پاکستان نے کابل پر حملہ کیوں کیا؟ حقائق سامنے آ گئے

پاکستان کے کابل میں رواں سال ہونے والے فضائی حملے پر ایک بار پھر عالمی سطح پر بحث چھڑ گئی ہے۔ ایمنسٹی انٹرنیشنل کے پاکستانی حملے کو ممکنہ جنگی جرم قرار دیتے ہوئے آزادانہ تحقیقات کا مطالبہ کرنے کے بعد اب پاکستان نے اس رپورٹ کو بے بنیاد، غیر مصدقہ دعوؤں پر مبنی قرار دیتے ہوئے واضح کیا ہے کہ پاکستان کی جانب سے یہ کارروائی بین الاقوامی قانون کے تحت حقِ دفاع کے طور پر صرف دہشت گردوں اور ان کے انفراسٹرکچر کے خلاف کی گئی۔ تاہم اس تنازع نے نہ صرف پاکستان اور افغانستان کے تعلقات بلکہ دہشت گردی، بین الاقوامی انسانی قانون اور علاقائی سلامتی سے متعلق کئی اہم سوالات بھی کھڑے کر دیے ہیں۔
ماہرین کے مطابق کابل میں 16 مارچ 2026 کو ہونے والے فضائی حملے پر پاکستان اور ایمنسٹی انٹرنیشنل کے مؤقف ایک دوسرے سے یکسر مختلف نظر آتے ہیں۔ ایمنسٹی انٹرنیشنل نے اپنی تازہ تحقیق میں دعویٰ کیا ہے کہ حملے میں ایک ایسے منشیات بحالی مرکز کو نشانہ بنایا گیا جو ایک طبی تنصیب تھا، جبکہ پاکستان کا کہنا ہے کہ کارروائی کا ہدف دہشت گردوں کے لاجسٹک مراکز، تکنیکی انفراسٹرکچر اور گولہ بارود ذخیرہ کرنے کی تنصیبات تھیں۔
اسلام آباد میں ہفتہ وار بریفنگ کے دوران دفتر خارجہ کے ترجمان طاہر اندرابی نے واضح کیا کہ پاکستان نے یہ کارروائی بین الاقوامی قانون کے تحت اپنے حقِ دفاع کے طور پر اور آخری چارہ کار کے طور پر انجام دی۔ ان کے مطابق پاکستان کئی برسوں سے سرحد پار دہشت گردی کا شکار ہے، جہاں افغان سرزمین سے تحریک طالبان پاکستان، بلوچ لبریشن آرمی اور دیگر شدت پسند گروہ پاکستان کے خلاف حملوں کی منصوبہ بندی کرتے رہے ہیں۔ پاکستان اپنی خودمختاری، علاقائی سالمیت اور شہریوں کے تحفظ کے لیے ہر ضروری اقدام کا حق محفوظ رکھتا ہے۔
دوسری جانب ایمنسٹی انٹرنیشنل نے اپنی تفصیلی رپورٹ میں مؤقف اختیار کیا ہے کہ امید بحالی مرکز ایک دہائی سے طبی سہولت کے طور پر کام کر رہا تھا اور انہیں ایسے شواہد نہیں ملے جن سے یہ ثابت ہو کہ حملے کے وقت اس مقام کو ہتھیاروں یا گولہ بارود کے ذخیرے کے طور پر استعمال کیا جا رہا تھا۔ تنظیم کے مطابق حملے میں بڑی تعداد میں شہری ہلاک ہوئے اور بین الاقوامی انسانی قانون کے تحت طبی مراکز کو حاصل خصوصی تحفظ کی خلاف ورزی ہوئی۔
ایمنسٹی کا کہنا ہے کہ اس نے سیٹلائٹ تصاویر، درجنوں ویڈیوز، عینی شاہدین، متاثرین کے اہل خانہ اور مرکز کے موجودہ و سابق عملے سمیت متعدد ذرائع سے شواہد اکٹھے کیے۔ تنظیم کے مطابق دستیاب معلومات سے یہ ثابت نہیں ہوتا کہ یہ مقام ایک جائز فوجی ہدف تھا، اسی لیے حملے کی آزاد، شفاف اور غیر جانبدار تحقیقات ہونی چاہئیں تاکہ ذمہ داروں کا تعین کیا جا سکے۔
پاکستان نے ان الزامات کو سختی سے مسترد کرتے ہوئے کہا ہے کہ رپورٹ میں کیے گئے دعوے قابلِ اعتماد شواہد کے بغیر پیش کیے گئے ہیں۔ اسلام آباد کا مؤقف ہے کہ شہری تنصیبات یا طبی مراکز کو نشانہ نہیں بنایا گیا بلکہ صرف دہشت گردوں کے بنیادی ڈھانچے کو نشانہ بنایا گیا تھا، جو پاکستان میں دہشت گرد حملوں کی منصوبہ بندی اور معاونت میں ملوث تھے۔
اس معاملے کا ایک اہم پہلو یہ بھی ہے کہ پاکستانی فوج پہلے بھی یہ مؤقف اختیار کرتی رہی ہے کہ بعض شدت پسند عناصر شہری تنصیبات کو اپنی سرگرمیوں کے لیے استعمال کرتے ہیں۔ تاہم ایمنسٹی انٹرنیشنل کا کہنا ہے کہ اسے ایسی کوئی قابلِ تصدیق شہادت نہیں ملی جس سے یہ ثابت ہو سکے کہ امید بحالی مرکز فوجی مقاصد کے لیے استعمال ہو رہا تھا یا وہاں ہتھیاروں کا ذخیرہ موجود تھا۔
یہ تنازع صرف ایک فضائی کارروائی تک محدود نہیں بلکہ پاکستان اور افغان طالبان کے درمیان بڑھتی ہوئی سرحدی کشیدگی کا بھی عکاس ہے۔ اسلام آباد مسلسل یہ الزام عائد کرتا آ رہا ہے کہ افغان سرزمین پاکستان مخالف دہشت گرد تنظیموں کے لیے محفوظ پناہ گاہ بنی ہوئی ہے، جبکہ طالبان حکومت ان الزامات کو مسترد کرتی ہے۔
بین الاقوامی قانون کے تناظر میں بھی یہ معاملہ غیر معمولی اہمیت اختیار کر گیا ہے۔ ایمنسٹی کا مؤقف ہے کہ اگر کسی طبی مرکز کے فوجی استعمال کا دعویٰ بھی کیا جائے تو حملے سے قبل واضح انتباہ اور شہریوں کے انخلا کا موقع دینا ضروری ہوتا ہے، جبکہ پاکستان کا مؤقف ہے کہ کارروائی دہشت گردی کے فوری خطرے کو روکنے کے لیے ناگزیر تھی۔
موجودہ صورتحال میں کابل حملہ ایک سفارتی، قانونی اور عسکری تنازع کی شکل اختیار کر چکا ہے۔ ایک جانب پاکستان اپنی قومی سلامتی اور دہشت گردی کے خلاف کارروائی کو ترجیح دے رہا ہے، جبکہ دوسری جانب انسانی حقوق کی تنظیمیں شہری ہلاکتوں، طبی مراکز کے تحفظ اور بین الاقوامی قوانین پر عمل درآمد کے حوالے سے شفاف تحقیقات کا مطالبہ کر رہی ہیں۔ اس معاملے کی آئندہ پیش رفت نہ صرف پاکستان اور افغانستان کے تعلقات بلکہ خطے میں انسداد دہشت گردی کی حکمت عملی اور بین الاقوامی انسانی قانون پر بھی اثرانداز ہو سکتی ہے۔
