اسرائیل امریکہ کیلئے اضافی بوجھ کیوں بننے لگا؟

مشرقِ وسطیٰ ایک بار پھر عالمی سیاست کا مرکز بنا ہوا ہے، جہاں غزہ جنگ، ایران کے ساتھ کشیدگی، لبنان میں اسرائیلی کارروائیاں اور امریکی سفارتی کوششیں ایک دوسرے سے جڑی ہوئی نظر آتی ہیں۔ ایسے ماحول میں امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ اور اسرائیلی وزیرِاعظم بنیامین نیتن یاہو کے درمیان مبینہ تلخ کلامی نے ایک نئی بحث کو جنم دے دیا ہے۔ سوال یہ ہے کہ کیا واشنگٹن اور تل ابیب کے درمیان اختلافات محض وقتی نوعیت کے ہیں یا پھر یہ تعلقات ایک نئے دور میں داخل ہو رہے ہیں؟

خیال رہے کہ گزشتہ کئی دہائیوں سے اسرائیل کو امریکی خارجہ پالیسی کا اہم ستون تصور کیا جاتا رہا ہے، لیکن غزہ جنگ کے بعد عالمی رائے عامہ، امریکی داخلی سیاست اور مشرقِ وسطیٰ کی بدلتی صورتحال نے کئی نئے سوالات کھڑے کر دیے ہیں۔ ان میں سب سے اہم سوال یہ ہے کہ کیا اسرائیل اب امریکا کے لیے ایک تزویراتی اثاثے سے زیادہ سیاسی بوجھ بنتا جا رہا ہے؟اگرچہ امریکا اور اسرائیل کے تعلقات ہمیشہ مضبوط سمجھے جاتے رہے ہیں، لیکن حالیہ مہینوں میں دونوں ممالک کے درمیان بعض اہم معاملات پر اختلافات کھل کر سامنے آنے لگے ہیں۔ خصوصاً ایران کے ساتھ امریکی سفارتی رابطوں اور لبنان میں اسرائیلی فوجی کارروائیوں نے اس خلیج کو مزید نمایاں کیا ہے۔سیاسی مبصرین کے مطابق امریکی انتظامیہ خطے میں کشیدگی کم کرنے اور سفارتی راستہ اختیار کرنے کی خواہاں ہے، جبکہ نیتن یاہو حکومت ایران اور اس کے اتحادی گروہوں کے خلاف سخت عسکری حکمت عملی پر عمل پیرا دکھائی دیتی ہے۔ یہی اختلاف دونوں قیادتوں کے درمیان بڑھتی ہوئی بے چینی کی بنیادی وجہ قرار دیا جا رہا ہے۔

مبصرین کے مطابق امریکا اور ایران کے درمیان جاری سفارتی کوششوں کو واشنگٹن اپنی مشرقِ وسطیٰ پالیسی کا اہم حصہ سمجھتا ہے۔ تاہم اسرائیل ایران کو اپنے لیے سب سے بڑا خطرہ تصور کرتا ہے اور اس کے خلاف دباؤ بڑھانے کی پالیسی جاری رکھے ہوئے ہے۔لبنان میں اسرائیلی کارروائیوں نے بھی امریکی سفارتی حکمت عملی کو پیچیدہ بنا دیا ہے۔ متعدد عالمی مبصرین کے مطابق خطے میں کسی بھی نئی فوجی کشیدگی سے امریکا کی سفارتی کوششیں متاثر ہو سکتی ہیں، یہی وجہ ہے کہ واشنگٹن اسرائیل کے بعض اقدامات پر تحفظات رکھتا ہے۔

ناقدین کے مطابق غزہ جنگ کے بعد امریکا کے اندر اسرائیل کے حوالے سے عوامی رائے میں نمایاں تبدیلی دیکھی جا رہی ہے۔ ماضی میں اسرائیل کی حمایت تقریباً غیر متنازع سمجھی جاتی تھی، لیکن اب خاص طور پر نوجوان نسل میں اسرائیلی پالیسیوں پر تنقید میں اضافہ ہوا ہے۔کولمبیا یونیورسٹی، ہارورڈ یونیورسٹی اور یونیورسٹی آف کیلیفورنیا لاس اینجلس سمیت کئی بڑی جامعات میں فلسطینیوں کے حق میں ہونے والے مظاہروں نے اس تبدیلی کو نمایاں کر دیا۔ ہزاروں طلبہ نے امریکی فوجی امداد اور اسرائیلی پالیسیوں پر سوالات اٹھائے، جس کے نتیجے میں فلسطین کا مسئلہ پہلی مرتبہ امریکی داخلی سیاست کے مرکزی مباحث میں شامل ہو گیا۔سیاسی تجزیہ کاروں کے مطابق نوجوان امریکی ووٹرز اسرائیلی پالیسیوں کے بارے میں پہلے کے مقابلے میں زیادہ تنقیدی رویہ رکھتے ہیں، جبکہ بڑی عمر کے ووٹرز اب بھی عمومی طور پر اسرائیل کے حامی سمجھے جاتے ہیں۔

