عمران مخالف عدم اعتماد لانے کے لیے مشاورت تیز

سینئر صحافی نجم سیٹھی نے کہا ہے کہ مسلم لیگ نواز، پیپلز پارٹی اور اسٹیبلشمینٹ کے سیاسی اثاثہ جات عمران خان کے خلاف ایک کامیاب تحریک عدم اعتماد لا سکتے ہیں جس کے لیے مشاورت تیز ہو گئی ہے۔
ہفت روزہ فرائیڈے ٹائمز کے لیے اپنے تازہ ایڈیٹوریل میں نجم سیٹھی کہتے ہیں کہ مہنگائی کے مارے پاکستانیوں کے معیار زندگی کو بلند کرنے پر توجہ دینے کی بجائے کپتان حکومت اپوزیشن اور میڈیا کے خلاف اپنی توانائیاں ضائع کر رہی ہے۔ جمہوری آزادیوں پر ہاتھ صاف کرنے کے بعد حکومت میڈیا اور الیکشن کمیشن کی آزادی سلب کرنے کے لیے کوشاں ہے۔ دوسری جانب اندرونی اور بیرونی محاذوں پر پاکستان شدید مشکلات کا شکار ہے اور عالمی تنہائی کا شکار ہو کر قرضوں کی گہری کھائی میں گر چکا ہے۔ سول سوسائٹی اور الیکشن کمیشن کے جائز اعتراضات کے باوجود عمران کا الیکٹرانک ووٹنگ مشین کے استعمال پر اصرار ایک مشکوک معاملہ ہے۔ انھوں نے وفاقی وزرا، فواد چوہدری، شبلی فراز، اعظم سواتی وغیرہ کو الیکشن کمیشن پر چڑھائی کرنے اور اسے دھمکیاں دینے کے لیے میدان میں اتارا ہے۔ انھوں نے قانون اور آئین کے مطابق دو خالی اسامیوں کو پُر کرنے کے لیے قائد حزب اختلاف سے مشورہ کرنے سے انکار کر دیا ہے۔ اس کی وجہ سے ای سی پی نامکمل ہے۔
نجم سیٹھی کا کہنا ہے کہ پارٹی فنڈز میں اربوں روپے کی خوردبرد کے بے تحاشا ثبوت سامنے آنے کے بعد عمران خان الیکشن کمیشن کی ساکھ خراب کرنے کے درپے ہیں اور ای سی پی کے لیے انکی نفرت صاف ظاہر ہو رہی ہے۔ وہ مختلف حیلوں اور بہانوں سے پچھلے سات برس سے اپنے خلاف دائر کردہ فارن فنڈنگ کیس کا فیصلہ لٹکائیں چلے جا رہے ہیں۔ ایسا لگتا ہے کہ عمران ممکنہ صورت میں الیکشن کمیشن کے خلاف انتقامی کارروائی کے لیے میدان تیار کر رہے ہیں، اس سے پہلے کہ ای سی پی ان پر غیر ملکی فنڈنگ کیس میں بدعنوانی ثابت ہونے پر فرد جرم عائد کردے۔ یاد رہے کہ یہ کیس اب حتمی مراحل میں ہے۔
سیٹھی کا کہنا ہے کہ دوسری جانب عمران خان پاکستانی عوام میں پائے جانے والے امریکہ مخالف جذبات کو کیش کروانے کی کوششوں میں مصروف نظر آتے ہیں۔ مثلا انکا ایبسلوٹلی ناٹ والا تبصرہ اور افغانستان میں طالبان کی فتح کو غلامی کا طوق کاٹنے کے مترادف قرار دینا اسی سلسلے کی کڑیاں ہیں۔ ان بیانات کا مقصد پاکستان میں امریکہ مخالف جذبات سے مکمل فائدہ اٹھانا ہے حالانکہ انکی حکومت اب بھی امریکی حکام کے ساتھ خفیہ مذاکرات میں مصروف ہے۔ اسی طرح ان کی ”اسلامو فوبیا” پر ”تنقید” اور ”ریاست مدینہ” کے حوالوں کا مقصد بھی ملک کی بڑھتی ہوئی ”یوتھیا” آبادی کی حمایت حاصل کرنا ہے۔
