سیاسی جماعتیں ملکی نظام میں اسٹیبلشمنٹ کے کردار کو کیسے بڑھانے لگیں؟

پاکستان اس وقت داخلی، معاشی اور علاقائی چیلنجز کے ایسے دور سے گزر رہا ہے جہاں قومی سلامتی، دہشت گردی، سیاسی عدم استحکام اور اقتصادی مشکلات ایک ساتھ ریاست کے لیے امتحان بن چکی ہیں۔ ایسے حالات میں مضبوط سیاسی قیادت، فعال پارلیمنٹ اور مؤثر اپوزیشن کسی بھی جمہوری نظام کی بنیادی ضرورت سمجھی جاتی ہے، مگر موجودہ سیاسی منظرنامہ اس کے برعکس دکھائی دیتا ہے۔ سیاسی محاذ آرائی، اعتماد کے فقدان اور کمزور پارلیمانی کردار نے ایک ایسا سیاسی خلا پیدا کر دیا ہے جس پر اب سنجیدہ سوالات اٹھائے جا رہے ہیں کہ اگر سیاست اپنی ذمہ داریاں ادا نہ کرے تو اس خلا کو آخر کون پُر کرے گا؟
مبصرین کے مطابق پاکستان اس وقت ایک ایسے نازک مرحلے سے گزر رہا ہے جہاں داخلی اور خارجی چیلنجز بیک وقت ریاستی نظام پر دباؤ ڈال رہے ہیں۔ معیشت ابھی مکمل طور پر بحال نہیں ہو سکی، بلوچستان اور خیبر پختونخوا میں امن و امان کے مسائل بدستور موجود ہیں، آزاد کشمیر میں وقفے وقفے سے سیاسی کشیدگی سامنے آتی رہتی ہے، جبکہ خطے میں ایران اور امریکہ کے درمیان بڑھتی ہوئی کشیدگی نے بھی غیر یقینی صورتحال کو مزید گہرا کر دیا ہے۔ ایسے حالات میں ریاست کو ایسی سیاسی قیادت درکار ہوتی ہے جو اتفاقِ رائے، بصیرت اور مؤثر فیصلہ سازی کے ذریعے قومی مفاد کو ترجیح دے، تاہم موجودہ سیاسی ماحول میں یہی سب سے بڑا سوال بن چکا ہے۔ ماہرین کا مانناہے کہ جمہوری نظام کی مضبوطی صرف انتخابات کے انعقاد سے نہیں بلکہ فعال حکومت، مضبوط اپوزیشن، مؤثر پارلیمنٹ اور عوام کے سامنے جواب دہ سیاسی قیادت سے وابستہ ہوتی ہے۔ جب ان ستونوں میں سے کوئی ایک کمزور پڑ جائے تو پورا جمہوری ڈھانچہ عدم توازن کا شکار ہونے لگتا ہے۔ پاکستان میں بھی اسی نوعیت کی صورتحال دیکھنے میں آ رہی ہے، جہاں ایک جانب مسلم لیگ (ن) وفاق میں حکومت چلا رہی ہے اور پیپلز پارٹی اس کی اتحادی ہے، جبکہ دوسری جانب تحریک انصاف اپنی قیادت کو درپیش قانونی اور سیاسی مشکلات کے باعث روایتی اپوزیشن کا کردار مؤثر انداز میں ادا کرتی دکھائی نہیں دیتی۔
سیاسی مبصرین کے مطابق اس صورتحال نے ملکی سیاست میں ایک ایسا خلا پیدا کر دیا ہے جس کے باعث پارلیمانی سیاست کا وزن کم ہوتا محسوس ہو رہا ہے۔ جب قومی مسائل کے حل کے لیے نظریں پارلیمنٹ کے بجائے دیگر فورمز کی طرف اٹھنے لگیں، سیاسی جماعتیں اپنے اختلافات خود حل کرنے کے بجائے ثالث یا سہولت کار کی تلاش میں رہیں اور ہر سیاسی بحران کا انجام غیر سیاسی ذرائع سے جوڑا جانے لگے تو یہ اس امر کی نشاندہی کرتا ہے کہ سیاسی عمل اپنی مکمل فعالیت کے ساتھ آگے نہیں بڑھ رہا۔
