خواہش کے باوجود ایران اور امریکہ جنگ بندیی کیوں نہیں کر رہے؟

امریکی اور ایرانی قیادت کی جانب سے یہ واضح کیے جانے کے باوجود کہ وہ دوبارہ جنگ کی طرف نہیں لوٹنا چاہتے، دونوں ممالک امن معاہدے پر پہنچنے میں ناکام رہے ہیں کیونکہ دونوں ہی شکست تسلیم کرنے کو تیار نہیں۔ 8 اپریل کو پاکستانی ثالثی کے نتیجے میں ہونے والی جنگ بندی کے بعد چند سکیورٹی واقعات اور محدود جھڑپیں ضرور ہوئیں، تاہم صورتحال دوبارہ مکمل فوجی تصادم میں تبدیل نہیں ہوئی۔ اس دوران پاکستان، قطر اور دیگر دوست ممالک کی ثالثی میں تہران اور واشنگٹن کے درمیان سفارتی رابطے اور پس پردہ مذاکرات بھی جاری رہے، جس سے ظاہر ہوتا ہے کہ دونوں فریق میدان جنگ کے بجائے مذاکراتی میز پر اپنے اختلافات حل کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔
اگرچہ امریکہ اور ایران کے مابین جنگ بندی برقرار ہے، لیکن خطے میں عسکری کشیدگی کم نہیں ہوئی۔ امریکا نے اپنی طاقتور بحری اور فضائی افواج خلیج اور ایران کے قریبی علاقوں میں بدستور تعینات کر رکھی ہیں، جبکہ یہ بھی خیال کیا جا رہا ہے کہ ایرانی افواج ہائی الرٹ پر ہیں اور جنگ بندی کے وقفے کو اپنی دفاعی صلاحیتوں کی بحالی، عسکری تنظیم نو اور امریکی و اسرائیلی حملوں سے پہنچنے والے نقصانات کے ازالے کے لیے استعمال کر رہی ہیں۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ موجودہ صورتحال نہ مکمل جنگ ہے اور نہ ہی مکمل امن، بلکہ دونوں ممالک ایک نازک توازن برقرار رکھنے کی کوشش کر رہے ہیں۔
حالیہ پیش رفت میں ایک اہم موڑ اس وقت آیا جب ایران نے امریکا کے ساتھ مذاکرات کو آگے بڑھانے کے لیے لبنان پر اسرائیلی حملے رکوانے کی شرط عائد کی۔ سفارتی ذرائع کے مطابق امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اس شرط کو قبول کرتے ہوئے اسرائیل پر دباؤ ڈالا، جس کے بعد مذاکراتی عمل میں نئی جان پڑ گئی۔ اس پیش رفت نے ایک مرتبہ پھر اس امکان کو تقویت دی ہے کہ تہران اور واشنگٹن کسی مستقل سیز فائر اور وسیع تر مفاہمتی معاہدے کی جانب بڑھ سکتے ہیں، تاہم ابھی کئی اہم رکاوٹیں باقی ہیں۔ امریکی اخبار نیویارک ٹائمز کے مطابق وائٹ ہاؤس کے سچویشن روم میں صدر ٹرمپ کی زیر صدارت تقریباً دو گھنٹے طویل اہم اجلاس منعقد ہوا جس میں ایران کے ساتھ جنگ بندی کے مستقبل، مجوزہ مفاہمتی یادداشت اور خطے کی مجموعی صورتحال کا جائزہ لیا گیا۔ تاہم اجلاس کے اختتام پر کسی حتمی معاہدے یا فیصلے کا اعلان نہیں کیا گیا۔
اس سے یہ تاثر مزید مضبوط ہوا کہ اگرچہ سفارتی عمل جاری ہے لیکن دونوں فریق ابھی تک بعض بنیادی نکات پر اتفاق رائے پیدا کرنے میں کامیاب نہیں ہو سکے۔ صدر ٹرمپ نے اپنے تازہ بیانات میں دعویٰ کیا ہے کہ ایران کے ساتھ زیر غور معاہدے میں جوہری پروگرام سے متعلق انتہائی سخت اور تفصیلی شقیں شامل ہیں اور اس بات کو یقینی بنایا جائے گا کہ ایران کبھی بھی جوہری ہتھیار حاصل نہ کر سکے۔ انہوں نے ان میڈیا رپورٹس کو مسترد کیا جن میں کہا گیا تھا کہ مجوزہ معاہدے میں جوہری معاملات کا واضح ذکر موجود نہیں۔
دوسری جانب ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی نے محتاط مؤقف اختیار کرتے ہوئے کہا ہے کہ امریکا کے ساتھ پیغامات اور سفارتی رابطوں کا سلسلہ جاری ہے، تاہم جب تک کوئی واضح اور قابل قبول نتیجہ سامنے نہیں آتا،