نجم سیٹھی کہتے ہیں کہ درحقیقت، بھارت کے ساتھ تجارت پر عمران کا یو ٹرن، آرمی چیف جنرل قمر باجوہ کی جانب سے تجویز کردہ ”نارملائزیشن پراسس” کے برخلاف تھا۔ دوسری جانب عمران ذاتیات پر اترتے ہوئے جوبائیڈن، انتھونی بلنکن وغیرہ کو ”لاعلم“ اور نریندر مودی کو ”فاشسٹ“ قرار دیے چکے ہیں۔ بقول نجم، امریکہ کی جانب سے کروائی جانے والی ڈیموکریسی کانفرنس میں شرکت سے عمران کا آخری لمحات میں انکار اپنی گرتی ہوئی ساکھ کو بحال کرنے کی کوشش ہے۔ آنے والے مہینوں میں وہ اپنے سیاسی کیریئر کو بچانے کے لیے ”موت کے بعد کی زندگی” کے مقبول بیانیے پر چلتے ہوئے کوئی بھی سیاسی مس ایڈونچر کر سکتے ہیں۔
دوسری جانب سیٹھی کے خیال میں اسٹیبلشمنٹ نے بھی فیصلہ کیا ہے کہ وہ عمران خان کی وجہ سے ہونے والے نقصانات کو کم کرے اور دوبارہ بنیادی امور کی طرف توجہ دے۔ اسٹیبلشمنٹ کی سوچ بدلنے میں توقع سے زیادہ وقت لگا ہے کیونکہ کچھ اعلیٰ جرنیلوں کے ذاتی عزائم نے پانی بہت گدلا کردیا تھا۔ لیکن بظاہر اب معاملہ حل ہوچکا۔ نئے اقدامات اور آپشنز پر غور کیا جا سکتا ہے۔ مسلم لیگ نواز، پیپلز پارٹی اور فوجی اسٹیبلشمینٹ کے اثاثہ جات کی طرف سے عمران کے خلاف کامیاب عدم اعتماد کا ووٹ آسکتا ہے، خصوصا جیسے ہی مسلم لیگ، پیپلز پارٹی اور فوجی اسٹیبلشمینٹ کے درمیان کچھ اہم معاملات پر قابل اعتماد مفاہمت ہوتی ہے۔ سیٹھی کہتے ہیں چونکہ اس کے لیے کچھ وقت درکار ہے، اس لیے پی ڈی ایم نے اپنا لانگ مارچ تین ماہ تک ملتوی کر دیا ہے۔ تمام جماعتوں کو اب احساس ہو چکا ہے کہ پہلے عمران خان سے جان چھڑائی جائے اور گھر کو صاف کیا جائے۔ اسکے لیے ایک عملی سیاسی سمجھوتہ طے ہونے جارہا ہے۔ ایسے میں عمران ایک دن خود سیاسی شہید بننے کا فیصلہ بھی کر سکتے ہیں! لیکن اب یہ بیانیہ کام نہیں دے گا۔ عمران خان اپنی خود پسندی سے بہت سے لوگوں کو خود سے الگ کر چکے ہیں۔ اب وہ پیچھے مڑ کر نہیں دیکھیں گے۔ اس کے بجائے، جس دن ان کی حکومت کے خلاف عدم اعتماد کا ووٹ پیش کیا جائے گا، پارلیمنٹ کے اندر اور باہر نواز لیگ کے ٹکٹ کے لیے دوڑ لگا جائے گی۔ اس ماحول سے یہ تاثر جائے گا کہ نواز لیگ کا فوجی اسٹیبلشمنٹ کے ساتھ معاملہ طے ہوچکا ہے۔ اس کے بعد کوئی بھی پیچھے مڑ کر دیکھنے اور اپنے ضمیر کی آواز سننے کے لیے توقف نہیں کرے گا۔ باقی کام مناسب وقت پر ہوتے رہیں گے۔

Back to top button