فوجی ایکشن بلوچستان کے مسئلے کا حل کیوں نہیں؟

معروف صحافی اور تجزیہ کار جاوید چوہدری نے کہا ہے کہ بلوچستان میں بڑھتی ہوئی دہشت گردی کی بنیادی وجہ دہشت گردی نہیں بلکہ بلوچ عوام میں بڑھتا ہوا احساسِ محرومی، ترقی کے مواقع کی کمی اور ریاست سے بڑھتی ہوئی دوری ہے، ان کا کہنا ہے کہ بلوچستان کے مسئلے کا پائیدار حل فوجی ایکشن میں نہیں بلکہ وہاں کے نوجوانوں کو قومی دھارے میں شامل کرنے اور روزگار، تعلیم اور ترقی کے مساوی مواقع فراہم کرنے میں پوشیدہ ہے۔

اپنے سیاسی تجزیے میں جاوید چوہدری کا کہنا ہے کہ بلوچستان کی بگڑتی ہوئی امن و امان کی صورت حال سے ایسا محسوس ہوتا ہے کہ جیسے یہ صوبہ ریاست کی عملداری سے باہر نکلتا جا رہا ہے اور ریاست کی رٹ ختم ہوتی جا رہی ہے۔ انکے مطابق پاکستان اس وقت ایک ایسے مرحلے سے گزر رہا ہے جہاں ایک جانب ریاست مخالف بلوچ لبریشن آرمی کی دہشت گردانہ کارروائیاں تیز ہوتی جا رہی ہیں، جبکہ دوسری جانب ریاست ان حملوں کا مقابلہ کرنے میں ناکام ہوتی نظر آتی ہے۔

ان کے مطابق مسلسل تصادم کے نتیجے میں انسانی جانوں کا نقصان ہو رہا ہے اور یہ صورت حال ریاست اور بلوچستان کے درمیان فاصلے بڑھانے کا سبب بن سکتی ہے۔
جاوید چوہدری نے اپنے مؤقف کی وضاحت کے لیے پندرہ سال قبل پیش آنے والا ایک ذاتی واقعہ بیان کیا۔ انہوں نے بتایا کہ خیبر پختونخوا کے ایک دور افتادہ علاقے سے تعلق رکھنے والا ایک نوجوان ان سے ملنے اسلام آباد آیا۔ نوجوان شدید احساسِ محرومی کا شکار تھا اور اس کا خیال تھا کہ اسلام آباد اور بڑے شہروں کی خوشحالی دراصل پسماندہ علاقوں کے وسائل کی وجہ سے ہے، اسی لیے وہ بڑے شہروں کے خلاف سخت جذبات رکھتا تھا۔ انہوں نے بتایا کہ اس نوجوان کو اپنے دفتر میں ملازمت دی گئی اور اس کی ذمہ داری ان کے بیٹے کی تعلیمی نگرانی مقرر کی گئی۔ اس دوران نوجوان نے اپنی تعلیم بھی جاری رکھی، پہلے بی اے اور بعد ازاں ایم اے مکمل کیا، پھر میڈیا میں ملازمت حاصل کی، اسلام آباد میں مستقل رہائش اختیار کی، گھر اور گاڑی خریدی اور اپنے خاندان کو بھی وہیں منتقل کر لیا۔

جاوید چوہدری کے مطابق برسوں بعد جب ان کی اس نوجوان سے دوبارہ ملاقات ہوئی تو اس کی سوچ مکمل طور پر بدل چکی تھی۔ جب انہوں نے اس سے پوچھا کہ کیا وہ اب بھی اسلام آباد کو جلانا چاہتا ہے تو نوجوان نے مسکراتے ہوئے جواب دیا کہ اب یہ اس کا اپنا شہر ہے اور اگر کوئی اس کی طرف بری نظر سے دیکھے گا تو وہ اس کے دفاع کے لیے کھڑا ہوگا۔ انکے مطابق اس واقعے سے یہ حقیقت سامنے آتی ہے کہ انسان کا ماحول تبدیل ہونے کے ساتھ اس کی سوچ بھی بدل جاتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ کامیابی کسی مخصوص نسل، صوبے یا طبقے کی میراث نہیں بلکہ ہر اس شخص کا حق ہے جو محنت اور جدوجہد کرتا ہے۔

