پلانٹس میں شامل ہیں۔

نینشل الیکٹرک پاور ریگولیٹری اتھارٹی کے سابق چیئرمین توصیف فاروقی نے اس بات کی تصدیق کی کہ کرشنگ سیزن میں جب بیگاس دستیاب ہوتا ہے اور یہ پلانٹس بجلی پیدا کرنے کے قابل ہوتے ہیں تو اس وقت انھیں بھی کپیسِٹی پیمنٹ ادا کی جاتی ہے۔ان کا کہنا تھا کہ نان کرشنگ سیزن میں کیونکہ یہ پلانٹ غیر فعال ہوتے ہیں اس لیے ایسی پیمنٹ کا کوئی جواز نہیں بنتا۔

واضح رہے کہ گوہر اعجاز کی جانب سے ایکس پر جاری کی جانے والی فہرست میں بیگاس سے چلنے والے پاور پلانٹس کو کی جانے والی کپیسِٹی پیمنٹ کا بھی ذکر ہے۔ان فہرستوں کے مطابق جن کمپنیوں کو رواں سال کے پہلے تین مہینوں یعنی جنوری سے مارچ کے دوران پیمنٹ کی گئی ان میں چنیوٹ پاور، جے ڈی ڈبلیو دوئم ، جے ڈی ڈبلیو سوئم اور بیگاس پر چلنے والے دیگر پاور پلانٹس شامل ہیں۔ تاہم سلمان شہباز کپیسٹی پیمنٹ لینے سے انکاری ہیں۔

دوسری جانب پاکستان میں کام کرنے والے آئی پی پیز کن کی ملکیت ہیں اس بارے میں سوشل میڈیا پلیٹ فارم پر مختلف آرا سامنے آئی ہیں۔

دستیاب معلومات کے مطابق ملک میں اس وقت 100 آئی پی پیز کام کر رہے ہیں جن میں فرنس آئل پر چلنے والوں کی تعداد 15، گیس اور آر ایل این جی پر چلنے والے پاور پلانٹس کی تعداد 19، پانی سے بجلی بنانے والے آئی پی پیز کی تعداد چار، درآمدی کوئلے پر چلنے والے پلانٹس کی تعداد تین، تھر کے کوئلے پر چلنے والے پلانٹس کی تعداد پانچ اور بیگاس پر چلنے والے پاور پلانٹس کی تعداد آٹھ ہے جبکہ سورج کی روشنی سے بجلی بنانے والے پلانٹس کی تعداد 10 اور ہوا سے بجلی بنانے والے پلانٹس کی تعداد 36 ہے۔

پاکستان میں کام کرنے والے ان آئی پی پیز کی ملکیت کے بارے میں جب مختلف ذرائع اور ماہرین سے بات کی گئی ہے تو ان کا کہنا تھا کہ ان میں سے بیشتر کے بارے میں معلومات اس لیے دستیاب نہیں کیونکہ بجلی کی خریداری کے معاہدے کے تحت ان کی معلومات عام افراد کے لیے دستیاب نہیں ہوتیں تاہم جو پلانٹس سٹاک مارکیٹ میں لسٹڈ ہیں ان کی معلومات باآسانی مل جاتی ہیں۔

ملک میں فرنس آئل پر چلنے والے نشاط پاور پلانٹ کی ملکیت منشا گروپ کی ہے۔ کمپنی کی سالانہ رپورٹ کے مطابق اس کے بورڈ چیئرمین ملک کی بڑی کاروباری شخصیت میاں منشا کے صاحبزادے میاں حسن منشا ہیں۔ لال پیر پاور پلانٹ بھی نشاط گروپ کی ملکیت ہے جس کے مالک میاں منشا ہیں۔ اسی طرح میاں منشا کا نشاط گروپ پاک جین کمپنی میں سب سے زیادہ حصص کا مالک ہے۔

پاکستان کریڈٹ ریٹنگ ایجنسی کے مطابق اورینٹ پاور کمپنی میں ندیم بابر کے 22 فیصد حصص ہیں جو سابقہ وزیر اعظم عمران خان کے دور میں مشیر پٹرولیم تھے۔ سیف پاور پراجیکٹ سیف گروپ آف کمپنیز کی ملیکت ہے جو خبیر پختونخوا سے تعلق رکھنے والے معروف سیاسی خاندان سیف اللہ کی ملیکت ہے۔ اینگرو پاور پراجیکٹ اینگرو انرجی لمٹیڈ کی ملکیت ہے جو ملک کے ایک بڑے کاروباری گروپ داود گروپ کی داود ہرکولیس گروپ کی ملکیت ہے۔

ماہرین کے مطابق یہ تصور درست نہیں کہ بیشتر پاور پلانٹس سیاستدانوں کی ملکیت ہیں۔اس سلسلے میں عمار حبیب نے بتایا کہ آدھے سے زائد پلانٹس خود حکومت کے ہیں یا ان میں اس کی ہولڈنگ ہے۔ اسی طرح سی پیک کے تحت لگے چینی کمپنیوں کے پلانٹس اور پرائیوٹ انویسٹرز کے پلانٹس بھی موجود ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ اس بات میں صداقت نہیں کہ بیشتر پلانٹس سیاسی خاندانوں کی ملکیت ہیں۔

ماہرین کے مطابق یہ بحث ہی غلط ہے کہ یہ آئی پی پیز کس کی ملکیت ہیں۔ان کا کہنا تھا کہ کوئی بھی چاہے وہ غیر ملکی ہو، مقامی فرد یا کوئی کمپنی ہو، جب وہ سرمایہ کاری کریں گے تو وہ اپنی سرمایہ کاری کے لیے ضمانت چاہیں گے۔ پہلی بات تو یہ ہے کہ ان آئی پی پیز میں سے 52 فیصد تو خود حکومت کی ملکیت ہیں جنھیں کپیسِٹی پیمنٹ مل رہی ہے۔

ملک میں جاری کپیسِٹی پیمنٹ کی بحث پر تبصرہ کرتے ہوئے نیپرا کے سابق چیئرمین توصیف فاروقی کا کہنا تھا کہ یہ ادائیگیاں تو گزشتہ کئی برسوں سے کی جا رہی ہیں لیکن اس پر کبھی کوئی بحث نہیں ہوئی۔تاہم جب ڈالر ریٹ بڑھا اور ادایئگیوں کی مالیت بہت زیادہ بڑھنے کی وجہ سے صارفین پر بوجھ پڑا تو پھر یہ بحث شروع ہوئی کہ یہ ادائیگیاں کیسے صارفین پر بوجھ بن رہی ہیں۔ جس حساب سے یہ پلانٹس لگائے گئے اگر پاکستان کی معیشت سات فیصد کی شرح سے ہر سال ترقی کرے تو پھر بجلی کی اتنی زیادہ کھپت ہو سکتی ہے لیکن معیشت میں یہ گروتھ نہیں ہو سکی اور یہ مسئلہ بن گیا۔انھوں نے کہا یہ تو اچھا ہوا کہ تحریک انصاف کے دور حکومت میں 25 سے 30 پاور پلانٹس کے ساتھ کپیسِٹی پیمنٹ کی ادائیگی کو 148 روپے فی ڈالر پر مقرر کر دیا گیا ورنہ جس طرح گزشتہ دو سال میں ڈالر کی قیمت بڑھی ہے تو باقی آئی پی پیز کی ساتھ ان کو بھی 280 روپے فی ڈالر کے حساب سے پیسے دینے پڑتے اور صارفین پر مزید بوجھ پڑتا۔

Back to top button