شہباز شریف لاہور میں فضائی آلودگی کے ذمہ دار قرار
لاہور میں بڑھتی ہوئی فضائی آلودگی کی بنیادی وجہ خادم اعلی پنجاب شہباز شریف کی 10 سالہ حکومت کے زیر سایہ شہر سے لاکھوں درختوں کو کاٹ کر لاہور کو کنکریٹ کے جنگل میں تبدیل کرنا ہے۔ لہذا اب کئی برسوں سے ہر سال فضائی آلودگی سموگ کی شکل اختیار کر کے اپنی تمام تر خوفناکی کے ساتھ اکتوبر میں شہر کو اپنی لپیٹ میں لے لیتی ہے اور تقریباً جنوری کے مہینے تک بھی اسے دیکھا جاسکتا ہے۔ صوبائی حکومت اسے وقتی مسئلے کے طور پر دیکھتی ہے جبکہ حقیقت تو یہ ہے کہ یہاں کی فضا سال بھر آلودہ رہتی ہے۔
ڈان گروپ سے وابستہ لکھاری بیرسٹر اسد رحیم خان اپمی تازہ تحریر میں کہتے ہیں کہ لاہور کی آلودگی کی وجہ جاننے کے لیے ضروری ہے کہ اس شہر کی ماضی قریب کی تاریخ پر نظر دوڑائی جائے۔ وہ بتاتے ہیں کہ تحریک انصاف کی حکومت آنے سے قبل لاہور میں 10 سال تک شہباز شریف برسرِ اقتدار رہے۔ چوڑی سڑکوں اور سگنل فری کوریڈور کی خاطر خادم اعلی شہباز شریف نے لاہور کے ہزاروں درختوں کو بجلی کی تیزی سے کاٹا۔ ایک شہری منصوبہ ساز لیوئس ممفورڈ نے 1955ء میں کہا تھا کہ ٹریفک سے نمٹنے کے لیے سڑکیں چوڑی کرنا ایسا ہی ہے جیسے موٹاپے کے حل کے لیے اپنی بیلٹ ڈھیلی کرنا۔ لیکن شاید شہباز شریف نے یہ نا سنا ہو۔ چنانچہ انہیں معاف کیا جا سکتا ہے۔
لیکن اسد رحیم خان کہتے ہیں کہ آج لاہور میں فضائی آلودگی کی جو صورت حال ہو چکی ہے اس پر خادم اعلی کو معاف کرنا مشکل ہے۔ انکا کہنا ہے کہ پورے لاہور کو سیمنٹ کے جنگل میں تبدیل کرنے کے بعد شہباز شریف کو کچھ خیال آیا اور انہوں نے بھارتی پنجاب کے وزیرِ اعلیٰ امریندر سنگھ کو ایک خط لکھا۔ انہوں نے خط میں اسموگ کے تدارک کے لیے ایک ’علاقائی تعاون کے معاہدے‘ کی تجویز دی۔
لیکن یہ بات ابھی تک واضح نہیں ہے کہ اگر یہ معاہدہ ہوجاتا تو کاٹے گئے ہزاروں درخت کس طرح دوبارہ اُگ جاتے۔ بہرحال لاہور کے تقریباً ایک کروڑ 10 لاکھ انسانوں کی جلتی آنکھوں اور گھٹتی سانسوں کو بچانے کے لیے اب اس مسئلے کو حل کرنے کا وقت آگیا ہے۔ اقوامِ متحدہ کی تنظیم برائے خوراک و ذراعت کے مطابق پنجاب میں فضائی آلودگی کا باعث بننے والے مادوں کا اخراج سب سے زیادہ ٹرانسپورٹ کے شعبے، پھر صنعتوں اور اس کے بعد ذراعت کے شعبے سے ہوتا ہے۔ یعنی کھیتوں میں آگ لگانا اسموگ کی ایک وجہ ضرور ہے لیکن یہ اسکی بنیادی وجہ نہیں ہے۔
ماحولیاتی ماہرین کا کہنا ہے کہ اسموگ کے تدارک کے لیے ضروری اقدامات کی فہرست طویل ہے۔ سب سے پہلے تو کم معیار کے زیادہ گندھک والے ڈیزل کی درآمد کو بند کرنا ہوگا، پھر گاڑیاں بنانے والی بڑی کمپنیوں کو کم آلودگی خارج کرنے والی گاڑیاں بنانے پر تیار کرنا، آئل ریفائنریز کو کم گندھک والے ایندھن کی تیاری پر منتقل کرنا، کوئلے سے بجلی بنانے والے بجلی گھروں سے جان چھڑانا، صنعتی شعبے کو ایسی ماحول دوست پالیسیوں سے ریگولیٹ کرنا جو کاغذی کارروائی تک محدود نہ ہوں، پبلک ٹرانسپورٹ کی حوصلہ افزائی کرنا، درختوں میں اضافہ کرنا اور کھیتوں میں آگ لگانے کے عمل کو روکنا ہوگا۔
لیکن ان تمام کاموں کے لیے کافی وقت درکار ہوگا۔ اس حوالے سے کچھ قانونی مسائل بھی ہیں۔ 18ویں ترمیم کے بعد سے زمین کو سرسبز اور صاف ستھرا رکھنے کی ذمہ داری وفاق سے صوبوں کو دے دی گئی تھی۔ اسی وجہ سے وفاقی وزارتِ ماحولیات کو وزارتِ ماحولیاتی تبدیلی کا نام دے دیا گیا۔ تاہم اسموگ کے مسئلے کے حل کے لیے کم از کم ایک قومی سطح کی کوشش کی ضرورت ہے جس میں تقریباً تمام حکومتی شعبے، خاص طور پر وفاقی پیٹرولیم ڈویژن کا شامل ہونا بہت ضروری ہے۔
اسد رحیم۔کا کہنا یے کہ ہم اب تک فضائی آلودگی کی ذمہ دار ایک بنیادی وجہ کی نشاندہی نہیں کر پائے۔ یہ وہ وجہ ہے جو فضا میں اسموگ کے ساتھ ساتھ، زمین پر خشک سالی، شہروں میں پُرتشدد واقعات اور تقریباً تمام قومی مسائل کی وجہ بنتی ہے، اور وہ وجہ ہے ہماری آبادی۔ انکا کہنا ہے کہ شرح پیدائش اور گاڑیوں کی تعداد میں اضافے اور وسائل اور زمین کی فراہمی میں پیدا ہوتی ہوئی تنگی کی وجہ سے ہم ایک ایسے بحران سے قریب تر ہوتے جا رہے ہیں جس سے نکلنا ہمارے بس میں نہیں ہوگا۔ لہذا اس بحران سے بچنے کے لیے آج اور ابھی سے کوششیں شروع کرنا ہوں گی۔
