آبنائے ہرمز کا طاقتور ہتھیار، ایران کیلئے ہی خطرہ کیسے بنا؟

آبنائے ہرمز پر جاری کشیدگی نے ایران کو ایک ایسے موڑ پر لا کھڑا کیا ہے جہاں ہر ممکن راستہ اپنے ساتھ سیاسی، عسکری اور معاشی خطرات سمیٹے ہوئے ہے۔ ایک جانب امریکہ کے مطالبات، دوسری طرف پاسدارانِ انقلاب کا اثر و رسوخ اور اندرونی سیاسی تقسیم، جبکہ تیسری جانب بڑھتا ہوا عوامی معاشی دباؤ، یہ سب عوامل تہران کے لیے فیصلہ سازی کو مزید پیچیدہ بنا رہے ہیں۔ سوال اب صرف یہ نہیں کہ ایران کون سا راستہ اختیار کرے گا، بلکہ یہ بھی ہے کہ اس اہم فیصلے کا اختیار آخر کس کے پاس ہے۔
ماہرین کے مطابق امریکہ اور ایران کے درمیان حالیہ کشیدگی اور آبنائے ہرمز پر جاری تنازع نے مشرقِ وسطیٰ کی تزویراتی صورت حال کو ایک نئے مرحلے میں داخل کر دیا ہے۔ محدود جنگ، اقتصادی دباؤ اور عالمی توانائی کی منڈیوں پر اثرات کے بعد ایران اب ایک ایسے دوراہے پر کھڑا ہے جہاں اس کے سامنے تین بنیادی راستے موجود ہیں، لیکن کسی بھی راستے کو آسان یا مکمل کامیابی کی ضمانت نہیں سمجھا جا رہا۔
پہلا راستہ یہ ہے کہ ایران امریکہ کے بنیادی مطالبات تسلیم کرتے ہوئے آبنائے ہرمز میں محفوظ جہاز رانی کی ضمانت دے، اپنے جوہری پروگرام پر سخت نگرانی قبول کرے اور یورینیم کی افزودگی محدود کر دے۔ اس کے بدلے میں ایران کو اقتصادی پابندیوں میں نرمی، بحری ناکہ بندی کے خاتمے اور کشیدگی میں کمی جیسے فوائد حاصل ہو سکتے ہیں۔ تاہم ایران کے اندر سخت گیر حلقے اسے قومی مؤقف سے پسپائی اور امریکی دباؤ کے سامنے جھکنے سے تعبیر کر سکتے ہیں۔
دوسرا راستہ کشیدگی میں مزید اضافہ کرنا ہے، جس کے تحت ایران یا اس کے اتحادی خطے میں امریکی مفادات، خلیجی تنصیبات اور عالمی تجارتی راستوں پر دباؤ بڑھا سکتے ہیں تاکہ واشنگٹن کو مذاکرات پر مجبور کیا جا سکے۔ تاہم اس حکمت عملی میں سب سے بڑا خطرہ یہ ہے کہ خلیجی ممالک براہِ راست تنازع کا حصہ بن سکتے ہیں، جس سے ایک وسیع علاقائی جنگ کا خدشہ پیدا ہو سکتا ہے۔
تیسرا اور نسبتاً محتاط راستہ یہ سمجھا جا رہا ہے کہ ایران موجودہ کشیدگی کو ایک محدود سطح پر برقرار رکھے۔ یعنی آبنائے ہرمز کو مکمل طور پر بند کرنے کے بجائے اسے ایک تزویراتی دباؤ کے آلے کے طور پر استعمال کرے تاکہ عالمی توانائی کی منڈیوں پر اثر برقرار رہے، مگر صورتحال مکمل جنگ میں تبدیل نہ ہو۔ متعدد مبصرین کے مطابق موجودہ ایرانی قیادت اسی حکمت عملی کو زیادہ موزوں سمجھتی ہے۔