مذاکرات کی کامیابی یا ناکامی کے بارے میں رائے دینا قبل از وقت ہوگا۔ ایرانی حکام کا کہنا ہے کہ امریکی بیانات میں بعض درست اور بعض غیر مصدقہ دعوے شامل ہیں اور ابھی تک کسی حتمی معاہدے پر دستخط نہیں ہوئے۔ تہران کا مؤقف ہے کہ آبنائے ہرمز، پابندیوں کے خاتمے، علاقائی سلامتی اور جوہری سرگرمیوں کے حوالے سے ایران کے بنیادی مفادات پر کوئی سمجھوتہ نہیں کیا جائے گا۔ ایرانی حکام کے مطابق آبنائے ہرمز کی مکمل بحالی اور بین الاقوامی جہاز رانی سے متعلق فیصلے بھی ایران کی اپنی شرائط اور سلامتی کے تقاضوں کے مطابق ہوں گے۔ اسی دوران ایرانی پارلیمان کے سپیکر محمد باقر قالیباف نے دعویٰ کیا ہے کہ امریکا کی جانب سے مذاکرات میں لچک کسی سفارتی دباؤ کا نتیجہ نہیں بلکہ ایران کی عسکری اور میزائل صلاحیتوں کی وجہ سے ممکن ہوئی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ ایران کسی زبانی یا تحریری یقین دہانی پر انحصار نہیں کرے گا بلکہ صرف عملی اقدامات کو ہی قابل اعتماد سمجھے گا۔
بین الاقوامی مبصرین کے مطابق زیر غور 60 روزہ مفاہمتی یادداشت میں آبنائے ہرمز میں جہاز رانی کی بحالی، بعض اقتصادی پابندیوں میں مرحلہ وار نرمی، منجمد ایرانی اثاثوں تک محدود رسائی اور ایران کے جوہری پروگرام کے مستقبل سے متعلق نئے مذاکرات جیسے نکات شامل ہو سکتے ہیں۔ تاہم ان تجاویز کو ابھی حتمی منظوری حاصل نہیں ہوئی۔ ادھر امریکی وزیر دفاع پیٹ ہیگستھ نے کہا ہے کہ آبنائے ہرمز کے حوالے سے موجود پابندیاں اور سکیورٹی انتظامات برقرار ہیں اور ایران کے ساتھ باضابطہ ڈیل طے پانے کے بعد ہی مکمل بحالی ممکن ہوگی۔ اس کے برعکس ایرانی فوج نے خبردار کیا ہے کہ خطے میں کسی بھی غیر معمولی فوجی سرگرمی یا اشتعال انگیز اقدام کے سنگین نتائج برآمد ہو سکتے ہیں۔
امریکا نے ایران پر دباؤ برقرار رکھنے کے لیے مزید اقدامات بھی کیے ہیں۔ امریکی حکام نے ایک ارب ڈالر مالیت کے ایرانی کرپٹو اثاثے ضبط کرنے کا اعلان کیا ہے جبکہ وزیر خزانہ اسکاٹ بیسنٹ کے مطابق پابندیوں میں کسی بھی ممکنہ نرمی کا عمل مرحلہ وار اور مشروط ہوگا۔
دوسری جانب ایران کی اعلیٰ قیادت نے عوام کو اتحاد اور استقامت کا پیغام دیا ہے۔ ایرانی سپریم لیڈر مجتبیٰ خامنہ ای کا کہنا ہے کہ بیرونی طاقتیں ایران کے اندر عدم استحکام پیدا کرنا چاہتی ہیں، تاہم ایرانی قوم نے ثابت کیا ہے کہ وہ دباؤ کے باوجود اپنے قومی مفادات کا دفاع کرنے کی صلاحیت رکھتی ہے۔
اس تمام صورتحال کے دوران پاکستان بھی سفارتی محاذ پر متحرک دکھائی دیتا ہے۔ نائب وزیراعظم اور وزیر خارجہ اسحاق ڈار نے واشنگٹن میں گفتگو کرتے ہوئے کہا ہے کہ پاکستان نے ایران اور امریکا کے درمیان کشیدگی کم کرنے اور مذاکراتی عمل کو آگے بڑھانے میں مثبت کردار ادا کیا ہے۔ انہوں نے واضح کیا کہ پاکستان خطے میں امن اور استحکام کے لیے اپنی کوششیں جاری رکھے گا۔
سیاسی اور دفاعی ماہرین کے مطابق موجودہ صورتحال کا سب سے خطرناک پہلو یہ ہے کہ خطے میں غیر معمولی عسکری تناؤ برقرار ہے۔ امریکا اپنی افواج ایران کے قریب رکھ کر تہران پر دباؤ بڑھانا چاہتا ہے اور یہ پیغام دینا چاہتا ہے کہ ضرورت پڑنے پر دوبارہ فوجی کارروائی کی جا سکتی ہے۔
دوسری جانب ایران بھی اپنی دفاعی تیاریوں میں مصروف ہے۔ ایسے ماحول میں کسی غلط اندازے، حادثاتی واقعے یا غیر متوقع فوجی اقدام سے صورتحال دوبارہ جنگ کی طرف جا سکتی ہے۔ تاہم دونوں ممالک کے حالیہ بیانات اور سفارتی سرگرمیوں سے یہی تاثر ملتا ہے کہ واشنگٹن اور تہران اس وقت جنگ کے بجائے مذاکرات کو ترجیح دے رہے ہیں۔ اس کے باوجود جوہری پروگرام، اقتصادی پابندیوں، آبنائے ہرمز، علاقائی سلامتی اور عسکری انتظامات سے متعلق اختلافات بدستور موجود ہیں۔ یہی وہ بنیادی رکاوٹیں ہیں جو ایران اور امریکا کے درمیان حتمی امن معاہدے کو تاخیر کا شکار بنائے ہوئے ہیں۔ اب عالمی برادری کی نظریں اس بات پر مرکوز ہیں کہ آیا آنے والے دنوں میں یہ مذاکرات مستقل سیز فائر اور جامع معاہدے میں تبدیل ہو پاتے ہیں یا خطہ ایک بار پھر کشیدگی کے نئے دور میں داخل ہوتا ہے۔
