دہشتگردی کےمقدمہ میں عمران کو جے آئی ٹی کا ایک اور نوٹس

چیئرمین تحریک انصاف وسابق وزیراعظم عمران خان کوجج زیبا چوہدری کو دھمکیاں دینے کی پاداش میں درج مقدمہ میں جوائنٹ انویسٹی گیس ٹیم نے ایک اورنوٹس جاری کر دیا۔
سپرنٹنڈنٹ آف پولیس (ایس پی) انوسٹی گیشن ایسٹ اسلام آباد کے دفتر سے جاری نوٹس میں چیئرمین پی ٹی آئی عمران خان سے کہا گیا ہے کہ آج شام 5 بجے تھانہ مارگلہ میں جے آئی ٹی میں پیش ہو کرسوالات کے جواب دیں۔
جاری نوٹس میں کہا گیا ہے کہ 9 ستمبر کو دن 3 بجے جے آئی ٹی نے مقدمے کے حوالے سے تفتیش کے لیے طلب کر رکھا تھا اورجے آئی ٹی منتظررہی، چیئرمین پی ٹی آئی سے کہا گیا کہ آپ 12 ستمبر تک انسداد دہشت گردی عدالت سے عبوری ضمانت پرہیں اورعدالت کے حکم کے باوجود شامل تفتیش نہیں ہوئے اور نہ ہی وقوع کے بارے میں اپنا مؤقف پیش کی۔
پولیس نے بتایا کہ جے آئی ٹی کے سامنے پیشی کے لیے جاری نوٹس کی تعمیل عمران خان کے چیف سیکیورٹی افسر ایس پی راجا طاہر کے ذریعے کرائی گئی ہے،نوٹس کی تعمیل ہونے کے باوجود عمران خان تھانے میں پیش نہیں ہوئے،عمران خان کو گزشتہ روز بھی طلبی کا نوٹس جاری ہوا تھا تاہم ان کی جانب سے تحریری جواب تھانے میں جمع کرا دیا تھا۔
قائد اعظم کو شہباز شریف اور آصف زرداری کا خراج عقیدت
واضح رہے کہ 6 ستمبر کو اسلام آباد ہائی کورٹ نے ایڈیشنل سیشن جج زیبا چوہدری کو دھمکی دینے کے کیس میں پولیس کو انسداد دہشت گردی کی عدالت میں چالان جمع کرانے سے روکتے ہوئے عمران خان کو دہشت گردی کے مقدمے میں شامل تفتیش ہونے کا حکم دیا تھا۔چیف جسٹس اسلام آباد ہائی کورٹ اطہر من اللہ کی سربراہی میں بینچ نے عمران خان کی دہشت گردی کا مقدمہ خارج کرنے کی درخواست پر سماعت کی تھی اور اسی دوران وکلا کے دلائل سننے کے بعد عمران خان کے خلاف اخراج مقدمہ کی درخواست پر سماعت 15 ستمبر تک ملتوی کرتے ہوئے سابق وزیر اعظم کو مقدمے میں شامل تفتیش ہونے کی ہدایت کی گئی تھی۔
یاد رہےکہ20اگست کو سابق وزیر اعظم عمران خان کے خلاف اسلام آباد کے علاقے صدر کے مجسٹریٹ علی جاوید کی مدعیت میں تھانہ مارگلہ میں انسداد دہشت گردی ایکٹ کے تحت مقدمہ درج کیا گیا تھا۔ ایف آئی آر میں کہا گیا تھا کہ 20 اگست کو پاکستان تحریک انصاف رہنما شہباز گِل کی گرفتاری کے خلاف عمران خان کی قیادت میں ریلی نکالی گئی جس کا راستہ زیرو پوائنٹ سے ایف 9 پارک تک تھا، اس دوران عمران خان کی تقریر شروع ہوئی جس میں انہوں نے اسلام آباد پولیس کے اعلیٰ ترین افسران اور ایک معزز خاتون ایڈیشنل جج صاحبہ کو ڈرانا اور دھمکانا شروع کیا۔
خطاب میں عمران خان نے اسلام آباد پولیس کے آئی جی اور ڈی آئی جی کے خلاف مقدمہ درج کرنی کے دھمکی دیتے ہوئے کہا تھا کہ ہم تم کو چھوڑیں گے نہیں، اس کے بعد انہوں نے عدلیہ کو اپنی جماعت کی طرف متعصب رویہ رکھنے پر بھی خبردار کرتے ہوئے کہا تھا کہ اب وہ بھی نتائج کے لیے تیار ہو جائیں، عمران خان نے ایڈیشنل اور سیشن جج زیبا چوہدری کو بھی خبردار کرتے ہوئے کہا تھا کہ ان کو بھی سنگین نتائج کا سامنا کرنا ہوگا۔
واضح رہے کہ خاتون جج نے دارالحکومت پولیس کی درخواست پر پاکستان تحریک انصاف کے رہنما ڈاکٹر شہباز گِل کا دو روزہ جسمانی ریمانڈ منظور کیا تھا۔
ایف آئی آر کے مطابق عمران خان کی اس تقریر کا مقصد پولیس کے اعلیٰ افسران اور عدلیہ کو خوف زدہ کرنا تھا تاکہ وہ اپنے فرائض کی ادائیگی نہ کریں اور ضرورت پڑنے پر تحریک انصاف کے کسی رہنما کے خلاف کارروائی کرنے سے بھی گریز کریں، عمران خان کی اس انداز میں کی گئی تقریر سے پولیس حکام، عدلیہ اور عوام الناس میں خوف و ہراس پھیل گیا ہے اور عوام الناس میں بے چینی، بدامنی اور دہشت پھیلی اور ملک کا امن تباہ ہوا ہے۔ایف آئی آر میں استدعا کی گئی تھی کہ عمران خان کے خلاف قانونی کارروائی کرکے ان کو مثالی سزا دی جائے۔
پی ٹی آئی چیئرمین عمران خان نے 25 اگست کو انسداد دہشت گردی کی عدالت سے ایک لاکھ روپے کے ضمانتی مچلکوں کے عوض یکم ستمبر تک عبوری ضمانت منظور حاصل کرلی تھی۔بعد ازاں یکم ستمبر کو انسداد دہشت گردی عدالت نے دہشت گردی کے مقدمے میں سابق وزیر اعظم عمران خان کی عبوری ضمانت میں ایک لاکھ روپے کے مچلکے کے عوض 12 ستمبر تک توسیع کردی تھی۔
