یورپی یونین، آسٹریلیا اور برازیل نے ٹرمپ کے نئے ٹیرف مسترد کر دیے

یورپی یونین، آسٹریلیا اور برازیل نے آج سے نافذ ہونے والے ٹرمپ انتظامیہ کے نئے درآمدی ٹیرف کو مسترد کرتے ہوئے اسے غیر ضروری اور غیر منصفانہ قرار دیا ہے۔

یورپی یونین کی خارجہ پالیسی کی سربراہ کایا کالاس نے کہا کہ یورپی مصنوعات پر نئے امریکی ٹیرف بلاجواز ہیں، جبکہ یورپی یونین پر جبری مشقت سے متعلق قوانین میں کمزوری کا الزام بھی بے بنیاد ہے۔

انہوں نے کہا کہ یورپی یونین کے لیبر قوانین امریکا کے مقابلے میں زیادہ مضبوط ہیں اور یورپی کارکنوں کو بہتر حقوق، مراعات اور تنخواہ کے ساتھ چھٹیوں کی سہولت حاصل ہے۔

کایا کالاس کے مطابق یورپی یونین نے امریکا کے ساتھ ہونے والے گزشتہ تجارتی معاہدے کی تمام شرائط پوری کی ہیں، اس کے باوجود نئے امریکی ٹیرف کاروباری اداروں کے لیے غیر متوقع اور تشویشناک اقدام ہیں۔انہوں نے مزید کہا کہ یورپی یونین اس معاملے پر واشنگٹن سے باضابطہ وضاحت طلب کرے گی۔

دوسری جانب آسٹریلیا اور برازیل نے بھی امریکی اقدام کو غیر ضروری اور غیر منصفانہ قرار دیتے ہوئے اعلان کیا ہے کہ وہ اس کے خاتمے کے لیے سفارتی کوششیں جاری رکھیں گے۔

ادھر کینیڈا، جس پر چند روز قبل تقریباً 20 ارب ڈالر مالیت کی مصنوعات پر نئے امریکی ٹیرف عائد کیے گئے تھے، نے محتاط ردعمل دیتے ہوئے کہا ہے کہ وہ اس معاملے پر امریکا کے ساتھ تعمیری مذاکرات جاری رکھے گا۔

عمران خان کی رہائی کے لیے احتجاجی کال کی ناکامی طے کیوں ہے؟

کینیڈا کے وزیر برائے امریکا تجارت ڈومینک لی بلانک نے کہا کہ دونوں ممالک آئندہ ہفتوں میں اس معاملے سمیت دیگر تجارتی امور پر بھی بات چیت جاری رکھیں گے تاکہ دونوں ملکوں کے شہریوں کے مفادات کا تحفظ یقینی بنایا جا سکے۔

Back to top button