APS کیس، حکومت کو رپورٹ جمع کرانے کیلئے 3 ہفتوں کی مہلت

عدالت عظمیٰ نے APS حملہ کیس میں حکومت کو رپورٹ جمع کرانے کے لیے مزید 3 ہفتوں کی مہلت دیدی۔ عدالت نے حکومت کی جانب سے مانگی گئی مہلت کو منظور کرلیا۔

امکان ظاہر کیا جا رہا ہے کہ کیس کی سماعت سردیوں کی چھٹیوں کے بعد ہونے کا امکان ہے ، حکومت نے 10 دسمبر تک وزیراعظم عمران خان کی دستخط شدہ رپورٹ جمع کروانی تھی۔

ایڈیشنل اٹارنی جنرل ساجد الیاس بھٹی کی جانب سے سپریم کورٹ میں 3 صفحات پر مبنی رپورٹ جمع کروائی گئی جس میں بتایا گیا کہ عدالت کے احکامات کے مطابق وزیراعظم نے سانحہ اے پی ایس میں جاں بحق ہونے والے طلبہ کے لواحقین سے ملنے اور ان کے مطالبات سننے کے لیے 4 رکنی کمیٹی تشکیل دی۔

وزیراعظم کی جانب سے تشکیل کر دہ کمیٹی میں وفاقی وزیر برائے انسانی حقوق ڈاکٹر شیریں مزاری، وفاقی وزیر برائے اقتصادی امور عمر ایوب خان، وزیر برائے بین الصوبائی ہم آہنگی ڈاکٹر فہمیدہ مرزا اور وزیر برائے ریاستی و سرحدی علاقہ جات صاحبزادہ محمد محبوب سلطان شامل ہیں۔

وزارت دفاع اور داخلہ کے ایڈیشنل سیکریٹریز کمیٹی کے اجلاسوں میں خصوصی شرکت کریں گے ، عدالت عظمیٰ کے رول 6 آرڈر 33 کے تحت دائر کردہ حکومتی درخواست میں والدین کے ساتھ کابینہ کی کمیٹی کی ملاقات کے نتائج کو رپورٹ میں شامل کرنے کی بھی اجازت طلب کی ہے۔
یہ بھی پڑھیں: الیکشن کمیشن میں 8 نئی سیاسی جماعتوں کا اندراج
10 نومبر کو ہونے والی سماعت میں چیف جسٹس آف پاکستان جسٹس گلزار احمد کی سربراہی میں قائم 3 رکنی بینچ نے حکم دیا تھا کہ حکومت، متاثرہ والدین کی بات سنے اور 4 ہفتوں کے اندر وزیر اعظم کی دستخط شدہ رپورٹ عدالت میں پیش کریں۔

Back to top button