عمران خان کی رہائی کے لیے احتجاجی کال کی ناکامی طے کیوں ہے؟

تحریک انصاف کی قیادت نے اپنے بانی عمران خان کی رہائی کے لیے ایک مرتبہ پھر 5 اگست سے ملک گیر احتجاجی تحریک شروع کرنے کی کال دے دی ہے، تاہم سیاسی مبصرین کا کہنا ہے کہ اس مرتبہ بھی اس تحریک کی کامیابی کے امکانات نہ ہونے کے برابر ہیں۔ ان کے مطابق گزشتہ ایک برس کے دوران عمران خان کی رہائی کے لیے دی جانے والی تمام احتجاجی کالز عوامی ردعمل حاصل کرنے میں ناکام رہیں۔

تجزیہ کاروں کے مطابق عمران خان کی گرفتاری کے بعد تحریک انصاف کی وہ سٹریٹ پاور بھی ختم ہو چکی ہے جو کبھی پارٹی کی سب سے بڑی سیاسی قوت سمجھی جاتی تھی۔ تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ موجودہ حالات میں عوام کی بڑی تعداد احتجاجی سیاست سے گریزاں ہے، جس کے باعث پانچ اگست کی مجوزہ تحریک کو بھی گزشتہ مہمات سے مختلف ثابت کرنا تحریک انصاف کے لیے ایک بڑا چیلنج ہوگا۔

تحریک انصاف کی سٹریٹ پاور ختم ہونے کی ایک بڑی وجہ پارٹی لیڈرشپ کے اندرونی اختلافات بھی قرار دیے جاتے ہیں۔ ایک طرف پارٹی کی مرکزی قیادت بعض سرگرمیوں کو اپنی سرکاری پالیسی سے الگ قرار دے رہی ہے، جبکہ دوسری جانب عمران خان کی بہنیں اسے خاندانی اور اخلاقی ذمہ داری قرار دیتے ہوئے ہر قیمت پر تحریک کو آگے بڑھانے کے عزم کا اظہار کر رہی ہیں۔ سیاسی مبصرین کے مطابق یہی اختلافات اس تحریک کی سب سے بڑی کمزوری بن سکتے ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ کسی بھی بڑی احتجاجی مہم کی کامیابی کے لیے قیادت کا ایک صفحے پر ہونا ناگزیر ہوتا ہے، لیکن موجودہ صورتحال میں پارٹی کے مختلف دھڑوں کے درمیان واضح ہم آہنگی دکھائی نہیں دے رہی۔

تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ عمران خان کی گرفتاری کے بعد تحریک انصاف کی تنظیمی طاقت اور سٹریٹ پاور میں نمایاں کمی آئی ہے۔ ماضی میں پارٹی کی ایک کال پر ہزاروں کارکن ملک کے مختلف شہروں میں سڑکوں پر نکل آتے تھے، لیکن گزشتہ ایک سال کے دوران دی جانے والی بیشتر احتجاجی کالیں عوامی سطح پر وہ پذیرائی حاصل نہ کر سکیں جس کی قیادت کو توقع تھی۔

سیاسی حلقوں کے مطابق عوام کی بڑی تعداد معاشی مشکلات، مہنگائی اور روزگار کے مسائل میں الجھی ہوئی ہے۔ اگرچہ حکومت کی پالیسیوں پر تنقید اور ناراضی اپنی جگہ موجود ہے، لیکن یہ ناراضی ابھی تک کسی ایسی منظم عوامی تحریک میں تبدیل نہیں ہو سکی جو حکومت پر فیصلہ کن دباؤ ڈال سکے۔

ادھر عمران خان کی بہنیں اپنے مؤقف پر قائم ہیں کہ وہ کسی سیاسی عہدے یا جماعتی مفاد کے لیے نہیں بلکہ صرف اپنے بھائی کی رہائی کے لیے میدان میں اتری ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ وہ ہر قسم کی قربانی دینے کے لیے تیار ہیں اور اگر اس جدوجہد میں گرفتاری بھی پیش آئی تو وہ اس سے گریز نہیں کریں گی۔

دوسری جانب پارٹی کی موجودہ قیادت مسلسل یہ تاثر دینے کی کوشش کر رہی ہے کہ احتجاجی سرگرمیوں کا ہر پہلو پارٹی کی باقاعدہ پالیسی نہیں۔ حال ہی میں عمران خان کی بہن نورین خان نے پچھلے برس کی پاک بھارت جنگ کو ایک ڈرامہ قرار دیا تھا جس کا مقصد افواج پاکستان کو عوام مقبول بنانا تھا۔ ان کا کہنا تھا کہ یہ سازش مودی کو ساتھ ملا کر کی گئی۔ تاہم تحریک انصاف کی مرکزی قیادت نے نورین خان کے بیانیے سے اعلان لاتعلقی کر دیا ہے۔