یہ بھی حقیقت ہے کہ دہشت گردی، سرحدی کشیدگی اور قومی سلامتی جیسے غیر معمولی حالات میں ریاستی اداروں، خصوصاً سکیورٹی اداروں، کا کردار قدرتی طور پر زیادہ نمایاں ہو جاتا ہے۔ تاہم اگر حکومت، اپوزیشن اور پارلیمنٹ قومی معاملات پر کم از کم بنیادی اتفاقِ رائے پیدا کرنے میں کامیاب ہو جائیں تو ریاستی نظام زیادہ متوازن اور مستحکم رہتا ہے۔ اس کے برعکس مسلسل سیاسی محاذ آرائی اور باہمی عدم اعتماد نہ صرف سیاسی نظام کو کمزور کرتے ہیں بلکہ ریاست کے دیگر اداروں کے کردار کو بھی نسبتاً زیادہ نمایاں بنا دیتے ہیں۔
موجودہ صورتحال میں پاکستان کو صرف سیاسی بحران ہی نہیں بلکہ اعتماد کے بحران کا بھی سامنا ہے۔ حکومت اور اپوزیشن ایک دوسرے پر اعتماد کرنے کو تیار نہیں، مختلف اداروں کے بارے میں شکوک و شبہات برقرار ہیں اور عوام کی ایک بڑی تعداد بھی سیاسی نظام سے مایوسی کا اظہار کرتی دکھائی دیتی ہے۔ ایسی فضا میں وقتی فیصلے شاید بعض مسائل کو وقتی طور پر دبا دیں، مگر پائیدار سیاسی استحکام پیدا نہیں کر سکتے۔
اسی تناظر میں متعدد حلقے اس بات پر زور دے رہے ہیں کہ پاکستان کو نئے سیاسی تجربات کے بجائے ایک وسیع سیاسی مفاہمت اور قومی اتفاقِ رائے کی ضرورت ہے۔ ایسا سیاسی معاہدہ جس میں تمام جماعتیں اس اصول پر متفق ہوں کہ اقتدار کا واحد راستہ آئین، انتخابات اور پارلیمنٹ سے ہو کر گزرتا ہے، جبکہ اختلافات کا حل بھی انہی آئینی اور جمہوری اداروں کے اندر تلاش کیا جائے۔ قومی سلامتی اور خارجہ پالیسی جیسے بنیادی معاملات پر بھی کم از کم مشترکہ مؤقف اپنانا وقت کی اہم ضرورت قرار دیا جا رہا ہے۔
سیاسی تجزیہ کاروں کے مطابق مضبوط سیاست صرف حکومت بنانے یا اقتدار حاصل کرنے کا نام نہیں بلکہ مضبوط پارلیمنٹ، مستحکم سیاسی روایات، جمہوری برداشت اور آئینی اداروں پر اعتماد سے وجود میں آتی ہے۔ اگر ہر بحران میں سیاسی قوتیں کسی تیسرے فریق کی طرف دیکھنے لگیں تو رفتہ رفتہ سیاست اپنی افادیت خود کم کر دیتی ہے، اور تاریخ گواہ ہے کہ سیاست جہاں کمزور پڑتی ہے وہاں پیدا ہونے والا خلا زیادہ دیر تک خالی نہیں رہتا۔
پاکستان کو اس وقت محاذ آرائی یا سیاسی بے عملی کے بجائے ایسی بالغ نظر قیادت کی ضرورت ہے جو اختلافات کے باوجود قومی مفاد کو مقدم رکھے، پارلیمنٹ کو فیصلہ سازی کا حقیقی مرکز بنائے، عوام کا اعتماد بحال کرے اور یہ ثابت کرے کہ ملک کے سیاسی مسائل کا مستقل حل صرف مضبوط جمہوری سیاست اور آئینی عمل کے ذریعے ہی ممکن ہے۔ کیونکہ ریاست کی مضبوطی اس کے اداروں سے وابستہ ہوتی ہے، مگر جمہوریت کی اصل طاقت ہمیشہ مضبوط اور فعال سیاست میں ہی پوشیدہ ہوتی ہے۔