یہ سوال بھی اہم ہے کہ کیا امریکا میں بڑھتی ہوئی تنقید اسرائیل کے خلاف ہے یا صرف نیتن یاہو حکومت کی پالیسیوں کے خلاف؟اکثر ماہرین کا خیال ہے کہ امریکا میں اسرائیل کی سلامتی اور وجود کی حمایت اب بھی مضبوط ہے، لیکن غزہ، لبنان اور ایران کے معاملات پر نیتن یاہو حکومت کے فیصلوں نے واشنگٹن کے لیے سیاسی اور سفارتی مشکلات میں اضافہ کیا ہے۔اسی لیے امریکی سیاسی حلقوں میں اسرائیل کے وجود پر نہیں بلکہ موجودہ اسرائیلی قیادت کی حکمت عملی پر زیادہ تنقید کی جا رہی ہے۔

کیا اسرائیل امریکا کے لیے بوجھ بنتا جا رہا ہے؟یہ وہ سوال ہے جو اب امریکی خارجہ پالیسی کے حلقوں میں سنجیدگی سے زیر بحث ہے۔ کئی دہائیوں تک اسرائیل کو امریکا کا سب سے قابلِ اعتماد اتحادی سمجھا جاتا رہا، لیکن موجودہ حالات میں بعض حلقے یہ استدلال پیش کر رہے ہیں کہ اسرائیلی پالیسیوں کے باعث امریکا کو عالمی سطح پر سفارتی دباؤ اور سیاسی تنقید کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔دوسری جانب ایسے ماہرین بھی موجود ہیں جو اس تاثر سے اتفاق نہیں کرتے۔ ان کے مطابق اسرائیل اب بھی مشرقِ وسطیٰ میں امریکا کا اہم تزویراتی شراکت دار ہے اور دونوں ممالک کے درمیان دفاعی تعاون، انٹیلی جنس اشتراک اور مشترکہ مفادات اتنے گہرے ہیں کہ تعلقات میں بنیادی تبدیلی کا امکان کم ہے۔

سیاسی مبصرین کے مطابق امریکا اور اسرائیل کے تعلقات فوری طور پر کسی بڑے بحران کا شکار نہیں ہوں گے، تاہم ان کی نوعیت میں تبدیلی ضرور آ سکتی ہے۔ ماضی میں اسرائیل کو حاصل غیر مشروط حمایت اب زیادہ مشروط اور محتاط انداز اختیار کر سکتی ہے۔اگر غزہ، لبنان اور ایران کے حوالے سے اختلافات برقرار رہے تو واشنگٹن اور تل ابیب کے درمیان پالیسی سطح پر فاصلے مزید بڑھ سکتے ہیں، لیکن اس کے باوجود دونوں ممالک کے اسٹریٹجک تعلقات مکمل طور پر ختم ہوتے دکھائی نہیں دیتے۔

ڈونلڈ ٹرمپ اور بنیامین نیتن یاہو کے درمیان مبینہ تلخ کلامی محض دو رہنماؤں کے درمیان اختلاف نہیں بلکہ مشرقِ وسطیٰ کے مستقبل کے حوالے سے دو مختلف حکمت عملیوں کی عکاس دکھائی دیتی ہے۔ ایک طرف امریکا سفارت کاری اور کشیدگی میں کمی کا راستہ تلاش کر رہا ہے، جبکہ دوسری طرف اسرائیلی قیادت عسکری دباؤ کو اپنی سلامتی کی ضمانت سمجھتی ہے۔اسی کشمکش نے ایک نئے سوال کو جنم دیا ہے: کیا اسرائیل اب بھی امریکا کے لیے ایک ناگزیر اتحادی ہے یا پھر اس کی بعض پالیسیاں واشنگٹن کے لیے سیاسی اور سفارتی بوجھ بنتی جا رہی ہیں؟ آنے والے برسوں میں یہی سوال امریکا اور اسرائیل کے تعلقات کی سمت کا تعین کرے گا۔

Back to top button