اداکار یاسر حسین کس سفاک خونی مجرم کا روپ دھار لیا


اداکار یاسر حسین کی ہارر تھرلر فلم ’’جاوید اقبال: دی ان ٹولڈ سٹوری آف اے سیریل کلر‘‘ کا ٹریلر ریلیز کر دیا گیا ہے جس میں اداکارہ عائشہ عمر کو پولیس افسر کے کردار میں دکھایا گیا ہے جبکہ یاسر نے سو بچوں کے سفاک قاتل جاوید اقبال کا کردار ادا کیا ہے۔ فلم کو رواں ماہ ریلیز کرنے کا اعلان کیا گیا ہے۔ یاد رہے کہ جاوید اقبال لاہور کا ایک سائیکو ریپسٹ تھا جس نے 100 سے زائد بچے اغوا کے بعد ریپ کر کے قتل کرنے کا اعتراف کیا تھا۔ جاوید اقبال کو سزائے موت سنائی گئی تھی لیکن اس نے جیل میں پھانسی سے پہلے ہی خود کو پھندا لگا کر خود کشی کرلی۔

اب اس معاملے پر بنائی گئی فلم میں اداکار یاسر حسین نے جاوید اقبال کا کردار ادا کیا ہے۔ فلم کے مختصر ٹریلر میں پس منظر میں بچوں کے قاتل کا کردار ادا کرنے والے یاسر حسین کی آواز سنائی دیتی ہے اور پھر فلم کے بھیانک مناظر نظر آتے ہیں۔ ٹریلر میں جہاں فلم کے مرکزی کردار جاوید اقبال کے اعتراف جرم سنایا گیا ہے، وہیں اس میں اداکارہ عائشہ عمر کی بطور پولیس افسر جھلکیاں بھی دکھائی گئی ہیں۔

فلم ’’جاوید اقبال دی ان ٹولڈ سٹوری آف اے سیریل کلر” کو رواں ماہ کرسمس کے موقع پر 24 دسمبر کو ریلیز کرنے کا اعلان کیا گیا۔ اس ٹریلر کو یاسر حسین اور عائشہ عمر کے علاوہ فلم کے ہدایت کار ابو علیحہ نے بھی سوشل میڈیا پر شیئر کیا ہے۔فلم کی کہانی پنجاب کے دارالحکومت لاہور کے بدنام سیریل کلر ’جاوید اقبال مغل‘ کے جرائم اور اسکے ٹرائل کے گرد گھومتی ہے۔
یہ بھی پڑھیں: ملک کے پسماندہ علاقوں کو ترقی دیں گے
یاد رہے کہ لاہور پولیس جاوید اقبال کو پکڑنے میں کبھی کامیاب نہ ہوتی اگر وہ خود سرنڈر نہ کرتا۔ 1999 میں جاوید اقبال نے پولیس کو ایک خط لکھا تھا جس میں اس نے 100 بچوں کے قتل کا اعتراف کیا تھا جن کی عمریں 6 سے 16 سال کے درمیان تھیں، اس نے ساتھ میں یہ بھی اعتراف کیا تھا کہ اس نے زیادہ تر بچوں کو گلا گھونٹ کر مارا اور ان کے جسم کے کئی ٹکڑے بھی کیے۔ جب ان سے پوچھا گیا کہ ان بچوں کی لاشیں کہاں گئیں تو اس نے بتایا کہ میں لاشوں کو کیمیکل کے ڈرم میں ڈال کر تیزاب سے پگھلا دیا کرتا تھا۔ جاوید اقبال نے اکتوبر 2001 میں لاہور جیل میں خودکشی کی تھی جسے قتل بھی قرار دیا جاتا ہے۔

Back to top button