زرداری اگلی حکومت بنانے کا خواب کیوں دیکھ رہے ہیں؟
وزیراعظم عمران خان کی اس نصیحت کو اپنے پلے سے باندھتے ہوئے کہ انسان کو زندگی میں ہمیشہ بڑے خواب دیکھنے چاہئیں، پیپلز پارٹی کے شریک چیئرمین آصف علی زرداری نے اس نصیحت کو پلے سے باندھتے ہوئے وفاق میں اگلی حکومت بنانے کا خواب دیکھنا شروع کر دیا ہے۔
سینئر صحافی فہد حسین اپنے تازہ تجزیے میں کہتے ہیں کہ آصف زرداری سیاست کو اتنا ہی سمجھتے ہیں جتنا بابر اعظم بیٹنگ کو۔ چنانچہ انہوں نے جیسے ہی فیلڈ میں دو کھلاڑیوں کے بیچ فاصلہ دیکھا، کور ڈرائیو پر چوکا دے مارا۔ فہد کہتے ہیں کہ پیپلز پارٹی کی قیادت اچھی طرح جانتی یے کہ درست اشارے دیے جائیں تو نقل مکانی کر جانے والے پرندے اڑان بھر کر واپس بھی آ جاتے ہیں۔ اسی لئے پارٹی قیادت نے اس ان پرندوں کو واپسی کی ترغیب دینے کا کام شروع کر دیا ہے۔ سالوں دھکے کھانے، بری کارکردگی دکھانے، اور ایک قومی اور وفاقی جماعت کو علاقائی جماعت کی حد تک محدود کر دینے پر مذاق اڑوانے کے بعد اب لگتا ہے کہ زرداری اپنی پارٹی کو ملکی سیاست کا مرکزی کردار بنانے میں کامیاب ہو گئے ہیں۔
فہد حسین کہتے ہیں کہ لاہور کے این اے 133 کے ضمنی انتخاب میں پی پی پی کی متاثر کن کارکردگی اس بات کا ثبوت ہے کہ جب دوسری بڑی جماعتیں اس شاخ کو کاٹنے پر تلی ہیں جس پر وہ بیٹھی ہیں، تو پیپلز پارٹی سیاسی کھیل میں بتدریج خود کو مستحکم کر رہی ہے۔
پیپلز پارٹی نے ابھی اپنا مقصد حاصل نہیں کیا ہے۔ لیکن اگر غور سے سنا جائے تو قدموں کی ہلکی ہلکی چاپ سنائی دے رہی ہے۔ یعنی ایک زرداری سب پر بھاری ہوتا دکھائی دیتا ہے۔ پچھلے چند سالوں میں جب آصف علی زرداری سیاسی اور قانونی بھول بھلیوں میں سے اپنا رستہ بنا رہے تھے، تو وہ ساتھ مخں واپسی کے سفر کے لئے کچھ نشانیاں بھی لگاتے جا رہے تھے، لیکن یہ نشانیاں کس منزل کا پتہ دیتی ہیں، صرف وہی جانتے ہیں۔ کچھ سال پہلے انہوں نے بہت سی امیدوں پر پانی پھیرتے ہوئے بلوچستان میں ایک حکومت گرائی تھی۔ پھر چند روز بعد کرسی گھمائی اور صادق سنجرانی کو سینیٹ کا چیئرمین منتخب کروانے میں مرکزی کردار ادا کیا۔ سونے پہ سہاگہ یہ کہ یوسف رضا گیلانی کو اسلام آباد کی سیٹ سے سینیٹر منتخب کروایا اور اپنی ٹوپی سے آخری کبوتر نکالتے ہوئے انہیں سینیٹ میں اپوزیشن لیڈر منتخب کروا لیا، جب ان کے پاس عددی اکثریت بھخ نہیں تھی، لیکن انہوں نے چالاکی سے کام لیا اور اپنے اعصاب پر قابو رکھا۔
لیکن بقول فہد حسین، یہ سب بچوں کے کھیل تھے اور اصل میچ کے لیے کیھلے جانے والے وارم اپ میچ تھے۔ اب پیپلز پارٹی اپنے اصل سیاسی منصوبے پر کام شروع کرنے جا رہی ہے اور اسکے مخالفین حیرت سے آنکھیں پھاڑے اسے دیکھ رہے ہیں۔ پیپلز پارٹی نے 2020 میں PDM کی بنیاد رکھی۔ ہاں، PMLN اور فضل الرحمان بھی یہ اتحاد چاہتے تھے لیکن یہ بلاول بھٹو اور پیپلز پارٹی قیادت ہی تھی جنہوں نے واقعتاً سیاست کے ان تمام بڑوں کو اکٹھا کیا۔ گو کہ ان جماعتوں کا اکٹھے نظر آنا بھی بہت اہم تھا لیکن اصل چیز وقت کا تعین تھا۔ PPP کی قیادت نے وقت کو صحیح پہچانا اور بڑی پھرتی اور مہارت کے ساتھ ٹیم تشکیل دی۔ ایک سال بعد یہ واضح ہے کہ نہ صرف پیپلز پارٹی کا PDM بنانے کا فیصلہ درست تھا بلکہ اتحاد میں اکثریت کی رائے کے برخلاف اس کا اسمبلیوں سے استعفے نہ دینے کا مؤقف بھی بالکل ٹھیک تھا۔ اسمبلیوں سے استعفے دینے پر انکار کے بعد پیپلز پارٹی کو پی ڈی ایم سے علیحدہ ہوئے ایک برس بیت گیا لیکن مولانا فضل الرحمان اور نواز لیگ نہ تو لانگ مارچ کر پائے اور نہ ہی اسمبلیوں سے استعفے دیے۔
فہد حسین کہتے ہیں کہ اب نواز لیگی قیادت بھی اس نتیجے پر پہنچ چکی ہے کہ اسمبلیوں سے استعفے نہیں دینے چاہئیں۔ اسی تجویز کی وکالت تو پی پی پی تقریباً ایک سال پہلے کر رہی تھی لہذا آج اگر اگر بلاول ہاؤس میں کوئی شخص چہرے پر تمسخرانہ مسکراہٹ سجائے بیٹھا ہے تو اس کا حق ہے۔ اسے کھیل کو اپنے طریقے سے کھیلنے کا بھی پورا حق ہے کیونکہ یہ تو واضح ہے کہ وہ باقی سب سے بہتر کھیل رہا ہے۔ اور کھیل کیا ہے؟ یہ ہے وہ مقام جہاں سے خواب اور خواہشات منصوبوں اور پالیسیوں میں ڈھلنا شروع ہوتے ہیں۔ آصف زرداری جانتے ہیں کہ سندھ ان کے پاس ہے اور رہے گا۔ ان کی خواہش پنجاب میں ایک حصے، خیبر پختونخوا میں ایک حصے اور وفاق میں سب سے بڑے حصے کے حصول کی ہے۔
فہد حسین کہتے ہیں کہ اس میں حیران ہونے کی کوئی بات نہیں ہے۔ پیپلز پارٹی کو شروع میں ہی نظر آ گیا تھا کہ PMLN اپنی ہی سیاست کی اسیر بنتی جا رہی ہے۔ اسٹیبلشمنٹ کے خلاف ایک انتہائی پوزیشن لے کر، اس پوزیشن کو نظریاتی بیانیے میں تبدیل کر کے، اور آرمی چیف اور ISI سربراہ کا نام لے کر نواز شریف نے وہ کام کر دیا جو اس سے پہلے کبھی کسی سیاستدان نے نہیں کیا تھا۔ لیکن یہ ایک جوا تھا۔ PPP کو یہ بھی سمجھ آ گئی تھی کہ اس کے بعد نواز شریف کے پاس صرف ایک ہی راستہ بچا تھا کہ وہ لڑائی کو اوپر ہی اوپر لے جاتے جائیں، تب تک کہ دوسری طرف سے پلکیں جھپک دی جائیں۔ دوسری جانب، PPP قیادت کو اچھی طرح علم تھا کہ فوجی اسٹیبلشمنٹ اور PTI حکومت میں دراڑ ناگزیر تھی۔ دونوں ہی معاملات میں پارٹی قیادت کا اندازہ درست ثابت ہوا۔ اس تجزیے کی بنیاد پر PPP قیادت دوسروں کو اس بات کا علم ہونے سے بہت پہلے خود کو ایک ایسی پوزیشن پر لے گئی کہ جہاں وہ اس صورتحال کا فائدہ اٹھا سکے۔ اسٹیبلشمنٹ کے ساتھ غیر محسوس انداز میں پیغام رسانی، PMLN کے ساتھ نام لیے جانے پر محض نجی نہیں عوامی سطح پر اختلاف، اور پھر اسمبلیوں سے استعفا دے کر پورا کھیل خراب کر دینے سے انکار کر کے، PPP خود کو ایک ایسی سیاسی جماعت کے طور پر پیش کر رہی تھی جو اس کھیل میں ساتھ دینے کے لئے تیار تھی۔