تاہم ایران کے لیے ایک بڑا چیلنج یہ بھی ہے کہ اگر آبنائے ہرمز کو مسلسل دباؤ کے ہتھیار کے طور پر استعمال کیا جاتا رہا تو دنیا متبادل تجارتی اور توانائی کے راستوں کی تلاش مزید تیز کر دے گی۔ اس صورت میں مستقبل میں آبنائے ہرمز کی تزویراتی اہمیت اور ایران کی سودے بازی کی طاقت کمزور پڑ سکتی ہے۔ اسی تناظر میں ایرانی پارلیمان کے سپیکر محمد باقر قالیباف بھی اس مؤقف کا اظہار کر چکے ہیں کہ آبنائے ہرمز کی اصل طاقت اسے بند کرنے میں نہیں بلکہ عالمی تجارت کے محفوظ اور منافع بخش مرکز کے طور پر برقرار رکھنے میں ہے۔
ایران کے اندر فیصلہ سازی کا نظام بھی اس بحران کو مزید پیچیدہ بناتا ہے۔ سابق رہبرِ اعلیٰ آیت اللہ علی خامنہ ای کے دور میں اہم اختلافات کا حتمی فیصلہ ایک مضبوط مرکزی قیادت کرتی تھی، لیکن موجودہ حالات میں ریاستی اداروں، سیاسی قیادت اور عسکری حلقوں کے درمیان اختیارات کی تقسیم پہلے سے زیادہ مبہم دکھائی دیتی ہے۔
صدر مسعود پزشکیان اور سفارتی حلقے معاشی پابندیوں میں نرمی اور مذاکرات کے ذریعے بحران کے خاتمے کے حامی سمجھے جاتے ہیں، جبکہ پارلیمان کے سخت گیر ارکان، قدامت پسند حلقے اور بعض سکیورٹی ادارے کسی بڑی رعایت کو نظام کی نظریاتی کمزوری قرار دیتے ہیں۔
اس پورے منظرنامے میں سب سے اہم کردار پاسدارانِ انقلاب کا تصور کیا جاتا ہے۔ ایران کا میزائل پروگرام، علاقائی اتحادی تنظیموں سے روابط اور آبنائے ہرمز سے متعلق عسکری حکمت عملی بڑی حد تک پاسدارانِ انقلاب کے دائرۂ اختیار میں سمجھی جاتی ہے۔ تاہم یہ اب بھی واضح نہیں کہ جنگ جاری رکھنے یا مذاکرات کی جانب بڑھنے جیسے بنیادی فیصلوں میں ان کا اثر کس حد تک فیصلہ کن ہے، یا حتمی فیصلہ سپریم نیشنل سکیورٹی کونسل اور اعلیٰ قیادت کرتی ہے۔
دوسری جانب مسلسل پابندیوں، مہنگائی، بے روزگاری اور بنیادی سہولیات کے بحران نے ایرانی عوام کی مشکلات میں اضافہ کر دیا ہے۔ کاروبار بند ہونے، روزگار کے مواقع کم ہونے، مہنگائی اور غیر یقینی صورتحال نے عام شہریوں کو شدید معاشی دباؤ میں مبتلا کر رکھا ہے، جبکہ حکومت بدستور قومی سلامتی اور مزاحمت کے بیانیے پر زور دے رہی ہے۔
امریکہ کے لیے بھی صورتحال آسان نہیں۔ واشنگٹن کے پاس فوجی دباؤ بڑھانے، اقتصادی پابندیاں برقرار رکھنے یا محدود شرائط کے ساتھ کسی نئے معاہدے کی طرف بڑھنے جیسے کئی آپشن موجود ہیں، مگر کوئی بھی راستہ مکمل کامیابی کی ضمانت نہیں دیتا۔ اسی لیے کئی تجزیہ کاروں کا خیال ہے کہ آنے والے مہینوں میں مکمل جنگ کے بجائے محدود جھڑپیں، سفارتی رابطے، عارضی جنگ بندیاں اور وقفے وقفے سے کشیدگی ہی خطے کی نئی حقیقت بن سکتی ہے۔
بالآخر اصل سوال یہی ہے کہ ایران آبنائے ہرمز کو کب تک ایک مؤثر تزویراتی ہتھیار کے طور پر استعمال کر سکتا ہے، بغیر اس کے کہ یہ حکمت عملی خود اس کی علاقائی اہمیت کو کمزور کر دے یا پورے خطے کو ایک نئی اور وسیع جنگ کی طرف دھکیل دے۔
