نادرا میں افغانوں کو جعلی شناختی کارڈ جاری کرنے والی کالی بھیڑیں کون؟

غیر قانونی طور پر مقیم افغان باشندوں کو مبینہ طور پر لاکھوں روپے رشوت کے عوض پاکستانی شناختی کارڈ اور دیگر سرکاری دستاویزات جاری کیے جانے کے الزام نے ملکی سلامتی کے حوالے سے نئی تشویش پیدا کر دی ہے۔ وفاقی تحقیقاتی ادارے (ایف آئی اے) کی تحقیقات میں نادرا اور پاسپورٹ دفاتر کے بعض اہلکاروں، نجی ایجنٹوں اور مبینہ سہولت کاروں پر مشتمل ایک منظم نیٹ ورک کے شواہد سامنے آنے کا دعویٰ کیا جا رہا ہے۔ حکام کے مطابق تحقیقات اب صرف جعلی شناختی کارڈز تک محدود نہیں رہیں بلکہ دہشت گردی کی مالی معاونت، سرکاری ریکارڈ میں ردوبدل اور ڈیجیٹل مالی لین دین سمیت کئی پہلوؤں کا بھی جائزہ لیا جا رہا ہے۔ تاہم تمام الزامات اس وقت زیرِ تفتیش ہیں اور ان کا حتمی فیصلہ عدالت کرے گی۔

خیال رہے کہ پاکستان کے قومی شناختی نظام سے متعلق ایک اہم اور حساس معاملہ اس وقت تحقیقات کے مرکز میں ہے، جہاں ایف آئی اے نادرا اور پاسپورٹ دفاتر میں مبینہ بدعنوانی، جعلی شناختی دستاویزات کے اجرا اور غیر ملکی شہریوں کو غیر قانونی طور پر پاکستانی شناخت فراہم کرنے کے الزامات کی تحقیقات کر رہی ہے۔

تحقیقاتی ذرائع کے مطابق کراچی سے شروع ہونے والی کارروائیوں کا دائرہ اب اندرون سندھ کے مختلف نادرا اور پاسپورٹ دفاتر تک پھیل چکا ہے۔ دعویٰ کیا جا رہا ہے کہ ایک منظم نیٹ ورک مبینہ طور پر برسوں سے افغان شہریوں سمیت دیگر غیر ملکیوں کے لیے پاکستانی شناختی کارڈ، پیدائش، شادی اور دیگر معاون دستاویزات تیار کرنے میں سرگرم تھا۔ ان الزامات کے تحت متعدد سرکاری اہلکاروں، سابق ملازمین اور نجی ایجنٹوں کے کردار کی بھی چھان بین جاری ہے۔

ایف آئی اے کے مطابق ابتدائی تحقیقات میں بعض گرفتار افراد سے ڈیجیٹل ریکارڈ، موبائل فونز اور دیگر اہم شواہد حاصل کیے گئے ہیں، جن کا فرانزک تجزیہ کیا جا رہا ہے۔ حکام کا کہنا ہے کہ مالی لین دین، ڈیجیٹل والٹس اور فنڈز کی منتقلی کے شواہد بھی جانچے جا رہے ہیں، جس کے بعد بعض ملزمان کے خلاف دہشت گردی کی مالی معاونت سے متعلق دفعات شامل کرنے پر بھی غور کیا جا رہا ہے۔

تحقیقات کے مطابق مبینہ طور پر ہر کیس کے بدلے لاکھوں روپے وصول کیے جاتے تھے، جبکہ جعلی دستاویزات کی تیاری اور سرکاری ریکارڈ میں ردوبدل کے لیے سرکاری اور نجی عناصر پر مشتمل ایک مربوط نظام کام کر رہا تھا۔ ایف آئی اے کا کہنا ہے کہ ان دعوؤں کی مزید تصدیق کے لیے مالی ریکارڈ، بینکنگ ڈیٹا اور ڈیجیٹل شواہد کا تفصیلی جائزہ لیا جا رہا ہے۔

عدالتی کارروائی کے دوران بھی ایف آئی اے نے متعدد گرفتار ملزمان کو پیش کرتے ہوئے جسمانی ریمانڈ حاصل کیا ہے تاکہ نیٹ ورک کے دیگر کرداروں، سہولت کاروں اور ممکنہ مالی روابط تک رسائی حاصل کی جا سکے۔ ادارے کے مطابق بعض گرفتار افراد کے مبینہ دہشت گرد عناصر سے روابط کے حوالے سے بھی تحقیقات جاری ہیں، تاہم اس مرحلے پر ان الزامات کی حتمی تصدیق نہیں ہوئی۔

اسی دوران ایف آئی اے نے سندھ کے مختلف پاسپورٹ دفاتر میں بھی الگ کارروائیاں کرتے ہوئے مبینہ کرپشن کے الزام میں متعدد افراد کو گرفتار کیا ہے۔ حکام کے مطابق بعض نجی ایجنٹ سرکاری اہلکاروں کی مبینہ ملی بھگت سے اضافی رقم وصول کرکے پاسپورٹ درخواستوں کو ترجیحی بنیادوں پر پراسیس کرواتے تھے۔ چھاپوں کے دوران نقد رقم، شناختی دستاویزات، رجسٹرز، موبائل فونز اور دیگر ریکارڈ بھی قبضے میں لیا گیا ہے۔

تحقیقاتی حکام کا کہنا ہے کہ اگر جعلی شناختی کارڈز کے مبینہ نیٹ ورک اور پاسپورٹ دفاتر میں سامنے آنے والی بدعنوانی کے درمیان براہِ راست تعلق ثابت ہو جاتا ہے تو اس کے اثرات قومی شناختی نظام، امیگریشن، بارڈر مینجمنٹ اور بین الاقوامی سکیورٹی تعاون تک پہنچ سکتے ہیں۔ تاہم اس حوالے سے ابھی تحقیقات جاری ہیں اور کوئی حتمی نتیجہ اخذ نہیں کیا گیا۔

ماہرین کے مطابق ایسے مقدمات میں صرف ابتدائی اعترافات کافی نہیں ہوتے بلکہ عدالت میں قابل قبول فرانزک شواہد، ڈیجیٹل ڈیٹا، مالی لین دین اور دستاویزی ثبوت فیصلہ کن حیثیت رکھتے ہیں۔ اسی لیے تمام ملزمان قانون کے مطابق اس وقت تک بے گناہ تصور کیے جائیں گے جب تک ان پر لگائے گئے الزامات عدالت میں ثابت نہ ہو جائیں۔

ذرائع کے مطابق ایف آئی اے اب اس بات کا بھی جائزہ لے رہی ہے کہ آیا یہ مبینہ نیٹ ورک ملک کے دیگر شہروں میں بھی متحرک تھا یا نہیں۔ اسی مقصد کے لیے گرفتار افراد کے موبائل فونز، بینک اکاؤنٹس، ڈیجیٹل والٹس اور رابطوں کا فرانزک آڈٹ جاری ہے، جبکہ مزید گرفتاریاں اور اہم شخصیات سے پوچھ گچھ بھی متوقع بتائی جا رہی ہے۔

Back to top button