اقتدار کے ایوانوں میں بغاوت کی آوازیں کیوں گونجنے لگیں؟

پاکستانی سیاست میں ایک دلچسپ روایت ہمیشہ سے موجود رہی ہے۔ جب بھی کوئی سیاسی جماعت اقتدار میں آتی ہے تو اس کے چند رہنما ایسے ضرور ہوتے ہیں جو حکومت کا حصہ ہونے کے باوجود عوامی جذبات کی ترجمانی کرتے ہوئے اپنی ہی حکومت پر تنقید شروع کر دیتے ہیں۔ بظاہر یہ رویہ پارٹی نظم و ضبط کے خلاف نظر آتا ہے، لیکن درحقیقت اس کے پیچھے سیاسی حکمت عملی، ذاتی مقبولیت اور مستقبل کی سیاست کے کئی پہلو کارفرما ہوتے ہیں۔ مبصرین کے مطابق سیاسی اقتدار کی غلام گردشوں میں مصلحت، خاموشی اور پارٹی لائن کی پیروی کو بقا کا بنیادی اصول سمجھا جاتا ہے، لیکن پاکستان کی سیاسی تاریخ میں گاہے بگاہے ایسے واقعات رونما ہوتے رہتے ہیں جہاں برسرِاقتدار جماعت کے صفِ اول کے رہنما خود ہی اپنی حکومت کے لیے ’اندرونی اپوزیشن‘ کا روپ دھار لیتے ہیں۔
حالیہ دنوں میں مسلم لیگ (ن) کے سینئر رہنما خواجہ آصف کی جانب سے لیسکو میں مبینہ رشوت ستانی اور بدانتظامی کے خلاف سخت مؤقف نے ایک نئی بحث چھیڑ دی ہے۔ سوال یہ ہے کہ جب وفاق اور پنجاب دونوں جگہ انہی کی جماعت حکومت میں ہے تو پھر ایسے بیانات کا مقصد کیا ہے؟
اس کا جواب سیاست کی اس حقیقت میں پوشیدہ ہے کہ عوامی مقبولیت اکثر حکومتی ذمہ داریوں سے زیادہ طاقتور سیاسی سرمایہ ثابت ہوتی ہے۔ جب حکومتیں مہنگائی، بیروزگاری، بجلی کے بحران یا دیگر عوامی مسائل کی وجہ سے تنقید کی زد میں آتی ہیں تو بعض سیاستدان اپنی سیاسی شناخت کو حکومتی کارکردگی سے الگ کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔ وہ خود کو عوام کے نمائندے اور عوامی غصے کی آواز کے طور پر پیش کرتے ہیں تاکہ اگر حکومت کی مقبولیت متاثر ہو تو ان کی ذاتی مقبولیت برقرار رہے۔
مسلم لیگ (ن) میں یہ رجحان نیا نہیں۔ خواجہ سعد رفیق اور خواجہ آصف جیسے رہنما مختلف اوقات میں ایسے بیانات دیتے رہے ہیں جو پارٹی کی سرکاری پالیسی سے مختلف سمجھے گئے۔ ان بیانات نے بعض اوقات حکومت کیلئے مشکلات پیدا کیں، لیکن عوامی سطح پر ان رہنماؤں کی سیاسی اہمیت میں اضافہ بھی کیا۔
یہ روایت صرف مسلم لیگ (ن) تک محدود نہیں۔ پاکستان پیپلز پارٹی کے دور میں اعتزاز احسن، شاہ محمود قریشی اور رضا ربانی جیسے رہنماؤں نے بھی کئی مواقع پر پارٹی قیادت سے مختلف مؤقف اختیار کیا۔ خاص طور پر ریمنڈ ڈیوس کیس کے دوران شاہ محمود قریشی کا مؤقف عوامی جذبات کی مکمل ترجمانی کرتا تھا، جس سے ان کی سیاسی شناخت مزید مضبوط ہوئی۔
اسی طرح تحریک انصاف کے دورِ حکومت میں نور عالم خان اور علی محمد خان نے بھی کئی مرتبہ اپنی ہی حکومت کی پالیسیوں پر سوالات اٹھائے۔ مہنگائی، احتساب اور عوامی وعدوں کے حوالے سے ان کے بیانات نے حکومت کیلئے مشکلات پیدا کیں، لیکن عوام میں انہیں سراہا بھی گیا۔
سیاسی مبصرین کے مطابق اس طرزِ سیاست کے پیچھے ایک اور اہم عنصر سیاسی مستقبل کا خوف ہوتا ہے۔ جب کسی رہنما کو محسوس ہونے لگتا ہے کہ حکومت کی مقبولیت کم ہو رہی ہے، یا پارٹی کے اندر اس کی سیاسی حیثیت کمزور پڑ سکتی ہے، تو وہ عوامی جذبات کے ساتھ کھڑے ہو کر اپنی الگ شناخت بنانے کی کوشش کرتا ہے۔ یہ دراصل سیاسی بقا کی ایک حکمت عملی ہوتی ہے۔
پاپولسٹ سیاست کا بنیادی اصول یہی ہے کہ عوام جو محسوس کر رہے ہوں، سیاستدان وہی زبان بولے۔ اس سے فوری عوامی پذیرائی تو حاصل ہو جاتی ہے، لیکن اس کا ایک منفی پہلو بھی ہے۔ اگر حکمران جماعت کے اندر سے ہی مسلسل تنقید کی آوازیں اٹھنے لگیں تو عوام کے ذہن میں حکومت کی مجموعی کارکردگی پر مزید سوالات پیدا ہوتے ہیں اور اپوزیشن کو بھی سیاسی فائدہ ملتا ہے۔
دوسری طرف بعض اوقات یہی تنقیدی آوازیں حکومت کیلئے حفاظتی والو کا کردار ادا کرتی ہیں۔ عوام یہ محسوس کرتے ہیں کہ کم از کم حکمران جماعت کے اندر کچھ لوگ ایسے موجود ہیں جو مسائل کی نشاندہی کر رہے ہیں اور زمینی حقائق سے باخبر ہیں۔ اس طرح حکومت مکمل طور پر عوامی ناراضی کی زد میں آنے سے بچ جاتی ہے۔
پاکستانی سیاست کی تاریخ یہی بتاتی ہے کہ اقتدار کے ایوانوں میں اٹھنے والی باغیانہ آوازیں اکثر محض اختلافِ رائے نہیں ہوتیں بلکہ ان کے پیچھے سیاسی مستقبل، عوامی مقبولیت اور طاقت کے مراکز میں اپنی جگہ محفوظ رکھنے کی جدوجہد بھی شامل ہوتی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ ہر دور میں کچھ سیاستدان حکومت کا حصہ ہوتے ہوئے بھی عوام کے درمیان خود کو اپوزیشن کے نمائندے کے طور پر پیش کرتے نظر آتے ہیں۔
آنے والے دنوں میں معاشی مشکلات اور سیاسی غیر یقینی صورتحال کے باعث یہ رجحان مزید بڑھ سکتا ہے، کیونکہ جب عوامی دباؤ بڑھتا ہے تو سیاستدانوں کیلئے پارٹی سے زیادہ اپنی سیاسی بقا اہم ہو جاتی ہے۔
