نیند کی کمی انسانی صحت کو کیسے متاثر کرتی ہے؟
آجکے تیز اور مصروف ترین دور میں اکثر لوگ نیند کے لیے بہت کم وقت نکال پاتے ہیں، ملازمت پیشہ لوگ آفس کے بعد گھر میں بھی رات دیر تک کام میں مصروف رہتے ہیں۔ اسی طرح طلبا رات گئے تک پڑھائی کرتے ہیں اور رات لیٹ سونے کے بعد صبح جلدی اٹھتے ہیں۔ لیکن ایسا کرتے وقت ہم اکثر بھول جاتے ہیں کہ انسانی جسم کو صحت مند رکھنے کیلئے بروقت اور پوری نیند بہت ضروری ہوتی ہے۔ طبی ماہرین کے مطابق نیند کی کمی انسان کے لیے کئی طبی مسائل کا خطرہ بڑھا دیتی ہے۔ نیند کی کمی کا سب سے بڑا نقصان یہ ہے کہ انسان وقت سے پہلے بوڑھا ہو جاتا ہے۔
برطانیہ کی مشہور ایکسٹر یونیورسٹی کی ایک تحقیق کے مطابق نیند کے دوران ہمارا جسم جلدی خلیات کی مرمت کرتا ہے جس سے ان ہارمونز کی مقدار میں اضافہ ہوتا ہے جو بڑھاپے کے اثرات سے بچاﺅ کے لیے اہم کردار ادا کرتے ہیں۔ ریسرچ کے مطابق ایک رات بھی آپ کی نیند پوری نہ ہو تو جسمانی نظام ڈسٹرب ہو جاتا ہے اور صحت پر منفی اثرات ڈالتا ہے۔ اس تحقیق میں درمیانی عمر کی خواتین پر کیے جانے والے تجربات سے معلوم ہوا کہ جو خواتین کم نیند لینے کے عادی تھیں ان کی جلد قبل از وقت بڑھاپے کا شکار ہونا شروع ہو گئی ۔ ان خواتین کی جلد میں لکیریں، جھریاں، ناہمواری اور خم آنا شروع ہو گیا تھا جوکہ بڑھاپے کی علامات ہوتی ہیں۔
برطابوی تحقیق کے مطابق درمیانی عمر کے ایسے افراد جو نیند کی کمی کا شکار ہوتے ہیں، ان کا عمر بڑھنے کے بارے میں تصور منفی ہو جاتا ہے جس کا نتیجہ جسمانی، ذہنی اور ذہنی صحت پر منفی اثرات کی شکل میں مرتب ہوتا ہے۔ یہ بھی کہا گیا کہ جو لوگ خراب نیند لیتے ہیں وہ خود کو بوڑھا بھی سمجھنا شروع کر دیتے ہیں۔ محققین نے بتایا کہ عمر بڑھنے کے ساتھ ہم سب کو اپنی زندگی کے مختلف حصوں میں مثبت اور منفی تبدیلیوں کا تجربہ ہوتا ہے، مگر کچھ افراد بہت زیادہ منفی تبدیلیوں کو محسوس کرتے ہیں۔ جیسا ہم جانتے ہیں کہ بڑھاپے کے بارے میں منفی تصورات مستقبل میں جسم، دماغ اور ذہن کی صحت کا تعین کرتی ہے۔
برطانوی تحقیق سے یہ بھی پتہ چلا کہ ناقص نیند کے منفی اثرات انسانی جسم اور ذہن دونوں کو بری طرح متاثر کرتے ہیں۔ اس تحقیق میں 50 سال یا اس سے زائد عمر کے 4482 افراد کو شامل کیا گیا تھا جنکے مسلسل ذہنی ٹیسٹ کیے گئے اور ان کے طرز زندگی کے بارے سوالنامے بھروائے گئے۔ برطانوی تحقیق کا بنیادی مقصد یہ سمجھنا تھا کہ ایسے کونسے عناصر ہیں جو بڑھاپے میں لوگوں کو ذہنی طور پر صحت مند رکھنے میں مدد فراہم کرتے ہیں۔
یہ بھی پڑھیں: عمران خان سے جان چھڑانے کیلئے سمجھوتہ طے ہونے کے قریب
محققین نے بتایا کہ جن لوگوں کو نیند کے مسائل کا سامنا ہوتا ہے ان میں جلد بڑھاپے کا امکان بھی دیگر لوگوں سے بہت زیادہ ہوتا ہے۔بڑھاپے کے اثرات انکے چہرے پر بھی جلدی نظر آنا شروع ہو جاتے ہیں لہذا اگر آپ اپنی صحت اچھی رکھنا چاہتے ہیں اور جوان نظر آنا چاہتے ہیں تو روزانہ ایک مقررہ وقت پر سو جائیں اور کم از کم آٹھ گھنٹے کی نیند پوری کریں۔
