5 اگست کو پی ٹی آئی کیا کرنے والی ہے؟

پاکستان تحریک انصاف کے بانی عمران خان کی اڈیالہ جیل میں قید کو 5 اگست کو تین سال مکمل ہونے جا رہے ہیں، مگر اس موقع پر پارٹی کی احتجاجی حکمتِ عملی تاحال غیر واضح ہے۔ ایک جانب علیمہ خان اڈیالہ جیل کے باہر بھرپور احتجاج کی حامی ہیں، تو دوسری جانب پارٹی کی مرکزی قیادت اور متعدد سینئر رہنما بڑے احتجاج کے بجائے محدود یا علامتی پروگرام کو زیادہ موزوں سمجھ رہے ہیں۔ اندرونی اختلافات، کارکنوں کی ممکنہ گرفتاریوں، عوامی ردعمل اور ماضی کی ناکام احتجاجی تحریکوں کے تجربات نے پی ٹی آئی کو ایک بار پھر اہم سیاسی فیصلے کے دوراہے پر لا کھڑا کیا ہے۔
خیال رہے کہ پاکستان تحریک انصاف 5 اگست کو عمران خان کی قید کے تین سال مکمل ہونے کے موقع پر احتجاجی سرگرمیوں پر غور کر رہی ہے، تاہم پارٹی ذرائع کے مطابق ابھی تک کسی ایک حکمتِ عملی پر مکمل اتفاق رائے نہیں ہو سکا۔ یہی وجہ ہے کہ مرکزی قیادت کی جانب سے ملک گیر احتجاج یا کسی بڑے پروگرام کا باضابطہ اعلان تاحال سامنے نہیں آیا۔
ذرائع کے مطابق عمران خان کی ہمشیرہ علیمہ خان کی خواہش ہے کہ پارٹی کے ارکانِ اسمبلی، سینیٹرز اور کارکن بڑی تعداد میں اڈیالہ جیل کے باہر جمع ہو کر بھرپور احتجاج کریں تاکہ عمران خان کی طویل قید کے خلاف مضبوط سیاسی پیغام دیا جا سکے۔ ان کے نزدیک جیل کے باہر احتجاج ہی پارٹی کے مؤقف کو مؤثر انداز میں اجاگر کر سکتا ہے۔
دوسری جانب پارٹی کے کئی سینئر رہنما اس حکمتِ عملی سے متفق دکھائی نہیں دیتے۔ ذرائع کے مطابق چیئرمین بیرسٹر گوہر علی خان سمیت بعض رہنما لاہور یا دیگر مقامات پر متبادل پروگرام کے حق میں ہیں، جبکہ ایک بڑی تعداد کا خیال ہے کہ موجودہ سیاسی حالات میں ملک گیر احتجاج کے بجائے ضلعی سطح پر علامتی مظاہرے زیادہ مؤثر اور کم خطرناک ثابت ہو سکتے ہیں۔
پارٹی کے اندر یہ خدشات بھی موجود ہیں کہ مسلسل احتجاجی سرگرمیوں، مقدمات اور گرفتاریوں کے باعث کارکنوں اور عوام میں پہلے جیسا جوش باقی نہیں رہا۔ متعدد ارکانِ قومی و صوبائی اسمبلی نے قیادت کو مشورہ دیا ہے کہ ہر رہنما اپنے حلقے میں محدود احتجاج یا احتجاجی ریلی منعقد کرے تاکہ کارکن غیر ضروری قانونی مشکلات سے بھی محفوظ رہیں اور سیاسی پیغام بھی پہنچ جائے۔
ذرائع کے مطابق ایک رائے یہ بھی سامنے آئی ہے کہ اس بار کسی بڑے احتجاجی اجتماع سے گریز کیا جائے کیونکہ اس سے رہنماؤں اور کارکنوں کی ممکنہ گرفتاریاں اور نئے مقدمات پارٹی کے لیے مزید مشکلات پیدا کر سکتے ہیں۔ اسی لیے مرکزی قیادت کے مختلف حلقوں میں احتجاج، جلسے، ریلی یا صرف علامتی سرگرمیوں جیسے مختلف آپشنز پر غور جاری ہے۔
ناقدین کے مطابق پی ٹی آئی کی موجودہ صورتحال کا ایک اہم پس منظر گزشتہ برسوں کی احتجاجی سیاست بھی ہے۔ 9 مئی 2023 کے واقعات کے بعد پارٹی کسی بڑی اور مؤثر احتجاجی تحریک کو منظم کرنے میں کامیاب نہیں ہو سکی۔ بعد ازاں 26 نومبر کو اسلام آباد کی جانب ہونے والا مارچ بھی اپنے سیاسی اہداف حاصل کیے بغیر ختم ہوا، جس کے بعد پارٹی کو مزید گرفتاریوں اور قانونی کارروائیوں کا سامنا کرنا پڑا۔ اسی تناظر میں 5 اگست کا احتجاج پارٹی کے لیے ایک اہم سیاسی امتحان سمجھا جا رہا ہے۔ ایک طرف عمران خان کی رہائی کے مطالبے کو زندہ رکھنا پارٹی کی سیاسی ضرورت ہے، جبکہ دوسری طرف قیادت یہ بھی چاہتی ہے کہ کوئی ایسا فیصلہ نہ کیا جائے جس سے تنظیمی ڈھانچے، منتخب نمائندوں اور کارکنوں کو مزید مشکلات کا سامنا کرنا پڑے۔ذرائع کے مطابق ضلعی سطح پر مشاورت اور ابتدائی تیاریاں جاری ہیں، تاہم حتمی فیصلہ مرکزی قیادت کی منظوری کے بعد ہی سامنے آئے گا۔ اس لیے فی الحال یہ واضح نہیں کہ 5 اگست کو پی ٹی آئی ملک گیر احتجاج کرے گی، اڈیالہ جیل کے باہر اجتماع ہوگا، لاہور میں کوئی بڑا پروگرام منعقد کیا جائے گا یا پھر صرف علامتی احتجاج پر اکتفا کیا جائے گا۔
