30روپے کلو بکنے والا ٹماٹر 500روپے تک کیسے پہنچ گیا؟

پاکستان میں ٹماٹر کی قیمتوں میں غیر معمولی اضافے نے عوام کی مشکلات میں مزید اضافہ کر دیا ہے۔ چند ہفتے قبل 30 سے 40 روپے فی کلو فروخت ہونے والا ٹماٹر اب کئی شہروں میں 500 روپے فی کلو تک پہنچ چکا ہے۔ ماہرین کے مطابق اس اچانک مہنگائی کے پیچھے مقامی پیداوار میں موسمی وقفہ، افغانستان اور ایران سے درآمدات میں رکاوٹ، طلب و رسد کا عدم توازن اور بعض علاقوں میں من مانی قیمتیں وصول کیے جانے جیسے عوامل کارفرما ہیں، جنہوں نے ایک عام سبزی کو بھی مہنگائی کی علامت بنا دیا ہے۔

ناقدین کے مطابق پاکستان بھر میں ٹماٹر کی قیمتوں میں اچانک اور غیر معمولی اضافے نے صارفین کو شدید پریشانی میں مبتلا کر دیا ہے۔ چند ہفتے قبل 30 سے 40 روپے فی کلو فروخت ہونے والا ٹماٹر اب پشاور سمیت مختلف شہروں میں 400 سے 500 روپے فی کلو تک جا پہنچا ہے، جبکہ کئی علاقوں میں ایک ٹماٹر کی قیمت بھی 30 سے 50 روپے تک وصول کی جا رہی ہے۔ قیمتوں میں اس غیر معمولی اضافے نے گھریلو بجٹ پر اضافی بوجھ ڈال دیا ہے اور عوام حکومت سے مؤثر اقدامات کا مطالبہ کر رہے ہیں۔ مارکیٹ ذرائع اور سبزی منڈی کے تاجروں کے مطابق قیمتوں میں اضافے کی سب سے بڑی وجہ مقامی پیداوار کے سیزن میں آنے والا وقفہ ہے۔ پاکستان میں سردیوں کے دوران سندھ اور جنوبی پنجاب سے ٹماٹر کی سپلائی ہوتی ہے، جس کے بعد وسطی پنجاب کی فصل مارکیٹ میں آتی ہے۔ تاہم اس وقت پنجاب کا سیزن ختم ہو چکا ہے جبکہ خیبر پختونخوا اور بلوچستان کی پیداوار ابھی طلب پوری کرنے کے لیے ناکافی ہے، جس کے باعث رسد کم اور طلب زیادہ ہونے سے قیمتیں تیزی سے بڑھ گئی ہیں۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ ماضی میں اس موسمی خلا کو افغانستان اور ایران سے درآمد کیے جانے والے ٹماٹروں کے ذریعے پورا کیا جاتا تھا۔ سبزی منڈی کے تاجروں کے مطابق ایک صوبے کی فصل ختم ہونے اور دوسرے کی آمد کے درمیانی عرصے میں افغانستان سے روزانہ درجنوں کنٹینرز ٹماٹر درآمد کیے جاتے تھے، جس سے مارکیٹ میں سپلائی برقرار رہتی اور قیمتیں قابو میں رہتی تھیں۔ تاہم سرحدی پابندیوں اور درآمدات میں رکاوٹ کے باعث یہ سپلائی متاثر ہوئی ہے۔

ادارہ شماریات کے اعداد و شمار کے مطابق پاکستان ہر سال افغانستان سے تقریباً چار لاکھ ٹن جبکہ ایران سے تقریباً ایک لاکھ ٹن ٹماٹر درآمد کرتا تھا۔ موجودہ علاقائی کشیدگی، سرحدی مسائل اور ایران سے تجارتی سرگرمیوں میں رکاوٹ نے درآمدی سپلائی کو متاثر کیا، جس کا براہ راست اثر مقامی مارکیٹ پر پڑا ہے۔

دوسری جانب خیبر پختونخوا میں پیدا ہونے والا زیادہ تر ٹماٹر اس وقت پنجاب بھیجا جا رہا ہے، جہاں طلب زیادہ ہے۔ اس صورتحال کے باعث مقامی مارکیٹ میں دستیاب مقدار مزید کم ہو گئی ہے اور قیمتیں مسلسل بڑھ رہی ہیں۔

سرکاری اعداد و شمار کے مطابق پاکستان میں ایک لاکھ 67 ہزار ایکڑ سے زائد رقبے پر ٹماٹر کی کاشت کی جاتی ہے۔ سندھ ٹماٹر پیدا کرنے والا سب سے بڑا صوبہ ہے، اس کے بعد بلوچستان، خیبر پختونخوا اور پنجاب کا نمبر آتا ہے۔ اس کے باوجود موسمی وقفے اور درآمدی انحصار کی وجہ سے ہر سال قیمتوں میں اتار چڑھاؤ دیکھنے میں آتا ہے۔

شہریوں کا کہنا ہے کہ سپلائی کے مسائل اپنی جگہ، لیکن بعض بازاروں میں دکاندار سرکاری نرخ نامے کو نظر انداز کرتے ہوئے من مانی قیمتیں وصول کر رہے ہیں۔ اگرچہ ضلعی انتظامیہ نے درجہ اول ٹماٹر کی سرکاری قیمت 350 روپے فی کلو مقرر کی ہے، لیکن بیشتر مارکیٹوں میں یہی ٹماٹر 400 سے 450 روپے اور بعض مقامات پر 500 روپے فی کلو تک فروخت ہو رہا ہے۔

معاشی ماہرین کے مطابق اگر سرحدی تجارت بحال نہ ہوئی، نئی فصل بروقت مارکیٹ میں نہ آئی اور قیمتوں کی مؤثر نگرانی نہ کی گئی تو آنے والے دنوں میں سبزیوں کی مہنگائی مزید بڑھ سکتی ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ حکومت کو ایک جانب درآمدی سپلائی بہتر بنانے اور دوسری جانب ذخیرہ اندوزی و ناجائز منافع خوری کے خلاف سخت کارروائی کرنا ہوگی تاکہ صارفین کو ریلیف فراہم کیا جا سکے۔

Back to top button