امریکا کا پاکستان، چین سمیت 60 سے زائد ممالک پر نئے درآمدی ٹیرف نافذ

امریکا نے پاکستان، چین، بھارت، یورپی یونین سمیت 60 سے زائد ممالک پر نئے درآمدی ٹیرف نافذ کر دیے۔

امریکا نے آج سے پاکستان، بھارت، چین، یورپی یونین اور دنیا کے 60 سے زائد تجارتی شراکت داروں سے درآمد ہونے والی متعدد مصنوعات پر 10 اور 12.5 فیصد کے نئے درآمدی محصولات (ٹیرف) نافذ کر دیے ہیں۔

امریکی حکومت کا کہنا ہے کہ متعلقہ ممالک اپنی سپلائی چینز میں جبری مشقت کے خاتمے سے متعلق قوانین پر مؤثر عمل درآمد یقینی بنانے میں ناکام رہے، جس کے باعث یہ اقدام اٹھایا گیا۔

نئے ٹیرف کا اعلان امریکی فیڈرل رجسٹر میں جاری نوٹس کے ذریعے کیا گیا۔ یہ محصولات اس عارضی 10 فیصد عالمی ٹیرف کی جگہ لیں گے جو امریکی سپریم کورٹ کے فیصلے کے بعد 150 روز کے لیے نافذ کیا گیا تھا اور جس کی مدت آج ختم ہو رہی ہے۔

امریکی حکام کے مطابق نئے محصولات امریکا کی تقریباً 99.4 فیصد درآمدات پر لاگو ہوں گے، تاہم خام تیل، قدرتی گیس، کھاد، بعض غذائی اجناس، جبکہ قومی سلامتی کے تحت پہلے سے سیکشن 232 کے محصولات کی زد میں آنے والی گاڑیاں، سٹیل، ایلومینیم اور تانبا ان سے مستثنیٰ رہیں گے۔ اس کے علاوہ امریکا، کینیڈا اور میکسیکو کے آزاد تجارتی معاہدے کے تحت آنے والی متعدد مصنوعات بھی نئے ٹیرف سے مستثنیٰ ہوں گی۔

امریکی تجارتی نمائندے جیمیسن گریئر نے کہا کہ امریکا تقریباً ایک صدی سے جبری مشقت سے تیار کردہ مصنوعات کی درآمد پر پابندی عائد کیے ہوئے ہے اور اب وقت آ گیا ہے کہ اس کے تجارتی شراکت دار بھی اسی معیار پر عمل کریں تاکہ انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کا خاتمہ اور عالمی تجارت میں منصفانہ مقابلے کو فروغ دیا جا سکے۔

انہوں نے واضح کیا ہے کہ جن ممالک کے ساتھ امریکا کے پہلے سے تجارتی معاہدے موجود ہیں اور جن کے لیے زیادہ سے زیادہ ٹیرف کی حد مقرر ہے، ان پر نئے محصولات اس مقررہ حد سے تجاوز نہیں کریں گے۔

دوسری جانب امریکی ریاست میساچوسٹس کی ڈیموکریٹک گورنر مورا ہیلی نے نئے ٹیرف پر تنقید کرتے ہوئے کہا ہے کہ فیصلے سے اشیا مہنگی ہوں گی، کاروباری اداروں پر دباؤ بڑھے گا اور امریکی معیشت کی مسابقتی صلاحیت بھی متاثر ہوگی۔

تجارتی قانون کے ماہرین کے مطابق اگرچہ نئے ٹیرف کی شرح بڑی حد تک ان عارضی محصولات سے ملتی جلتی ہے جو آج ختم ہو رہے ہیں، تاہم چونکہ انہیں سیکشن 301 کے تحت نافذ کیا گیا ہے، اس لیے عدالت میں ان کے خلاف قانونی چیلنج پہلے کے مقابلے میں زیادہ مشکل ہوگا۔

نادرا میں افغانوں کو جعلی شناختی کارڈ جاری کرنے والی کالی بھیڑیں کون؟

ماہرین کا کہنا ہے کہ ٹرمپ انتظامیہ اس قانونی طریقہ کار کے ذریعے نہ صرف تقریباً تمام درآمدات پر کم از کم 10 فیصد ٹیرف برقرار رکھنا چاہتی ہے بلکہ مستقبل میں ضرورت کے مطابق ان کی شرح میں ردوبدل کا اختیار بھی اپنے پاس رکھنا چاہتی ہے۔

Back to top button