نائن زیرو میں تو بجلی نہیں، پھر شارٹ سرکٹ کیسے ہوا؟

کراچی کے علاقے عزیز آباد میں متحدہ قومی موومنٹ کے بانی الطاف حسین کے آبائی گھر میں پُراسرار طور پر خوفناک آگ لگنے کا معاملہ مشکوک ہو گیا ہے کیونکہ انکوائری کرنے والوں نے بجلی کے شارٹ سرکٹ کو آتشزدگی کا ذمہ دار قرار دیا ہے جبکہ اس گھر کی بجلی 2016 میں کاٹ دی گئی تھی۔ سندھ پولیس کے بم ڈسپوزل یونٹ کی ٹیکنیکل ٹیم نے تحقیقات کے بعد کہا ہے کہ آتشزدگی ایک کمرے میں بجلی کے شارٹ سرکٹ کی وجہ سے ہوئی، جبکہ حقیقت یہ ہے کہ نائن زیرو کی بجلی تو برسوں پہلے منقطع دی گئی تھی تاکہ اسے استعمال میں نہ لایا جا سکے۔
اب ملک کی تباہی کی ذمہ دار اسٹیبلشمنٹ ہوگی
ایم کیو ایم کے ذرائع کا کہنا ہے کہ آگ جان بوجھ کر لگائی گئی جسکا مقصد الطاف حسین کی پراپرٹی کو جلا کر خاکستر کرنا تھا۔ کراچی پولیس کے بم ڈسپوزل سکواڈ نے جو تحقیقاتی رپورٹ تیار کی ہے اس کے مطابق کراچی سینٹرل کے علاقے فیڈرل بی ایریا بلاک 8 میں واقع ایم کیو ایم کے نائن زیرو ہیڈ کوارٹر زمیں موجود ایئرکنڈیشنرز میں ایل پی جی طرز کی گیس خارج ہوئی اور کمرے بند ہونے کی وجہ سے وہیں جمع ہو گئی۔ رپورٹ کے مطابق برابر والے کمرے میں بجلی کے بورڈز اور تار کے گچھے لٹک رہے تھے، ایسے میں بجلی کے ایک تار میں شارٹ سرکٹ ہوا تو کمرے میں پہلے سے موجود گیس کی وجہ سے زوردار دھماکہ ہوا جس سے مکان کے فرنٹ سائیڈ کی کھڑکیاں اور دروازے اڑ کر گلیوں میں جا گرے اور بجلی کے تاروں کی وجہ سے آگ بھڑک اٹھی۔
واضح رہے کہ 9 ستمبر کی رات 2 بجکر 15 منٹ پر ون فائیو کی جانب سے آگ کی اطلاع دی گئی تھی۔ فائر بریگیڈ مرکز کے مطابق 9 ستمبر کی رات 02:22 بجے سندھ رینجرز کی جانب سے نائن زیرو میں آگ لگنے کی اطلاع ملی جس پر آگ بجھانے والی دو گاڑیاں جائے وقوعہ پر روانہ کی گئیں۔فائر بریگیڈ کا عملہ اور گاڑیاں 9 گھنٹے 18 منٹ بعد جمعہ کی دوپہر 11:40 بجے سینٹرز پر واپس پہنچیں۔فائر بریگیڈ آفیسر کی جانب سے عام طور پر آتشزدگی کے ہر واقعہ کی رپورٹ مرکز میں جمع کرائی جاتی ہے جس میں آگ لگنے کی وجوہات اور اس سے ہونے والے نقصانات کا اندازہ لگایا جاتا ہے تاہم نائن زیرو سے واپس آنے والی فائر بریگیڈ کی ٹیم کی جانب سے رپورٹ جمع نہیں کرائی جا سکی۔
سینئر سپریٹنڈنٹ پولیس سینٹرل معروف عثمان کے مطابق پولیس کی جانب سے آتشزدگی کے واقعات کی تحقیقات کی رپورٹ فائنل نہیں ہوسکتی ہے۔ انہوں نے بتایا کہ آتشزدگی سے کسی جانی نقصان کی اطلاع نہیں ملی، آگ لگنے کی وجوہات کی جانچ پڑتال کے لیے متعلقہ شعبہ کام کر رہا ہے، پولیس کو انہی اداروں کی رپورٹ پر انحصار کرنا ہے۔ انہوں نے بتایا کہ اس سلسلے میں کسی شرپسندی یا تخریب کاری کی اطلاع نہیں ملی۔ واضح رہے کہ متحدہ قومی موومنٹ کے ہیڈ کوارٹر زنائن زیرو کو 6 سال قبل اگست 2016 میں بند کر دیا گیا تھا۔ متحدہ ذرائع کے مطابق شارٹ سرکٹ سے آگ لگنے کا دعویٰ جھوٹ پر مبنی ہے کیونکہ اس جگہ کی بجلی اور گیس سپلائی چھ برس پہلے منقطع ہو چکی ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ آگ جان بوجھ کر لگائی گئی اور اس کا مقصد الطاف حسین کی پراپرٹی کو جلا کر خاکستر کرنا تھا۔ عزیز آباد پولیس کا کہنا ہے کہ نائن زیرو میں آتشزدگی سے املاک کو کافی نقصان پہنچا ہے مگر کوئی جانی نقصان نہیں ہواان کا کہنا تھا کہ آگ اتنی شدید تھی کہ اسکی شدت کی وجہ سے عمارت کی کھڑکیاں اور دروازے اکھڑ گئے اور ایک دیوار بھی گر گئی۔
انہوں نے کہا کہ دو پلاٹوں پر بنی عمارتیں عرصے سے بند ہیں جہاں کوئی مقیم نہیں ہے، تقریباً نصف درجن فائر ٹینڈرز نے بھرپور کوششوں کے بعد آگ پر قابو پالیا تاہم کوئی جانی نقصان نہیں ہوا۔
خیال رہے کہ چھ برس پہلے 23 اگست 2016 کو پولیس اور رینجرز نے متحدہ قومی موومنٹ کے مرکز نائن زیرو سمیت متحدہ کے کئی سیکٹر اور یونٹ آفسز سیل کردیے تھے۔ قانون نافذ کرنے والے اداروں کی جانب سے یہ اقدامات ایم کیو ایم کے قائد الطاف حسین کے ملک مخالف بیانات اور کارکنوں کو میڈیا کے دفاتر کے گھیراؤ کا حکم دینے کے بعد اٹھائے گئے تھے۔
