یمنی حوثیوں کو دھمکی کے بعد پاک ایران کشیدگی کا خطرہ کیوں؟

مشرقِ وسطیٰ میں جنگ اب صرف ایران اور امریکہ تک محدود نہیں رہی بلکہ باب المندب کی بندش، حوثیوں کی دھمکیوں اور سعودی عرب کے خلاف حملوں نے بحران کو نئی سطح پر پہنچا دیا ہے۔ ایران آبنائے ہرمز کو دباؤ کے ہتھیار کے طور پر استعمال کر رہا ہے جبکہ اس کے اتحادی حوثی باب المندب میں عالمی تجارت کو چیلنج کر رہے ہیں۔ مبصرین کے مطابق اس صورتحال میں پاکستان ایک ایسے نازک موڑ پر کھڑا ہے جہاں اسے ایران کے ساتھ تعلقات، سعودی عرب سے دفاعی معاہدے اور اپنی توانائی و تجارتی سلامتی کے درمیان توازن برقرار رکھنا ہوگا۔
ماہرین کے مطابق بحیرۂ احمر اور آبنائے باب المندب میں بڑھتی ہوئی کشیدگی نے پاکستان کو بھی سفارتی اور دفاعی سطح پر متحرک کر دیا ہے۔ ایران کے حمایت یافتہ حوثیوں کی جانب سے سعودی جہازوں اور بحری راستوں کو نشانہ بنانے کی دھمکیوں کے بعد اسلام آباد نے پہلی بار نہایت واضح انداز میں خبردار کیا ہے کہ اگر پاکستانی پرچم بردار جہازوں یا ملکی بحری مفادات کو نقصان پہنچایا گیا تو اسے قومی سلامتی پر حملہ تصور کیا جائے گا۔ یہ صورتحال نہ صرف پاکستان اور ایران کے تعلقات کے لیے ایک نیا امتحان بن سکتی ہے بلکہ تیل کی سپلائی، عالمی تجارت، بحری سلامتی اور مشرقِ وسطیٰ کی بدلتی ہوئی سیاست پر بھی گہرے اثرات مرتب ہونے کا خدشہ پیدا ہو گیا ہے۔ عالمی ماہرین کے مطابق بحیرۂ احمر میں ایران کے حمایت یافتہ حوثیوں کی سرگرمیوں اور سعودی عرب کے خلاف اعلان کردہ سمندری پابندی نے خطے میں ایک نئے بحران کو جنم دے دیا ہے۔ ایسے وقت میں جب آبنائے ہرمز پہلے ہی کشیدگی کی وجہ سے متاثر ہے، باب المندب بھی عالمی تجارت اور توانائی کی ترسیل کے لیے خطرے کی علامت بنتا جا رہا ہے۔
پاکستان نے اس غیر یقینی صورتحال پر سخت ردعمل دیتے ہوئے واضح کیا ہے کہ اگر کسی بھی پاکستانی پرچم بردار جہاز یا پاکستان کے بحری مفادات کو نشانہ بنایا گیا تو اسے قومی سلامتی کے خلاف جارحیت تصور کیا جائے گا۔ دفتر خارجہ نے کہا ہے کہ پاکستان بین الاقوامی قانون کے مطابق اپنے بحری مفادات کے دفاع کے لیے ہر ممکن اقدام کا حق محفوظ رکھتا ہے۔ اسلام آباد کا کہنا ہے کہ ایران کے ساتھ ہونے والی سفارتی ملاقاتوں میں حوثیوں سمیت تمام علاقائی معاملات زیر بحث آتے ہیں، تاہم ان مذاکرات کی تفصیلات سفارتی رازداری کے باعث سامنے نہیں لائی جا سکتیں۔ اس بیان سے واضح ہوتا ہے کہ پاکستان نے تہران تک اپنے تحفظات پہنچا دیے ہیں۔
