ٹیکسز میں اضافہ، سولر پینلز کی قیمتیں مزید کتنی بڑنے والی ہیں؟

آئندہ بجٹ میں سولر پینلز پر عائد سیلز ٹیکس کی شرح موجودہ 10 فیصد سے بڑھا کر 18 فیصد کیے جانے کی تجویز زیر غور ہے، جس کے باعث سولر سسٹمز کی قیمتوں میں نمایاں اضافے کا خدشہ پیدا ہوگیا ہے۔

خیال رہے کہ پاکستان میں بجلی کی بڑھتی ہوئی قیمتوں، لوڈشیڈنگ اور توانائی بحران کے باعث گزشتہ چند برسوں کے دوران گھریلو اور کمرشل صارفین کی بڑی تعداد سولر توانائی کی طرف منتقل ہوئی ہے۔ تاہم ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر سولر مصنوعات پر اضافی ٹیکس عائد کیا گیا تو اس سے قابلِ تجدید توانائی کے فروغ کی رفتار متاثر ہو سکتی ہے۔

سولر مارکیٹ ایکسپرٹس کے مطابق کے مطابق مختلف حلقوں میں یہ اطلاعات گردش کر رہی ہیں کہ حکومت سولر پینلز پر ٹیکس کی شرح 10 فیصد سے بڑھا کر 18 فیصد کرنے پر غور کر رہی ہے، جس کا مطلب 8 فیصد اضافی ٹیکس ہوگا۔ان کا کہنا ہے کہ اگر یہ فیصلہ نافذ ہوا تو سولر پینلز اور مکمل سولر سسٹمز کی قیمتوں میں کم از کم 10 سے 12 فیصد تک اضافہ متوقع ہے، جس سے صارفین پر اضافی مالی بوجھ پڑے گا اور نئے خریداروں کی حوصلہ شکنی ہو سکتی ہے۔ ان کا مزید کہنا ہے کہ دنیا کے کئی ممالک، خصوصاً وہ ممالک جو موسمیاتی تبدیلیوں کے اثرات سے زیادہ متاثر ہیں، گرین انرجی منصوبوں اور سولر مصنوعات پر ٹیکس چھوٹ اور مراعات فراہم کرتے ہیں تاکہ صاف اور ماحول دوست توانائی کے استعمال کو فروغ دیا جا سکے۔

دوسری جانب انجینیئر محمد حمزہ رفیع کے مطابق اگر 18 فیصد ٹیکس نافذ کیا جاتا ہے تو سولر پلیٹس کی قیمت میں فی واٹ 8 سے 15 روپے تک اضافہ ہو سکتا ہے، جس کے نتیجے میں گھریلو اور کاروباری سطح پر سولر سسٹمز کی مجموعی لاگت میں نمایاں اضافہ ہوگا۔انہوں نے کہا کہ موجودہ حالات میں حکومت کی مختلف پالیسیوں کے باعث سولر سسٹمز کی تنصیب پہلے ہی صارفین کے لیے ایک بڑا مالی فیصلہ بن چکی ہے، جبکہ مزید ٹیکس اس شعبے کی ترقی کو سست کر سکتا ہے۔

پاکستان سولر ایسوسی ایشن کے سینیئر وائس چیئرمین حسنات خان نے بھی ممکنہ ٹیکس اضافے پر تشویش کا اظہار کیا ہے۔ ان کے مطابق انڈسٹری میں یہ اطلاعات زیر بحث ہیں کہ بین الاقوامی مالیاتی فنڈ (آئی ایم ایف) کی جانب سے سولر پینلز پر موجودہ 10 فیصد ٹیکس کو بڑھا کر 18 فیصد کرنے کے لیے دباؤ ڈالا جا رہا ہے۔حسنات خان کا کہنا ہے کہ اگر ٹیکس میں اضافہ کیا گیا تو اس کا براہِ راست اثر سولر سسٹمز کی قیمتوں پر پڑے گا، جس سے عوام کے لیے صاف اور متبادل توانائی کا حصول مزید مہنگا ہو جائے گا۔انہوں نے کہا کہ پاکستان جیسے ملک میں جہاں بجلی کے نرخ پہلے ہی بلند ہیں اور توانائی کا بحران برقرار ہے، وہاں سولر انرجی کو مزید مہنگا کرنا قابلِ تجدید توانائی کے فروغ کے لیے نقصان دہ ثابت ہو سکتا ہے۔ان کا مزید کہنا تھا کہ سولر انڈسٹری حکومت کے ساتھ مسلسل رابطے میں ہے اور کوشش کی جا رہی ہے کہ سولر شعبے کو اضافی ٹیکسوں سے محفوظ رکھا جائے یا کم از کم موجودہ ٹیکس شرح برقرار رکھی جائے تاکہ عوام سستی اور ماحول دوست توانائی سے استفادہ کر سکیں۔ماہرین کے مطابق اگر حکومت نے ٹیکس میں اضافے کا فیصلہ کیا تو اس کے اثرات نہ صرف سولر مارکیٹ بلکہ ملک میں قابلِ تجدید توانائی کے مستقبل پر بھی مرتب ہو سکتے ہیں۔

Back to top button