فہد حسین کہتے ہیں کہ جس وقت PPP نے PDM کا ساتھ چھوڑا، PTI حکومت کی مقبولیت بھی اپنی خراب کارکردگی کے باعث گرنا شروع ہو چکی تھی اور سرگوشیاں سنائی دینے لگی تھیں کہ اب کیا ہوگا؟ فہد کہتے ہیں کہ PPP کے پاس ان سوالوں کے جواب موجود تھے اور اسی لیے اسنے پنجاب اور وفاق میں عدم اعتماد کے ذریعے ان ہاؤس تبدیلی کی تجویز دی تھی۔ دوسری جانب نواز لیگ کا اصرار تھا کہ فوری الیکشن کروائے جائیں ورنہ کوئی ڈیل نہیں ہو گی۔ لہٰذا کوئی ڈیل نہیں ہوئی۔
تاہم بقول فہد حسین، PPP کو ڈیل کرنا آتی ہے۔ لہذا جب PMLN اور JUI-F پر مبنی PDM اپنے ٹوٹے خوابوں کی کرچیاں چن رہی تھی، تو PPP کی قیادت آستین چڑھا کر کام میں جت گئی۔ اسکا پہلا ہدف جنوبی پنجاب تھا۔ یہاں سے روایتی طور پر پارٹی نشستیں جیتتی رہی ہے اور کسی حد تک اب بھی اپنی مقبولیت برقرار رکھے ہوئے ہے۔ جنوبی پنجاب میں قومی اسمبلی کی نشستوں کا خزانہ ہے، یعنی تقریباً چار درجن۔ اور یہاں سیاست لوٹوں کی ہے۔ PMLN کے اچھے دنوں میں ان میں سے بہت سوں نے شریفوں کے ٹرک پر چڑھنے کا فیصلہ کیا اور نتیجتاً بہت سی وزارتیں بھی حاصل کیں۔ پھر اچانک، بغیر کسی نوٹس کے 2018 انتخابات سے قبل حقیقتاً آخری موقع پر ان میں سے ایک بڑی تعداد نے پارٹی چھوڑ کر PTI کی طرف اڑان بھر لی۔ لہذا PPP اچھی طرح جانتی ہے کہ درست اشارے دیے جائیں تو یہ سب موسمی پرندے اڑان بھر کر واپس بھی آ سکتے ہیں۔ اسی لئے پارٹی قیادت نے اس سے پہلے کہ کسی کو خبر بھی ہوتی، ان پرندوں کو لبھانے کا کام شروع کر دیا تھا۔
فہد حسین بتاتے ہیں کہ مخدوم احمد محمود حالیہ سالوں میں تن تنہا جنوبی پنجاب میں PPP کا علم اٹھائے کھڑے رہے ہیں اور ان کے پایۂ استقلال میں کوئی لغزش نہیں آئی۔ وہ علاقے میں ایک مضبوط حیثیت رکھتے ہیں اور کم از کم ایک قومی اسمبلی اور دو صوبائی اسمبلی کی نشستیں حاصل کر سکتے ہیں۔ وہ جہانگیر ترین کے رشتہ دار بھی ہیں۔ اور ان کے کاروباری پارٹنر بھی۔ ترین جنوبی پنجاب میں اچھا اثر و رسوخ رکھتے ہیں اور آج کل اپنے پتے بالکل سینے سے لگائے ہوئے ہیں۔ PPP ان میں خصوصی طور پر دلچسپی لے رہی ہے کیونکہ احمد محمود کے ساتھ مل کر اگر پنڈی والوں کے ذریعے ان کے بادبانوں کو ہوا دی جائے تو یہ اچھی خاصی نشستیں جیت کر PPP کو دے سکتے ہیں جو وفاق میں اسکا جادو چلانے میں کلیدی اہمیت کی حامل ہوں گی۔ لہذا سیاسی ہنڈیا ابھی چولہے پر رکھی نہیں گئی لیکن چولہا ضرور جلا دیا گیا ہے۔
فہد حسین بتاتے ہیں کہ خیبر پختونخوا میں بھی کھیل شروع ہونے والا ہے اور آنے والے ہفتوں اور مہینوں میں سیاسی طور پر اثر و رسوخ رکھنے والے بہت سے افراد PPP میں جاتے دکھائی دیں گے لہٰذا آہستہ آہستہ منصوبے کے خدوخال واضح ہونا شروع ہو چکے ہیں: سندھ + جنوبی پنجاب + خیبر پختونخواہ + انتخابات کے بعد کے اتحادی + ہوا سونگھتے آزاد امیدوار، یہ سب مل کر مرکز میں ایک معمولی سی کثریت کا روشن امکان تو پیدا کر ہی دیتے ہیں۔ لہذا گیم آن ہے اور عمران خان کی نصیحت کے عین مطابق آصف زرداری اب اپنی پارٹی کے لیے بڑے بڑے خواب دیکھ رہے ہیں۔