خیال رہے کہ باب المندب دنیا کی اہم ترین بحری گزرگاہوں میں شمار ہوتی ہے، جہاں سے عالمی تجارت کا بڑا حصہ اور تقریباً بارہ فیصد عالمی تیل کی ترسیل ہوتی ہے۔ اگر اس راستے پر کشیدگی میں اضافہ ہوتا ہے تو نہ صرف عالمی سپلائی چین متاثر ہوگی بلکہ پاکستان بھی براہ راست اس کے اثرات محسوس کرے گا، کیونکہ ملک کی تیل کی درآمدات اور یورپ کے ساتھ تجارتی روابط کا بڑا حصہ اسی سمندری راستے سے وابستہ ہے۔
ماہرین کے مطابق اگر حوثیوں نے بحری جہازوں کو نشانہ بنایا تو شپنگ انشورنس مہنگی ہو جائے گی، مال برداری کی لاگت میں اضافہ ہوگا، ترسیل میں تاخیر ہوگی اور پاکستان کے لیے توانائی کا بحران مزید سنگین ہو سکتا ہے۔
پاکستان اور سعودی عرب کے درمیان دفاعی تعاون کے معاہدے نے بھی اس صورتحال کو مزید اہم بنا دیا ہے۔ تجزیہ کاروں کا خیال ہے کہ اگر مستقبل میں سعودی عرب اور حوثیوں کے درمیان دوبارہ فوجی تصادم ہوتا ہے تو پاکستان پر اپنے دفاعی وعدوں کو پورا کرنے کا دباؤ بڑھ سکتا ہے، جس کے نتیجے میں اسلام آباد کو بحیرۂ احمر میں بحری موجودگی بڑھانا پڑ سکتی ہے۔
دوسری جانب یہ خدشہ بھی موجود ہے کہ اگر پاکستان نے حوثیوں کے خلاف عملی کردار ادا کیا تو ایران اسے اپنے اتحادیوں کے خلاف اقدام تصور کر سکتا ہے، جس سے دونوں ممالک کے تعلقات میں کشیدگی پیدا ہونے کا امکان موجود ہے۔ یہی وجہ ہے کہ پاکستان ایک ایسے نازک سفارتی توازن کو برقرار رکھنے کی کوشش کر رہا ہے جہاں ایک طرف سعودی عرب کے ساتھ دفاعی تعلقات برقرار رہیں اور دوسری طرف ایران کے ساتھ ہمسائیگی اور تعاون بھی متاثر نہ ہو۔
توانائی کے شعبے سے وابستہ ماہرین کے مطابق اس وقت پاکستان کے لیے آنے والے کئی تیل بردار جہاز باب المندب کے راستے سفر کر رہے ہیں۔ اگر یہ راستہ بند ہو جاتا ہے تو متبادل راستہ افریقہ کے گرد ہو کر اختیار کرنا پڑے گا، جس سے سفر کا دورانیہ کئی گنا بڑھ جائے گا، فریٹ اخراجات میں اضافہ ہوگا اور ملک میں تیل کی قیمتوں پر بھی دباؤ بڑھ سکتا ہے۔
بین الاقوامی مبصرین کا کہنا ہے کہ حوثیوں کے پاس سمندری ڈرونز، میزائل اور بارودی سرنگوں کی ایسی صلاحیت موجود ہے جو مکمل ناکہ بندی کیے بغیر بھی جہاز رانی کو شدید متاثر کر سکتی ہے۔ صرف چند حملے یا خطرات بھی عالمی انشورنس کمپنیوں اور شپنگ سیکٹر میں خوف پیدا کرنے کے لیے کافی ہوں گے۔
موجودہ صورتحال میں پاکستان کے لیے سب سے بڑا چیلنج یہی ہے کہ وہ اپنی بحری تجارت، توانائی کی فراہمی اور قومی سلامتی کا تحفظ کرتے ہوئے ایران اور سعودی عرب دونوں کے ساتھ اپنے سفارتی تعلقات میں توازن برقرار رکھے۔ اگر باب المندب میں کشیدگی مزید بڑھی تو اس کے اثرات صرف مشرقِ وسطیٰ تک محدود نہیں رہیں گے بلکہ پاکستان سمیت پوری دنیا کی معیشت، توانائی کی منڈی اور عالمی تجارت بھی اس سے متاثر ہو سکتی ہے۔