جاوید چوہدری نے کہا کہ بلوچستان میں بہت سے نوجوان سوشل میڈیا پر کراچی، لاہور اور اسلام آباد کی ترقی دیکھتے ہیں، پھر اپنے علاقوں کی محرومیوں کا موازنہ کرتے ہیں، جس سے ان میں شدید مایوسی جنم لیتی ہے۔ ان کے مطابق بھارت اور افغانستان سے چلنے والا پروپیگنڈا اس احساسِ محرومی کو مزید ہوا دیتا ہے اور بعض نوجوان دہشت گرد تنظیموں کے بیانیے سے متاثر ہو جاتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ اگر صرف سکیورٹی آپریشنز پر انحصار کیا جاتا رہا تو ریاست کو مسلسل بھاری مالی نقصان برداشت کرنا پڑے گا، قیمتی جانیں ضائع ہوتی رہیں گی اور بلوچستان اور وفاق کے درمیان بداعتمادی میں اضافہ ہو سکتا ہے۔ ان کے بقول اس صورت حال سے نکلنے کے لیے صرف عسکری اقدامات کافی نہیں بلکہ سماجی اور معاشی حکمت عملی بھی ناگزیر ہے۔

جاوید چوہدری نے تجویز دی کہ بلوچستان کے نوجوانوں کو ملک کے دیگر حصوں میں تعلیم، روزگار اور ترقی کے مساوی مواقع فراہم کیے جائیں تاکہ وہ خود دیکھ سکیں کہ کامیابی کا تعلق وسائل سے زیادہ محنت، تعلیم اور مواقع سے ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ جب بلوچ نوجوان دوسرے صوبوں میں تعلیم حاصل کریں گے، ملازمت کریں گے اور مختلف معاشروں کا حصہ بنیں گے تو ان کے اور دیگر صوبوں کے درمیان فاصلے خود بخود کم ہونا شروع ہو جائیں گے۔انہوں نے کہا کہ بلوچستان سے تعلق رکھنے والے نوجوانوں کو فوج، نیم فوجی اداروں، پولیس اور دیگر سرکاری محکموں میں زیادہ سے زیادہ بھرتی کیا جانا چاہیے۔ ان کے مطابق سرکاری اداروں میں خالی آسامیوں پر بلوچستان کے نوجوانوں کو ترجیح دی جائے اور انہیں پیشہ ورانہ تربیت فراہم کی جائے تاکہ وہ اپنے علاقوں کی ترقی اور امن کے عمل میں براہِ راست شریک ہوں۔

جاوید چوہدری نے تجویز پیش کی کہ ملک بھر کے نجی اداروں میں بلوچ نوجوانوں کے لیے کوٹہ مقرر کیا جائے تاکہ وہ پنجاب، سندھ اور خیبرپختونخوا میں عملی زندگی کا تجربہ حاصل کر سکیں۔ ان کے مطابق اس سے ثقافتی تبادلہ بڑھے گا، قومی یکجہتی مضبوط ہوگی اور بلوچ نوجوانوں کا پورے پاکستان میں معاشی اور سماجی حصہ بڑھے گا۔ انہوں نے آسٹریلیا، نیوزی لینڈ اور کینیڈا کی مثال دیتے ہوئے کہا کہ ان ممالک نے بھی مقامی آبادی کو قومی دھارے میں شامل کر کے شدت پسندی اور علیحدگی کے رجحانات پر قابو پایا، اس لیے پاکستان بھی اسی طرز پر بلوچستان کے نوجوانوں کو قومی ترقی کے عمل میں شریک کر سکتا ہے۔

جاوید چوہدری نے کہا کہ اگر ایک نوجوان کا ماحول بدلنے سے اس کی سوچ تبدیل ہو سکتی ہے تو مساوات اور انصاف پر مبنی حکومتی پالیسیوں کے ذریعے پورے بلوچستان میں مثبت تبدیلی لائی جا سکتی ہے۔ ان کے مطابق انسان کی زندگی اس وقت بدلتی ہے جب اس کی رائے بدلتی ہے، اور رائے اس وقت بدلتی ہے جب اس کا ماحول تبدیل ہوتا ہے، اس لیے بلوچستان میں دیرپا امن کے لیے نوجوانوں کو بہتر ماحول، مساوی مواقع اور قومی دھارے سے مضبوط تعلق فراہم کرنا وقت کی اہم ضرورت ہے۔

Back to top button