مبصرین کے مطابق اس طرح کے متضاد بیانات کارکنوں میں بھی ابہام پیدا کر رہے ہیں اور یہی صورتحال احتجاجی مہم کی رفتار کو متاثر کر سکتی ہے۔ اس دوران خیبر پختونخوا کی سیاست اس صورتحال میں غیر معمولی اہمیت اختیار کر گئی ہے۔ مبصرین کے مطابق وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا سہیل آفریدی بظاہر عمران خان کی بہنوں کے مؤقف کے قریب دکھائی دیتے ہیں، کیونکہ کارکنوں کی ایک بڑی تعداد سخت مؤقف کی حامی ہے۔ اس کے برعکس علی امین گنڈاپور کی جانب سے ابھی تک مکمل طور پر کھل کر سامنے نہ آنے سے سیاسی حلقوں میں مختلف قیاس آرائیاں جاری ہیں۔

ذرائع کے مطابق پارٹی کے قومی اور صوبائی اسمبلیوں کے متعدد ارکان بھی اس معاملے پر محتاط رویہ اختیار کیے ہوئے ہیں۔ ان کا خیال ہے کہ موجودہ حالات میں ریاستی اداروں کے ساتھ براہ راست محاذ آرائی جماعت کے سیاسی مفاد میں نہیں، اسی لیے وہ کسی بھی انتہائی قدم سے گریز کو بہتر حکمت عملی سمجھتے ہیں۔
اسی دوران تحریک انصاف اور فوجی اسٹیبلشمنٹ کے درمیان پس پردہ رابطوں کی اطلاعات بھی سامنے آئیں، تاہم ذرائع کے مطابق ان رابطوں سے کوئی قابل ذکر پیش رفت سامنے نہیں آ سکی۔

بعض اپوزیشن رہنماؤں کو مذاکرات کے لیے نامزد کیے جانے کی اطلاعات نے بھی پارٹی کے اندر مزید سوالات کو جنم دیا ہے۔ سیاسی تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ کسی بھی احتجاجی تحریک کی کامیابی صرف جذباتی نعروں سے ممکن نہیں ہوتی بلکہ اس کے لیے واضح حکمت عملی، مضبوط تنظیم، متفقہ قیادت اور وسیع عوامی حمایت درکار ہوتی ہے۔ ان کے مطابق اگر یہ تمام عناصر موجود نہ ہوں تو احتجاجی تحریکیں محدود دائرے میں رہ جاتی ہیں۔
مبصرین کے مطابق ماضی میں اپوزیشن جماعتیں مشترکہ ایجنڈے پر اکٹھی ہو کر حکومتوں پر دباؤ ڈالنے میں کامیاب رہی ہیں، لیکن موجودہ سیاسی منظرنامے میں ایسی وسیع سیاسی ہم آہنگی دکھائی نہیں دیتی۔ یہی وجہ ہے کہ تحریک انصاف کو دیگر جماعتوں کی بھرپور حمایت بھی حاصل نہیں ہے۔

اگرچہ خیبرپختونخوا میں تحریک انصاف اپنی صوبائی حکومت کی وجہ سے احتجاجی سرگرمیوں کو نسبتاً بہتر انداز میں منظم کر سکتی ہے، لیکن سیاسی مبصرین کے مطابق صرف ایک صوبے کی طاقت کسی ملک گیر تحریک کی کامیابی کی ضمانت نہیں بن سکتی۔
تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ پانچ اگست کی احتجاجی کال تحریک انصاف کے لیے ایک اہم سیاسی امتحان ہوگی، کیونکہ اس سے یہ اندازہ لگایا جا سکے گا کہ پارٹی اب بھی عوام کو سڑکوں پر لانے کی صلاحیت رکھتی ہے یا نہیں۔ اگر عوامی شرکت محدود رہی تو اس سے یہ تاثر مزید مضبوط ہو سکتا ہے کہ پارٹی کی احتجاجی قوت پہلے جیسی نہیں رہی۔

مبصرین کے مطابق موجودہ حالات کو دیکھتے ہوئے پانچ اگست سے شروع ہونے والی مجوزہ احتجاجی تحریک کو کامیاب بنانا تحریک انصاف کے لیے انتہائی مشکل دکھائی دیتا ہے۔ ان کے خیال میں جب تک پارٹی اندرونی اختلافات ختم کر کے متحدہ حکمت عملی اختیار نہیں کرتی، مرکزی قیادت ایک صفحے پر نہیں آتی اور ملک بھر میں مؤثر عوامی حمایت حاصل نہیں ہوتی، تب تک یہ تحریک بھی گزشتہ ایک برس کے دوران دی جانے والی احتجاجی کالوں کی طرح محدود اثرات تک ہی سمٹنے کا امکان رکھتی ہے۔

Back to top button