کیا صرف فوج آپریشنز سے بلوچستان سے دہشتگردی کا خاتمہ ممکن ہے؟

بلوچستان میں دہشت گردی کی نئی لہر نے ایک بار پھر امن و امان، ریاستی رٹ اور سیاسی قیادت کے کردار پر اہم سوالات کھڑے کر دیے ہیں۔ سکیورٹی فورسز کے بعد اب عدلیہ، سرکاری افسران اور دیگر سویلین شخصیات کو نشانہ بنانے کے واقعات اس بات کی نشاندہی کرتے ہیں کہ دہشت گرد اپنی حکمت عملی تبدیل کر چکے ہیں۔ سیاسی مبصرین کا کہنا ہے کہ دہشتگردوں کو انجام تک پہنچانے کیلئے صرف فوجی کارروائیاں ہی کافی نہیں، بلکہ دہشت گردی کے مستقل خاتمے کے لیے قومی اتفاقِ رائے، بلوچستان کی سیاسی قیادت کا فعال کردار اور عوامی حمایت بھی ناگزیر ہو چکی ہے۔

مبصرین کے بقول بلوچستان میں دہشت گردی کے حالیہ واقعات نے ایک مرتبہ پھر اس حقیقت کو اجاگر کر دیا ہے کہ ملک کو درپیش سکیورٹی چیلنج صرف عسکری نوعیت کے نہیں بلکہ ان کے سیاسی، سماجی اور معاشی پہلو بھی موجود ہیں۔ سکیورٹی فورسز کے خلاف کارروائیوں کے بعد اب دہشت گردوں کی جانب سے سویلین شخصیات، خصوصاً عدلیہ اور اہم سرکاری عہدیداروں کو نشانہ بنایا جا رہا ہے، جسے ماہرین دہشت گردوں کی نئی حکمت عملی قرار دے رہے ہیں۔ سیشن جج عبدالحکیم کاکڑ اور ان کے محافظ پر حملہ اسی سلسلے کی ایک کڑی سمجھا جا رہا ہے۔ تجزیہ کاروں کے مطابق اس قسم کے حملوں کا مقصد صرف جانی نقصان پہنچانا نہیں بلکہ ریاستی اداروں، خصوصاً عدالتی نظام، میں خوف و ہراس پیدا کرنا اور دہشت گردی کے خلاف کارروائیوں کے عزم کو متاثر کرنا بھی ہے۔ بلوچستان بار کونسل نے بھی اس واقعے کو انصاف کے نظام پر حملہ قرار دیا ہے۔

سیاسی و سکیورٹی حلقوں کا مؤقف ہے کہ بلوچستان کی جغرافیائی اور معاشی اہمیت اسے دشمن عناصر کے لیے خصوصی ہدف بناتی ہے۔ گوادر بندرگاہ، چین پاکستان اقتصادی راہداری (سی پیک) اور صوبے میں موجود معدنی وسائل مستقبل میں پاکستان کی اقتصادی ترقی کے اہم ستون سمجھے جاتے ہیں، یہی وجہ ہے کہ ملک دشمن عناصر ان منصوبوں کو غیر مستحکم کرنے کی کوشش کرتے ہیں تاکہ ترقی کا عمل متاثر ہو اور عوام میں مایوسی پیدا ہو۔

تجزیہ کاروں کے مطابق دہشت گرد تنظیمیں بلوچستان میں عوام اور ریاست کے درمیان فاصلے پیدا کرنے کی کوشش کر رہی ہیں۔ ان کا مقصد خوف کی فضا قائم کرنا، ترقیاتی منصوبوں کو نقصان پہنچانا اور صوبے میں سیاسی عدم استحکام کو فروغ دینا ہے۔ ایسے حالات میں صرف سکیورٹی اقدامات ہی کافی نہیں بلکہ مقامی سیاسی قیادت کا مؤثر کردار بھی ناگزیر قرار دیا جا رہا ہے۔

اسی تناظر میں یہ مؤقف بھی سامنے آ رہا ہے کہ بلوچستان کی سیاسی قیادت کو دہشت گردی کے خلاف واضح اور متفقہ مؤقف اختیار کرنا ہوگا۔ سیاسی رہنماؤں کو عوام کے ساتھ رابطہ مضبوط بناتے ہوئے دہشت گردی کے خلاف قومی بیانیے کو تقویت دینا ہوگی تاکہ ریاستی اداروں اور عوام کے درمیان اعتماد مزید مضبوط ہو سکے۔ ماہرین کے مطابق جب سیاسی قیادت، عوام اور ریاستی ادارے ایک صفحے پر ہوں تو دہشت گردی کے خلاف کارروائیاں زیادہ مؤثر ثابت ہوتی ہیں۔

یہ بھی کہا جا رہا ہے کہ وفاق اور صوبائی حکومتوں کے درمیان بہتر رابطہ، مؤثر گورننس، انصاف کی بروقت فراہمی، ترقیاتی منصوبوں کی تکمیل اور عوامی مسائل کے حل پر توجہ دہشت گرد عناصر کے بیانیے کو کمزور کرنے میں اہم کردار ادا کر سکتی ہے۔ بلوچستان میں پائیدار امن کے لیے سیاسی شمولیت، معاشی ترقی اور عوامی اعتماد کو ایک ساتھ آگے بڑھانا ضروری سمجھا جا رہا ہے۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ دہشت گردی کے خلاف کامیابی صرف عسکری میدان میں نہیں بلکہ سیاسی میدان میں بھی حاصل کرنا ہوگی۔ قومی اتحاد، سیاسی اتفاقِ رائے، مضبوط ریاستی ادارے اور عوام کی بھرپور حمایت ہی وہ عوامل ہیں جو بلوچستان سمیت پورے ملک میں امن و استحکام کے قیام کی بنیاد بن سکتے ہیں۔

Back to top button